برغوثی عارضی حراست کے بعد رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما مصطفےٰ برغوثی کو اسرائیلی پولیس نے انتخابی مہم کے دوران عارضی طور پر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ اتوار کو ہونے والے فلسطینی صدارتی انتخابات کے لیے جاری انتخابی مہم جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔ برغوثی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مسجدِ العقصیٰ میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اتوار کے ان انتخابات میں محمود عباس المعروف ابو مازن فاتح ہوں گے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران غربِ اردن کے اس متنازعہ حصے کا دورہ کیا جہاں اسرائیل حفاظتی باڑ تعمیر کر رہا ہے۔ محمود عباس کے اہم مدِ مقابل مصطفےٰ برغوثی ہیں جو انتخابی مہم کے آخری دن یروشلم میں حراست میں لے لیے گئے ہیں۔ یہ حصہ فی الحال اسرائیل کے قبضے میں ہے لیکن فلسطینی چاہتے ہیں کہ یروشلم مستقبل کی فلسطینی حکومت کا دارالحکومت ہو۔ یہ انتخابات گزشتہ ماہ نومبر میں یاسر عرفات کی وفات کے بعد ہو رہے ہیں۔ محمود عباس فلسطینیوں کے اہم سیاسی دھڑے الفتح گروپ کے رہنما ہیں اور یاسر عرفات کی وفات کے بعد سے انہیں فلسطینیوں کا نیا رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔ محمود عباس اور مصطفے برغوثی دونوں کو معتدل رہنما تصور کیا جاتا ہے اور دونوں ہی نے گزشتہ چار سال سے جاری فلسطینی انتفاضہ کے مختلف پہلوؤں پر تنقید کی ہے۔ اس ہفتے کے اوائل میں محمود عباس نے غزہ میں اسرائیلی ٹینک کے ذریعے حملے پر سخت الفاظ میں تنقید کی تھی اور اسرائیل کو صیہونی دشمن قرار دیا تھا۔ تاہم جمعرات کو نابلس میں بڑے ہجوم سے خطاب کے دوران ان کا رویہ نسبتاً زیادہ معتدل تھا۔ انہوں نے فلسطینیوں کے اہم مطالبات کو دہرایا اور ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فلسطینی کابینہ کی تشکیل کے بعد وہ اسرائیل سے مذاکرات کریں گے جسے انہوں نے امن کا شریک قرار دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||