BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 August, 2004, 17:37 GMT 22:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدم تشدد سے مسئلہ فلسطین کا حل ممکن ہے‘
News image
’اسرائیل ایسا ماحول نہیں بننے دیتا جس میں تصفیے کا پر امن حل ممکن ہو۔‘
مہاتما گاندھی کے پوتے ارون گاندھی نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل اپنے علاقے کے بارڈر کو انیس سو سڑسٹھ کے وقت کی حدود تک لے جائے تو فلسطین کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے اور فلسطینی اور یہودی دونوں مل کر رہ سکتے ہیں۔

ارون گاندھی آج کل فلسطین میں ہیں جہاں وہ اہنسہ یا عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر کوشش کی جائے تو مسئلہ فلسطین پرامن طریقے سے حل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پورے علاقے کو اپنے قبضے میں لینا چاہتا ہے لیکن ایسے راستے موجود ہیں کہ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں مل کر رہ سکیں۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایسا ماحول نہیں بننے دیتا جس میں تصفیے کا پرامن حل ممکن ہو اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے ردعمل میں تشدد کرتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پچاس سال سے فلسطین میں تشدد ہورہا ہے اور یہ کوشش کرنے کے بعد ہی پتہ لگ سکتا ہے کہ یہ مسئلہ پر امن طریقےسے حل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اب پرتشدد طریقوں سے تنگ آچکے ہیں اور ان کو یہاں مدعو کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں ہی طرف کے لوگ امن چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین میں جو لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ معاملات پر امن ذریعے سے حل ہوسکتے ہیں وہ انہیں سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ ہتھیار نہ ہونے کی وجہ سے فلسطینی صرف خود کش حملے کر کے جدوجہد نہیں کرسکتے اور انہیں پر امن طریقے اپنانے چاہیئں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد