الفتح کے امیدوار، محمود عباس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینیوں کے اہم سیاسی دھڑے الفتح نے آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے یاسر عرفات کی جگہ محمود عباس کو جنہیں ابو ماذن بھی کہتے ہیں اپنا امیدوار بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ سماجی امور کی وزیر انتصار الوزیر کے مطابق ’ہم نے فلسطینی اتھارٹی کے صدارتی انتخابات کے لیے ابو ماذن کو اپنا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘ محمود عباس کی نامزدگی کا مسئلہ اب الفتح کی کونسل کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ محمود عباس اوسلو معاہدے میں یاسر عرفات کے شانہ بشانہ تھے اور انہوں نے کئی مرتبہ اسرائیلی قیادت سے مذاکرات بھی کیے ہیں۔ محمود عباس کو معتدل فلسطینی رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ گیارہ نومبر کو یاسر عرفات کے انتقال کے بعد، ابو ماذن کو جن کی عمر انہتر برس ہے، پی ایل او کا چیئرمین بنا دیا گیا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو الفتح کی انقلابی کونسل ابو ماذن کی نامزگی کی منظوری دے دے گی کیونکہ الفتح کی مرکزی کمیٹی نے متفقہ طور پر محمود عباس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ بی بی سی کے سائمن ولسن کہتے ہیں کہ اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ محمود عباس ہی کو یاسر عرفات کے انتقال کے بعد ان کا جانشین مقرر کیا جائے گا۔ مبصرین کہتے ہیں کہ اگر فلسطینیوں کی قیادت ابو ماذن کے ہاتھ آ گئی تو غالباً وہ فلسطینیوں کو موجود صورتِ حال سے نکالنے کے لیے کچھ کر سکیں۔ ابو ماذن تشدد کی پالیسی پر تنقید کرتے ہیں جو گزشتہ چار برس سے جاری فلسطینی انتفاضہ میں مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے اسلامی شدت پسندوں پر زور بھی دیا تھا کہ وہ اس پالیسی کے خاتمے کی کوشش کریں۔ تاہم محمود عباس، یاسر عرفات جیسی کشش نہیں رکھتے اور نہ ان میں وہ جنگجویانہ خواص ہیں جن کے لیے یاسر عرفات مشہور تھے۔ شاید اسی لیے فلسطینیوں کے کئی مسلح گروپوں نے ان کی مخالف پر کمر باندھ رکھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||