BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 November, 2004, 17:20 GMT 22:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارتی کوششوں میں پھر تیزی

News image
نوری کے انتخابات کے بعد فلسطین میں کس طرح کی حکومت آئے گی؟
مشرق وسطیٰ میں حالیہ ہفتوں میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کے علاوہ برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا بھی فلسطینی اور اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود یہ خیال کرنا کہ مشرق وسطی میں امن کے لیے جلد ہی کوئی معاہدہ ہونے کی امید ہے، قبل از وقت ہوگا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حالیہ دنوں میں چند ایسے اتفاقات اکٹھے ہوگئے ہیں جن کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی بات چیت کی راہ غیر معمولی طور پر ہموار ہو گئی ہے۔

فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی وفات سے فلسطینی ایک نئی قیادت چننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے یک طرفہ طور پر غزہ سے انخلا کے فیصلے کے بعد کم از کم کچھ فلسطینی علاقے ان کو واپس مل جائیں گے اور لگتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے صدر بش کو دوبارہ منتخب ہونےکے بعد اس پر راضی کر لیا ہے کہ مشرق وسطی میں امن کے لیے سفارتی کوششیں کی جائیں۔

لیکن پھر بھی اکثر سوالات کے جواب کا انتظار ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ اگلے سال کے آغاز میں فلسطینی صدارتی انتخابات میں کس قسم کی نئی قیادت سامنے آتی ہے اور اس پر یاسر عرفات کی پالیسیوں کا کتنا اثر باقی رہے گا۔

اور کیا نئے فلسطینی صدر وہ مشکل فیصلے کر پائیں گے جو کسی بھی امن معاہدے کے لیے ضروری ہوتے ہیں یا ان کو حماس اور اس سے بھی زیادہ سخت موقف رکھنے والے فلسطینی گروہوں کا ڈر رہے گا۔

اور کیا ایریئل شیرون اپنے انخلا کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا پائیں گے اور کیا ان کی یہ کوشش کسی طرح ایک بڑے امن منصوبے کا حصہ بن پائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اور برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا اس ہفتے جب مشرق وسطی کا دورہ کریں گے تو یہ تمام سوالات ان کے ذہن میں بھی ہونگے۔

ان کے ایجنڈے پر سب سے پہلی چیز ہوگی فلسطینی انتخابات کا انعقاد۔ یہاں اسرائیل کا کردار بہت اہم ہوگا۔ فلسطینی رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ انتخابات کے لیے سڑکوں پر چوکیاں ہٹائی جائیں اور دیگر پابندیاں اٹھائی جائیں۔

ابھی تک اسرائیل کی طرف سے مثبت اشارے ملے ہیں۔ اور اس ہفتے شاید اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہوگی۔

لیکن مسلحہ گروہوں کا کیا ہوگا؟
صدر بش چاہتے ہیں کہ فلسطینی باقاعدہ ادارے بنائیں اور مسلحہ گروہوں پر قابو پائیں۔ یہ ایسا کام ہے جسے نہ صرف وقت درکار ہے بلکہ جو اندرونی تضادات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ایک خوف یہ بھی ہے کہ ان فلسطینی انتخابات میں صرف ایک عبوری قیادت سامنے آئے گی جو امریکہ کا یہ مطالبہ پورا نہیں کر پائے گی۔ بہرحال ، فی الوقت تو سفارت کاروں نے مشرق وسطی کے امن منصوبے یا روڈ میپ کی اپنی پرانی کاپیوں پر سے گردوغبار جھاڑ لیا ہے اور ایک دفعہ پھر کمر کس کے میدان میں اترنے کو تیار ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد