عرفات کے بعد: سوال و جواب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یاسر عرفات کے بیمار ہونے کے بعد ان کے جانشین اور آئندہ حالات کے بارے میں بحث ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کے بارے اٹھائے جانے والے سوالات اور ان کے جواب۔ کیا یاسر عرفات اب بھی اہم ہیں؟ ان کی فلسطینی اتھارٹی کو زیادہ تر فلسطینی بدعنوان اور نااہل سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اب بھی مقبول ترین سیاستدان ہیں اور فلسطینی تحریک کے رہبر ہیں۔ وہ واحد رہنما ہیں جو فلسطینی کے نام پر کوئی سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔ کیا ان کے جانشین کا تعین ہو چکا ہے؟ فلسطینی اتھارٹی کے قانون کے تحت فلسطین کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر نئے صدر کے انتخاب تک ساٹھ دن کے لیے صدارت سنبھال لیں گے۔ جانشینی کی امیدوار کون کون ہیں؟ ان کے ممکنہ جانشینوں میں پی ایل او کے جنرل سیکرٹری محمود عباس، مقامی رہنما اور سلامتی کے امور کے سابق سربراہ محمد داہلان اور انتفادہ کے سربراہ مروان برغوتی شامل ہیں جو اسرائیل میں قید ہیں۔ اقتدار کے لیے کھینچا تانی کا کیا امکان ہے؟ ایسی صورتحال میں یاسر عرفات کی موت کا حماس جیسی تنظیموں کو فائدہ ہوگا کیونکہ حماس منظم اور متحد تنظیم ہے۔ حماس اور اسلامی جہاد نے یاسر عرفات کو کبھی نشانہ نہیں بنایا لیکن ضروری نہیں کہ نئی قیادت کے ساتھ بھی ان کا یہی رویہ ہو۔ اسرائیل کا رد عمل کیا ہوگا؟ بہت سے لوگ یاسر عرفات کی موت سے خوش ہوں گے۔ کئی ایک نے تو ان کی ملک بدری اور ہلاکت کی صلاح بھی ہو سکتا ہے دی ہو۔ لیکن مقبوضہ علاقوں میں غیر یقینی ماحول فلسطینیوں کے رویہ کو مزید سخت کر دے گا جو اسرائیل کے لیے اچھا نہیں۔ یاسر عرفات کی عدم موجودگی میںغزہ کے کچھ علاقے خالی کرنے کے لیے ایریئل شیرون کے منصوبے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی میں قیادت کے خلا سے غزہ کی پٹی پر حماس کا کنٹرول ہو جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||