غزہ سے اسرائیلی واپسی، مصری منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصری فوجی چیخا اور ہماری جانب دوڑنے لگا، ہاتھ میں بندوق لیے ہوئے۔ اس کے پیچھے غزہ کی سرحد پر واقع پیلی دیوار تھی جس پر بنی ایک اسرائیلی نگراں چوکی کچھ ایسے دکھائی دے رہی تھی جیسے کسی آبدوز کے اوپر سے نکلتا ہوا منارہ۔ مصر کی وزارت اطلاعات کی جانب سے میرے لیے مقرر کیے جانیوالے نگراں کو اس فوجی یہ سمجھانے میں کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کی سب سے حساس سرحد کو فلمانے کی اجازت ہے، کئی منٹ لگے۔ مصر کا رفاہ ایک چھوٹا شہر ہے جہاں صرف چودہ ہزار باشندے آباد ہیں جبکہ سرحد کی دوسری جانب اسی نام کا فلسطینی شہر کچھ بڑا ہے جہاں ایک لاکھ بیس ہزار لوگ رہتے ہیں۔ اسرائیلی حکام بار بار کہتے ہیں کہ فلسطینی شدت پسندوں نے یہاں سرحد کے نیچے ایک سرنگ بنائی ہوئی ہے جس کے ذریعے وہ مصر سے اسلحہ اور بارود لاتے ہیں۔ ان الزامات پر مقامی مصری حکام اپنا سر ہلاتے ہیں۔ ایک مصری اہلکار نے کہا: ’یہاں کوئی سرنگ نہیں ہے، فلسطینی اپنے ہتھیار اسرائیلی فوجیوں سے ہی خریدتے ہیں۔‘ لیکن میں اس سرحد پر ان الزامات کے حقائق جاننے کے لیے نہیں آیا۔ میں مصریوں کے لیے صرف غزہ کی اہمیت کو سمجھنا چاہتا ہوں۔ اپنی لیکود پارٹی اور سخت گیر یہودی گروہوں کی شدید مخالفت کے باوجود لگتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون غزہ کی پٹی میں اکیس اسرائیلی بستیوں کو خالی کرنے اور اسرائیلی افواج کی واپسی کے اپنے منصوبے پر بضد ہیں۔ اسرائیلی فوج کی واپسی کے اس منصوبے نے فلسطینیوں میں شدید اختلافات پیدا کردیے ہیں کیونکہ مختلف فلسطینی دھڑے مقامی سیاست اور انتظامیہ پر اپنا اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتے ہیں۔
مصری حکومت غزہ سے اسرائیلی واپسی پر وہاں ممکنہ سیاسی خلاء کے بارے میں اور امریکہ اور یورپ کی اس تنقید پر فکرمند ہے کہ وہ کچھ نہیں کررہی ہے۔ مصر بالآخر شیرون کے منصوبے کا خیرمقدم کرچکا ہے اور اس سلسلے میں اس نے ایک الگ منصوبہ بھی پیش کیا ہے: ٭ فلسطینی سکیورٹی فورسز کو، جو اسرائیلی دراندازیوں اور حملوں کی وجہ سے بےاثر ہوچکی ہیں، مصر میں تربیت دی جائے گی۔ ٭ لگ بھگ دو سو مصری سکیورٹی مشیر اور انٹیلیجنس کے حکام غزہ بھیجے جائیں گے تاکہ فلسطینیوں کی رہنمائی کرسکیں۔ مصری حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ان کے کوئی عزائم نہیں ہیں۔ انیس سو انچاس سے انیس سو سڑسٹھ تک غزہ کی پٹی پر مصر کا انتظامی کنٹرول تھا۔ مصری سفارت کار حسن عیسیٰ کہتے ہیں: ’ہم صرف فلسطینیوں کے حق میں ہیں۔ ہمارا مقصد ہے غزہ میں امن و امان کا قیام۔‘ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ غزہ سے اسرائیلی واپسی پر پیدا ہونے والے موقعہ کو مشرقِ وسطی میں قیام امن کے عمل کے ایک نئے آغاز کے لیے استعمال کیا جائے۔ لیکن مصریوں کو ایریئل شیرون کے ساتھ بات چیت کا تجربہ بھی ہے۔ اور وہ جانتے ہیں کہ اسرائیلی حقیقت میں ان سے شدت پسند فلسطینی گروہ جیسے حماس اور اسلامی جہاد کو غیرمسلح کروانا چاہتے ہیں۔ مصری سفارت کار حسن عیسیٰ کہتے ہیں کہ مصر نہیں چاہتا کہ وہ فلسطینی سیکیورٹی کے معاملے میں کردار ادا کرتا رہے کیونکہ اسی صورت میں عرب دنیا میں سمجھا جائے گا کہ مصر اسرائیلیوں کا کام کررہا ہے۔ اسرائیلیوں کے لیے ان کا پیغام یہ ہے کہ اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد جب مصری غزہ کی پٹی میں قدم رکھیں تو اسرائیلی فوج وہاں دراندازی نہ کرے اور نہ کوئی حملہ کرے۔ اس وقت ایسا لگتا کہ اسرائیل مصریوں کی بات مان لے گا لیکن اس پر وہ عمل کرے گا یا نہیں کہنا مشکل ہے۔ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے حماس کی قیادت کو ہونے والے نقصانات کے باوجود اس وقت حماس کو علاقے میں مقبولیت حاصل ہے۔ ساتھ ہی حماس کے بچے کچھے رہنماؤں کا عرب دارالحکومتوں میں خیرمقدم بھی کیا جارہا ہے۔ شام میں واقع حماس کے اعلیٰ اہلکار خالد مشال نے اگست اور ستمبر میں قاہرہ کا دورہ کیا۔ فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی الفتح تحریک سے منسلک دیگر فلسطینی اہلکار بھی عرب ملکوں کا دورہ کررہے ہیں۔ مصری انٹیلیجنس کے سربراہ عمر سلیمان فلسطینیوں کے ساتھ باہمی مذاکرات کررہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ رملہ میں یاسر عرفات اور یروشلم میں اسرائیلیوں سے مذاکرات کے لیے بھی دورے کرتے رہے ہیں۔ ابھی کوئی کامیابی نہیں ملی ہے لیکن غزہ کے بارے میں مصری اور فلسطینی بنیادی امور پر اتفاق کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور اس عمل میں اس وقت وہ اسرائیلیوں سے کافی آگے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||