متنازعہ فصیل کے راستے میں تبدیلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیر دفاع شاؤل موفاز نے کہا ہے کہ اسرائیل غرب اردن میں اپنی متنازعہ فصیل کی توسیع کے منصوبے پر عمل کرے گا۔ جون میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس فصیل کے موجودہ راستے سےفلسطینیوں کو بہت پریشانی ہوگی۔ اب یہ فصیل 1967 کی فائر بندی لائین سے ہوکر گزرے گی جو اسرائیل اور غرب اردن کو الگ کرتی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس فصیل کا مقصد خود کش بم حملوں کو روکنا ہے جبکہ فلسطین اسے زمین ہتھیانے کا حربہ قرار دیتا ہے۔ اصل منصوبے کے تحت اس فصیل کا جنوبی حصہ غرب اردن میں کافی اندر تک جاتا اور ہیبرون شہر کے نزدیک کئی یہودی بستیوں کواس میں شامل کیا جانا تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اب یہودی بستیوں کے گرد علیحدہ فصیلیں بنائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہم نے اس فصیل کو اسرائیل کے نزدیک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔’چونکہ ان یہودی بستیوں کو اس فصیل کا تحفظ حاصل نہیں ہوگا اس لئے ان کے گرد فصیلوں کو مزید مستحکم کر کے انہیں ایک دوسرے سے جوڑنے والی سڑکوں پر فصیلیں تعمیر کی جائیں گی‘۔ انہوں نے کہا کہ مقامی فلسطینی کسانوں کی آمدورفت کے لیےالگ مقامات بنائے جائیں گے۔ اس نئے منصوبے کو ایریل شیرون کی کابینہ کی منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ اسرائیل نے فصیل کی ایک تہائی تعمیر کا کام مکمل کر لیا ہے اور زیادہ تر کام شمالی غرب اردن میں ہوا ہے۔ کچھ اسرائیلی افسران کا کہنا ہے کہ شمالی حصے میں فصیل کی تعمیر کے سبب جنوب میں شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اس لیے جنوب میں فصیل کی تعمیر کا کام جلد از جلد شروع ہونا چاہئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||