فصیل غیر قانونی ہے: عالمی عدالت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے متنازع اسرائیلی فصیل کے بارے میں عالمی عدالت کے فیصلے پر کہا ہے کہ عالمی عدالت سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے مناسب فورم نہیں ہے۔ اس سے پہلے عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں اسرائیل کی اس دلیل کو رد کر دیا تھا جس میں اسرائیل نے فصیل کے معاملے کی سماعت پر عالمی عدالت کے اختیار کو چیلنج کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے عالمی عدالت کے اس فیصلے پر کہا ہے کہ فصیل کے معاملے کو اسی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے جسے پہلے ہی رو بہ عمل لایا جا چکا ہے اور جسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے بحالی کا منصوبہ یا نقشۂ راہ کہا جاتا ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف ہیگ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ غربِ اردن میں فصیل کی تعمیر عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اپنی سلامتی کے بارے اسرائیلی تشویش اسے منصفانہ نہیں بنا سکتی۔ عدالت کا کہنا ہے ’فوجی ضرورتیں یا قومی سلامتی کے تقاضے یا امن و تحفظ کی بنا پر دیوار کو منصفانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘ چین سے تعلق رکھنے والے جج شیو جیو ینگ نے کہا ہے کہ ’اس دیوار کی تعمیر سے اسرائیل اس ذمہ داری کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس پر انسانیت کےعالمی قانون کے تحت عائد ہوتی ہیں۔‘ اسرائیل نے ایک بار پھر کہا کہ وہ عالمی عدالت کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس دیوار کے ذریعے بمباروں کو آنے سے روکنا چاہتا ہے۔ جب کے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ دیوار ان کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی ایک کوشش ہے اور اس کے نتیجے میں ایک آزاد ریاست کے لیے ان کی امیدوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||