| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’فصیل کے نتائج اچھے نہیں ہونگے‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں حفاظتی فصیل کی تعمیر سے برے نتائج سامنے آئیں گے۔ کوفی عنان کا یہ بیان ایک رپورٹ کا حصہ ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں گزشتہ ماہ منظور ہونے والی قرارداد کے بعد تیار کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن میں فصیل کی تعمیر کے بعد فلسطینی کئی قطعات زمین، ہسپتالوں اور اسکولوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ کوفی عنان کا کہنا ہے کہ باڑوں، دیواروں خاردار تاروں اور خندقوں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے طویل مدت تک قیام امن کی کوششوں کو زک پہنچے گی۔ ’اب جبکہ نقشہ راہ پر کام ہو رہا اور فریقین کو اعتماد کی بحالی کے لئے خیرسگالی کے اقدامات اٹھانے چاہئے تھے، غرب اردن میں فصیل کی تعمیر کو ایک ایسے فعل کی طرح دیکھا جانا چاہیے جس کے اثرات برے ہی ہوں گے۔‘ اسرائیل کا کہنا ہے کہ چھ سو کلو میٹر لمبی فصیل اس کے شہریوں کو خودکش بمباروں سے بچانے کے لئے بہت ضروری ہے۔ جمعرات کے روز اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایریل شیرون نے کہا تھا کہ وہ غربِ اردن میں متنازعہ حفاظتی فصیل پر کام جاری رکھیں گے۔ اسرائیل اخبارات کو دیئے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حفاظتی فصیل ’ریاست کی سیکورٹی کے لیئے ضروری ہے‘۔ اس سے قبل ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار نے کہا تھا کہ اسرائیل غربِ اردن میں کچھ نئی بستیاں تعمیر کرنے کے منصوبے کو منظور کرنے والا ہے۔ واضح رہے کہ یہ بستیاں واشنگٹن کے حمایت یافتہ امن منصوبے کی خلاف ورزی ہیں۔ امریکہ نے پہلے ہی کہا ہے کہ وہ بستیوں کی تعمیرات کے جاری رہنے کی وجہ سے اسرائیل کو دیے جانے والے قرضوں کی گارنٹی میں کمی کرنے والا ہے۔ شیرون نے کہا کہ اسرائیل امن کے نقشۂ راہ کے تحت کچھ فلسطینی علاقے خالی کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا: ’میں ماضی میں بھی تکلیف دہ رعایات کی ضرورت کی بات کرتا رہا ہوں۔ یہ صاف ہے کہ مستقبل میں ہم ان جگہوں پر نہیں ہوں گے جن پر ہم اب موجود ہیں۔‘ نقشۂ راہ کے مطابق اسرائیل کو 2001 سے غربِ اردن میں قائم درجنوں ناجائز چوکیاں خالی کرنا پڑیں گی اور نئی بستیوں میں تعمیر کا کام روکنا ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||