اسرائیلی فصیل پر فیصلہ آج ہوگا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیگ میں پانچ ماہ مسلسل غور و فکر کرنے کے بعد انصاف کی عالمی عدالت جمعہ کو (آج) فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی طرف سے فصیل تعمیر کیے جانے کے متعلق اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اقوامِ متحدہ نے عالمی عدالتِ انصاف سے اس فصیل کی تعمیر کے بارے میں قانونی رائے طلب کی تھی۔ اسرائیل کا اسرار ہے کہ فلسطینی عسکریت پسندوں سے محفوظ رہنے کے لیے اس فصیل کی تعمیر ضروری ہے جبکہ فلسطینی اس کی تعمیر کو ان کی زمین پر مزید قبضہ قرار دیتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے یہ اہم فیصلہ سنائے جانے سے پہلے بمباری کا شکار ہونے والے اسرائیلیوں کے عزیز و اقارب فیصلہ سننے کے لیے عدالت انصاف کے اطراف میں جمع ہو گئے ہیں۔ ان سب کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلیوں کی سلامتی کے لیے یہ دیوار بہت ضروری ہے۔ دیوار کے کچھ حصے 1967 کی جنگ سے پہلے والی سرحدوں کے قریب سے گزرتے ہیں۔ اور کچھ حصے غرب اردن کے اندر تک چلے جاتے ہیں۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ دیوار کی تعمیر سے ایک قابل عمل خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام دشوار ہوجائیگا۔ گو کہ اسرئیل عدالت کے فیصلے کا پابند نہیں ہوگا کیونکہ اس کی حیثیت محض مشاورتی ہوتی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ اقوام متحد ہ اور سلامتی کونسل کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ عدالت کو اس کیس کے سلسلے میں چالیس سے زیادہ ملکوں کے مشورے موصول ہوئے ہیں۔ تاہم اسرائیل ، امریکہ، اور کئی یورپی ملکوں کی رائے ہے کہ عالمی عدالت کو اس معاملے میں نہیں الجھنا چاہیئے۔ ان کا جواز ہے کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی ہے اور عدالت کا کوئی بھی فیصلہ مشرق وسطیٰ کے نازک حالات پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||