’نہ دکھاؤ، نہ بتاؤ کی پالیسی چلے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون نے کہا ہے کہ اسرائیل کی ’مبہم‘ جوہری پالیسی اسرائیل کے لیے مفید رہی ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا۔ ایریئل شیرون کا تازہ بیان بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے سربراہ محمد البرادعی کا اسرائیل کا دورہ شروع ہونے سے صرف چند گھنٹے پہلے سامنے آیا ہے۔ توقع ہے کہ البرادعی خطے میں جوہری اسلحے سے پاک زون کے قیام پر زور دیں گے۔ اسرائیل کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے پاس کافی زیادہ جوہری اسلحہ ہے لیکن وہ نہ اس بات سے انکار کرتا ہے اور نہ ہی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ڈیٹرینس ہے۔ البرادعی کے دورۂ اسرائیل سے پہلے تل ابیب نےصحرائے نیگو میں اپنے جوہری پلانٹ کی تصویریں پہلی مرتبہ جاری کیں۔ یہ تصویریں اسرائیل کی جوہری توانائی کے کمیشن کی نئی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہیں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ڈیمونا کے مقام پر اسرائیل کے پاس لگ بھگ دو سو جوہری ہتھیار ہیں۔ تاہم بی بی سی کے جوناتھن مارکس کہتے ہیں کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ اسرائیل اپنی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں اس سے زیادہ وضاحت کرے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی مبہم جوہری پالیسی یعنی ’نا دکھاؤ، نا بتاؤ‘ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا’مجھے نہیں معلوم البرادعی کیا دیکھنے آ رہے ہیں۔ اسرائیل کو اپنے دفاع کے لیے دفاع کے تمام ضروری عناصر اپنے پاس رکھنے ہیں۔ ہماری جوہری پالیسی کامیاب رہی ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔‘ دسمبر میں البرادعی نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے مبینہ پروگرام سے دستبردار ہو جائے۔ لیکن ایران اور شمالی کوریا کے برعکس اسرائیل نے کبھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے جس کا مقصد دنیا میں جوہری دوڑ کو روکنا ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل میں ان ہتھیاروں کی موجودگی کے شبہے کے باوجود کسی قسم کا کوئی معائنہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ نئی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل کا جوہری پروگرام پچاس کے عشرے کے اوئل میں شروع ہوا اور تب سے اب تک بظاہر اسرائیل ایک جوہری ملک بن چکا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کےمطابق بھارت اور پاکستان کے مقابلے میں، جو حال ہی میں جوہری ممالک کی فہرست میں شامل ہوئے ہیں، اسرائیل کا جوہری پروگرام زیادہ بہتر ہے۔ اسرائیل کے جوہری ہتھیار طویل فاصلے کے بیلسٹک میزائلوں یا جدید جنگی جہازوں سے چلائے جائے سکتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل ایسے پروگرام پر بھی کام کر رہا ہے جس سے جوہری ہتھیار، آبدوز سے لانچ کیے جانے والےمیزائل سے بھی چلائے جا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||