اسرائیلی وزیر کے جملوں سے ہلچل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ میں اسرائیلی فوج کے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی پالیسی پراسرائیل کے وزیرِ انصاف کی خود اپنی حکومت پر نکتہ چینی سے اسرائیل میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ٹومی لیپڈ نے اسرائیلی کابینہ کے اجلاس کے دوران یہ کہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے جس طرح غزہ میں کارروائی کی ہے اس سے انہیں دوسری عالمگیر جنگ کے دوران اپنے خاندان کے دکھ اور مصائب یاد آگئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ٹیلی وژن پر ایک ضعیف فلسطینی خاتون کو اپنے مسمار شدہ گھر کے ملبے میں دوائیں ڈونڈھتے دیکھا تو انہیں اپنی دادی یاد کی یاد آ گئی۔ کابینہ کے اجلاس کے دوران اسرائیلی وزیرِ انصاف کے ان جملوں سے اجلاس میں شور سا مچ گیا جس پر وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کو مداخلت کرنا پڑی اور انہوں نے وزیرِ انصاف کی سرزنش کی۔ کچھ وزراء نے کہا کہ انہیں ٹومی لیپڈ کے یہ جملے کسی بھی طرح قبول نہیں ہیں۔ بعد میں ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران ٹومی لیپڈ نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ اسرائیلی فوج کی کارروائی کا موازنہ نازیوں کے عمل سے کر رہے تھے۔ وزیرِ اعظم شیرون نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ سے مرحلہ وار انخلاء کے منصوبے کی تفصیل اسی مہینے کابینہ کے سامنے رکھیں گے۔ لیپڈ نے مزید فلسطینی گھروں کو مسمار کرنے کے منصوبے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ یہ کام غیر انسانی ہے اور جو ایسا کر رہے ہیں انہیں جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رفاہ میں گھروں کو مسمار کرنے پر بین الاقوامی طور پر اسرائیلی کارروائی کی مذمت کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ گھروں کو مسمار کرنا سکیورٹی کے نقطۂ نگاہ سے ضروری ہے کیونکہ ایسا کرنے سے سرنگوں کے ذریعے اسلحے کی سمگلنگ کو روکی جا سکتی ہے۔ ٹومی لیپڈ کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی اسی طرح گھروں کو مسمار کرتے رہے تو انہیں اقوامِ متحدہ سے باہر ہونا پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||