BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 July, 2004, 01:05 GMT 06:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فیصلہ کوڑے دان میں جائے گا‘
فصیل
اسرائیلی فصیل فلسطینی علاقوں کو تقسیم کرتی ہوئی گزرتی ہے
فلسطینیوں نے انصاف کی عالمی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ غربِ اردن میں اسرائیلی فصیل غیر قانونی ہے اور اسے گرا دینا چاہیئے۔

یاسر عرفات نے فیصلے کو فلسطینی عوام کی فتح قرار دیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ عالمی عدالتِ انصاف کے اس ’غیرمنصفانہ‘ اور ایسے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا جس کا نفاذ اسرائیل کے لیے ضروری نہ ہو۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’یہ قرارداد تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ پائے گی‘۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریل شیرون کے سینیئر معاون رانان گِسن نے کہا کہ عدالت نے اسرائیل کے خود کی حفاظت کے حق کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک غیرمنصفانہ فیصلہ دیا ہے۔

وزیرِ مالیات بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کچھ بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔ ’وہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا چپٹی ہے۔ یہ اسے غیرقانونی نہیں بنائے گی، بس یہ (بات) اسے صحیح اور منصفانہ نہیں بنائے گی‘۔

عرب ممالک نے عالمی عدالت کے فیصلے کی حمایت کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اورامریکہ نے متنازع اسرائیلی فصیل کے بارے میں عدالت کے فیصلے پر کہا ہے کہ عالمی عدالت سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے مناسب فورم نہیں ہے۔

اس سے پہلے عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں اسرائیل کی اس دلیل کو رد کر دیا تھا جس میں اسرائیل نے فصیل کے معاملے کی سماعت پر عالمی عدالت کے اختیار کو چیلنج کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے عالمی عدالت کے اس فیصلے پر کہا ہے کہ فصیل کے معاملے کو اسی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے جسے پہلے ہی رو بہ عمل لایا جا چکا ہے اور جسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کا منصوبہ یا نقشۂ راہ کہا جاتا ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف ہیگ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ غربِ اردن میں فصیل کی تعمیر عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اپنی سلامتی کے بارے اسرائیلی تشویش اسے منصفانہ نہیں بنا سکتی۔

عدالت کا کہنا ہے ’فوجی ضرورتیں یا قومی سلامتی کے تقاضے یا امن و تحفظ کی بنا پر دیوار کو منصفانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

چین سے تعلق رکھنے والے جج شیو جیو ینگ نے کہا ہے کہ ’اس دیوار کی تعمیر سے اسرائیل اس ذمہ داری کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس پر انسانیت کےعالمی قانون کے تحت عائد ہوتی ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد