فصیل پر فیصلے کا پُرجوش خیر مقدم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی عدالتِ انصاف ہیگ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ غربِ اردن میں فصیل کی تعمیر عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اپنی سلامتی کے بارے اسرائیلی تشویش اسے منصفانہ نہیں بنا سکتی۔ عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے پر عرب، اسرائیلی، فلسطینی اور دیگر عالمی ردعمل درج ذیل ہے۔ عرب دنیا ’اقوامِ متحدہ کو فصیل کی ناجائز تعمیر کو رد کر کے اپنا تاریخی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور علاقے میں امن اور استحکام کے لئے کام کرنا چاہیے‘۔ ’مصر کو امید ہے کہ بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے گی‘۔ ’یہ فیصلہ ان لوگوں کے لئے تاریخی ہے جو دنیا میں قانون کی حکمرانی کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں‘۔ اسرائیل ’اسرائیلی حکومت کے نزدیک صرف اسرائیلی سپریم کورٹ کے فیصلے کی اہمیت ہے‘۔ ’پچھلےساڑے تین سال میں اس مجرمانہ دہشت گردی کے سبب تقریباً ایک ہزار اسرائیلی لوگ ہلاک اور بیس ہزار حملوں میں لاکھوں زخمی ہو چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی اور حکومت کا یہی ردعمل ہوتا۔ فصیل کی تعمیر کے بعد سے حملوں کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں کافی کمی آئی ہے۔ یہ فصیل کام کر رہی ہے‘۔ ’یہ معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی تک جائے گا اور وہاں وہ جو چاہے فیصلہ دے سکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ زمین چپٹی ہے۔ یہ اسے غیرقانونی نہیں بنائے گی، بس یہ (بات) اسے صحیح اور منصفانہ نہیں بنائے گی‘۔ ’اصل فصیل فلسطینیوں کی دہشت گردی ہے۔ اس فصیل کو گرانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ دہشت گردی کو بند کیا جائے جس کا واحد طریقہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے منصوبہ یا نقشۂ راہ کے تحت مذاکرات ہیں۔ اس فیصلے سے نقشۂ راہ کے مخالفین خوش ہوں گے‘۔ فلسطین ’میں آج کے دن کو تاریخی تصور کرتا ہوں۔۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ فصیل کو گرا دینا چاہیے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کو ہر صورت میں گرا دینا چاہیے‘۔ ’یہ ایک عمدہ فیصلہ ہے۔ ہم ہیگ کی عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ فلسطینی عوام اور دنیا بھر کے آزاد عوام کی فتح ہے‘۔ ’عالمی برادری، خاص طور پر امریکہ کو، بین الاقوامی جائز نقطۂ نظر کی حمایت کرنی چاہیے اور اسرائیل کو ایک قانون سے بالاتر ملک کے طور پر برتنا بند کر دینا چاہیے‘۔ عالمی ’عالمی عدالت سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے مناسب فورم نہیں ہے۔ فصیل کے معاملے کو اسی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے جسے پہلے ہی رو بہ عمل لایا جا چکا ہے اور جسے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کا منصوبہ یا نقشۂ راہ کہا جاتا ہے‘۔ ’ فصیل نہ صرف فلسطینی زمین پر ناجائز قبضے کا باعث ہے بلکہ مستقبل کے مذاکرات اور سیاسی حل کے راہ میں بھی رکاوٹ ہے‘۔ ’قانونی صورتحال کی وضاحت کے بعد عالمی برادری کو دیکھنا چاہیے کہ اسرائیل سے بین اقوامی قانون کی پابندی کیسے کرائی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||