’باڑ کی لمبائی کم کر دی جائے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ غربِ اردن میں تعمیر کی جانے والی متنازعہ باڑ کی لمبائی اسی کلو میٹر تک کم کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس متنازعہ باڑ کی تعمیر کی جو منظوری دی تھی اس کی طوالت سات سو بیس کلو میٹر تھی۔ تاہم اب اسی کلو میٹر کی کمی کے بعد اس باڑ کی لمبائی چھ سو چالیس کلو میٹر رہ جائے گی۔ اسرائیلی فوجی حکام کی طرف سے باڑ کی لمبائی کم کرنے کی خبروں کی تصدیق اس وقت کی گئی ہے جب ہیگ میں انصاف کی عالمی عدالت اس مسئلے کے قانونی جواز یا عدم جواز پر دلائل سن رہی ہے اور ۔ تین روزہ یہ سماعت بدھ کے روز مکمل ہو جائے گی۔ اس حوالے سے عدالت کے سامنے اسلامی کانفرنس تنظیم اور عرب لیگ کی طرف سے دلائل پیش کیے گئے جن میں کہا گیا کہ اس باڑ کی تعمیر سے امن برہم ہو جائے گا۔ مشرقِ وسطیٰ کے امور کے لئے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر امریکی دباؤ ہے کہ وہ باڑ کو فلسطینی علاقوں سے گزارنے کی بجائے کہیں اور سے گزارے۔ کچھ روز قبل اسرائیلی حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ وہ غربِ اردن میں تعمیر ہونے والی متنازعہ باڑ کے ایک حصے کو مہندم کر دے گی۔ اسرائیلی ٹیلی وژن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس طویل اور متنازعہ باڑ کے ایک حصے کو اتوار تک گرایا جانا تھا۔ فلسطینیوں کی طرف سے اس باڑ کی تعمیر کی سخت مذمت کی گئی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی کئی ممالک نے اسرائیل کے اس باڑ کی تعمیر کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
باڑ بنانے کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سے خود کش بمباروں کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم فلسطینی اکابرین و عوام اس ستدلال کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ باڑ کی تعمیر کی آڑ میں اسرائیل زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||