BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 February, 2004, 09:27 GMT 14:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کی فصیل، عالمی عدالت انصاف میں

News image
فصیل کی تعمیر سے دو ریاستی حل کو خطرہ
عالمی عدالتِ انصاف ( آئی سی جے) میں اسرائیل کی فصیل کے خلاف چلائے جانے والے مقدمے کی فلسطینی بڑے زور شور سے پیروی کر رہے ہیں۔ اسرائیلی اس کی مذمت کر رہے ہیں جبکہ امریکہ سمیت دنیا کے تیس ملک تذبذب کا شکار ہیں۔

اس مقدمے کے بھی بالکل اس طرح متنازعہ ہونے جانے کے آثار ہیں جس طرح جنرل اسمبلی میں انیس سو پچھتر میں منظور ہونے والی قرارداد بن گئی تھی جس میں صہونیت کو نسل پرستی کی ایک قسم قرار دیا گیا تھا۔

عام سماعت تئیس فروری کو شروع ہو رہی ہے۔ چوالیس حکومتوں نے اپنی تحریری آراء بھیجی ہیں جن میں زیادہ تر نے عالمی ادارہِ انصاف کی اس معاملے میں مداخلت کی مخالفت کی ہے۔

اسرائیل نے بھی ایک تحریری بیان بھیجا ہے۔ اسرائیل سماعت کا بائیکاٹ کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ سب کارروائی پراپیگنڈہ کے لیے کی جا رہی ہے۔

آئی سی جے کا کردار:

اقوام متحدہ کی عدالت آئی سی جے، ہیگ میں قائم ہے اور یہ دو کام کرتی ہے۔ یہ تنازعات کے فیصلے کرتی ہے البتہ ان پر عمل درآمد متعلقہ ممالک پر منحصر ہے اور عام طور پر کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی سی جے اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے پوچھنے پر اہم مشورے دیتی ہے لیکن ان کی تعمیل لازمی نہیں ہوتی۔

گزشتہ دسمبر آئی سی جے سے کہا گیا تھا کہ وہ اسرائیلی باڑ کے معاملے پر جنرل اسمبلی میں ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرے۔ یہ قرارداد متعدد ممالک کے بلاک نے پیش کی تھی جس میں بیشتر عرب اور مسلم ملک شامل تھے۔

جنرل اسمبلی کے ایک سو اکیاون ارکان میں سے نوے نے باڑ کی تعمیر کی حمایت کی، آٹھ ممالک ( آسٹریلیا، ایتھوپیا، اسرائیل، مارشل جزائر، مائیکرونیشیا، نورو، پلاؤ اور امریکہ) نے مخالفت کی جبکہ چوہتر ملکوں نے اس معاملے پر ووٹ دینے سے اجتناب برتا۔ اس کے علاوہ متعدد ممالک ووٹ دینے کے لئے اجلاس میں ہی نہیں آئے۔

قرارداد میں آئی سی جے سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مندرجہ ذیل معاملے پر فوری طور پر مشاورتی رائے دے:

’سکیورٹی کونسل، جنرل اسمبلی کی قراردادوں، چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کو نظر میں رکھتے ہوئے، جنرل سیکرٹری کی رپورٹ کے مطابق مشرقی یروشلم اور اس کے گرد مقبوضہ فلسطینی علاقے میں، قابض طاقت اسرائیل کی طرف سے باڑ کی تعمیر کے قانونی اعتبار سے کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟‘

سہ رخی بحث:

فلسطینی خواہاں ہیں کہ یہ رولنگ دی جائے کہ ’فصیل‘ کا وجود ان تمام مقامات پر غیر قانونی ہے جہاں سے وہ غرب اردن کے مقبوضہ علاقوں سے گزرتی ہے۔

اسرائیلی یہ کہتے ہیں کہ ’باڑ‘ کی تعمیر ملکی دفاع کے لئے انتہائی اہم ہے۔ یورپ اور امریکہ کا موقف ہے کہ ’باڑ‘ کے بارے میں بحث چاہے کچھ بھی ہو لیکن آئی سی جے کو ایسے متنازعہ سیاسی مسئلے میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔

٭ فلسطینی: اِن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ کی جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ تمام ’مقبوضہ علاقہ‘ ہے، جسے جنگی قاعدے قانون سے متعلق ہیگ کے انیس سو سات کے ضوابط کے تحت اسرائیل اپنے ساتھ متصل نہیں کر سکتا۔

یوں مقبوضہ علاقے میں کسی بھی جگہ خصوصاً مشرقی یروشلم (جسے فلسطینی اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں) کے گرد باڑ کی تعمیر بالآخر مقبوضہ علاقے کو اسرائیل سے جوڑ دے گی۔ نہ صرف یہ بلکہ باڑ کی تعمیر سے متاثرہ آبادی کے روز مرہ حقوق کی بھی خلاف ورزی ہو گی۔

فلسطینی وزیراعظم احمد قریع کا کہنا ہے کہ اس فصیل کی تعمیر سے ’دو ریاستی حل اور خود مختار فلسطین کا قیام‘ خطرے میں پڑ جائے گا۔

٭ اسرائیل: اسرائیل کا اصرار ہے کہ اس نے انیس سو سڑسٹھ میں جس زمین پر قبضہ کیا تھا وہ ’مقبوضہ علاقہ‘ نہیں ہے۔ اسرائیلی موقف یہ ہے کہ انیس سو سڑسٹھ میں غرب اردن پر اردن کا کنٹرول تھا جو کہ بین الاقوامی سطح پر بڑی حد تک تسلیم شدہ بھی نہیں تھا۔ اردن اس وقت اپنے دعوے سے دستبردار ہو گیا جس کے باعث اس علاقے کی حیثیت کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ جس کی وجہ سے اسرائیل اب یہ کہتا ہے کہ اس معاملے پر جنیوا کنونشن اور ہیگ معاہدوں کا مکمل اطلاق نہیں ہوتا اس کے باوجود وہ خود کئی طرح سے ان شرائط کی تکمیل کرتا ہے۔

اسرائیل حکام باڑ کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ہر طرح سے ایک فصیل ہے لیکن نشانچیوں کے لئے کہیں کہیں جگہ چھوڑی گئی ہے۔ اسرائیل یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ یہ باڑ انیس سو سڑسٹھ کی ’گرین لائن‘ پر بعض مقامات سے گزرتی ہے لیکن اس کی وجوہات محض جغرافیاقی اور مقامی نوعیت کی ہیں۔ یہ باڑ صرف ذاتی دفاع کے لئے تعمیر کی جارہی ہے اور اس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں ہے کیونکہ سیاسی سمجھوتہ طے پا جانے کی صورت میں باڑ کو ہٹایا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ نے کے اس بیان سے اسرائیل کا موقف یوں واضح ہوتا ہے: ’افسوس کی بات ہے کہ فلسطینی براہ راست گفت و شنید سے مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف نکتہ چینی پر مشتمل سیاسی حربے استعمال کرنے پر اتر آیا ہے‘۔

٭ یورپ اور امریکہ: یورپی اتحاد نے گزشتہ اکتوبر جنرل اسمبلی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے غرب اردن میں باڑ کی مقام کی مذمت کی تھی۔ لیکن اس کا خیال ہے کہ معاملے کو آئی سی جے میں لے جانا ایک غلط قدم ہو گا۔

امریکہ کا موقف اس سے کہیں سخت ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں آئی سی جے کا سرے سے کوئی عمل دخل ہی نہیں بنتا۔

آئی سی جے کیا ہے؟

آئی سی جے جنگ عظیم دوم کے بعد تشکیل دی گئی تاہم یہ عالمی عدالتِ انصاف جن مقاصد کے لئے وجود میں آئی تھی انہیں پورا نہ کر پائی اور بین الاقوامی تنازعات حل کرنے میں ناکام رہی۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے ممالک نے اسے کبھی یہ اختیارات ہی نہیں دیئے کہ وہ ان ملکوں کے مابین جاری تنازعات کا فیصلہ کر سکے۔ اس اعتبار سے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں باڑ کی تعمیر کے مسئلے کے حل کی امیدیں بھی معدوم ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد