متنازعہ باڑ کےایک حصےکوگرانےپرغور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یروشلم سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت غربِ اردن میں تعمیر ہونے والی متنازعہ باڑ کے ایک حصے کو مہندم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اسرائیلی ٹیلی وژن کی ایک رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز اس طویل اور متنازعہ باڑ کے ایک حصے کو گرا دیا جائے گا۔ متنازعہ باڑ کے جس حصے کو گرائے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کی طوالت لگ بھگ آٹھ کلو میٹر بتائی جاتی ہے۔ اس باڑ کو گرانے کے بارے میں سوچ بچار اور اگر اسے اتوار کو گرا دیا جاتا ہے تو اس کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہیگ میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف اس بات پر غور شروع کرے گی کہ کیا اس متنازعہ باڑ کی تعمیر کا کوئی قانونی جواز ہے یا نہیں۔ فلسطینی کی طرف سے اس باڑ کی تعمیر کی سخت مذمت کی گئی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی کئی ممالک نے اسرائیل کے اس باڑ کی تعمیر کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پہلے ہی امریکی ایلچی امریکہ سے اسرائیل پہنچ چکے ہیں جہاں دیگر معاملات کے علاوہ اس بات کے بھی اشارے ہیں کہ اس باڑ کا مسئلہ زیرِ بحث آئے گا۔ اسرائیل اس آٹھ کلو میٹر متنازعہ باڑ کا تقریباً ایک تہائی تعمیری کام پہلے ہی مکمل کر چکا ہے ۔ باڑ بنانے کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر سے خود کش بمباروں کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم فلسطینی اکابرین و عوام اس ستدلال کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ باڑ کی تعمیر کی آڑ میں اسرائیل زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||