اسرائیل باڑ مسمار کرے: اقوم متحدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹِنگ کی ہے جس میں اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ غرب اردن کے فلسطینی علاقوں کے بیچ و بیچ بنائی جانیوالی اپنی باڑ مسمار کردے۔ اس قرارداد کے حق میں ایک سو پچاس ممالک نے ووٹ دیے جبکہ امریکہ سمیت چھ ملکوں نے اس کی مخالفت کی۔ جنرل اسمبلی کے دس ارکان نے ووٹِنگ میں حصہ نہیں لیا۔ عرب ممالک کے ساتھ مسودے میں ترامیم کے بعد یورپی یونین کے کل پچیس ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ جنرل اسمبلی کے ذریعے منظور کی جانیوالی اس قرارداد پر اسرائیل کے لئے عمل در آمد کرنا لازمی نہیں ہے۔ اسی ماہ ہیگ میں عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی باڑ کو غیرقانونی قرار دیا تھا جو کہ اسی قرارداد کی طرح لازمی نہیں تھا۔ جنرل اسمبلی میں قرارداد پر ووٹِنگ سے قبل اجلاس دو بار ملتوی کرنا پڑا تاکہ رکن ممالک کو مسودے پر اتفاق کرنے کا موقع مل سکے۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ قرارداد لازمی نہیں ہے تاہم اس کے ذریعے عرب ممالک اسرائیل پر اخلاقی دباؤ بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ یروشلم کے قریب بتیس کلومیٹر لمبی باڑ میں تبدیلی جائے کیونکہ اس سے مقامی فلسطینیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک سو اکیانوے ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ اس قرارداد پر عمل کرائے لیکن یہ قرارداد اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جاسکتی ہے۔ سلامتی کونسل کو اصولی طور پر اختیار ہے کہ اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگاسکے۔ امریکہ نے اس قرارداد کے خلاف ووٹنگ کی اور پہلے بھی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی مخالفت کرچکا ہے۔ سلامتی کونسل میں امریکہ کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔ جنرل اسمبلی میں منظور کی جانیوالی قرارداد پر ووٹِنگ کو اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈان گلرمن نے ’’انصاف کی بےراہ روی’’ قراردیا۔ اسرائیلی حکومت اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ فلسطینی شدت پسندوں کے حملے روکنے کے لئے اس کے لئے اس باڑ کی تعمیر ضروری ہے۔ یہ اسرائیلی باڑ کل چھ سو چالیس کلومیٹر ہے اور کہیں باڑ کی شکل میں ہے اور کچھ مقام پر دیوار کی شکل میں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||