فصیل کی جوابدہی، اسرائیلی ہائی کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی ہائی کورٹ نے اسرائیلی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ غرب اردن میں بنائی جانے والی متنازع فصیل پر عالمی عدالت کی رولنگ کا جواب دے۔ عدالت نے اسرائیلی حکومت کو اس جواب دہی کے لیے تیس دن کا وقت دیا ہے۔ اس سے متعلق ایک اور اہم بات یہ ہوئی ہے کہ اٹارنی جنرل منہم مازوز نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فصیل کا راستہ تبدیل کرنے پر غور کرے۔ کہا جاتا ہے کہ اٹارنی جنرل نے حکومت کو اس سلسلے میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ فصیل کاراستہ تبدیل کر کے وہ عالمی پابندیوں کے نفاذ سے بچ سکتی ہے۔ ہیگ میں قائم عالمی عدالتِ انصاف نے فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی جانے والی باڑ سے ہزاروں فلسطینیوں کی زندگی میں خلل پیدا ہوا ہے اس لیے اس فصیل کو گرا دیا جائے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے غرب اردن میں فصیل کی تعمیر کو جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس موقعہ پر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے اسرائیل کے اٹارنی جنرل کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے کے اثرات کا تدارک کرنے کے لیے قانونی اور سفارتی سطح پر ممکنہ اقدامات کے بارے میں سفارشات پیش کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||