نئے یہودی مکانات تعمیر ہونگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایریئل شیرون نے غرب اردن کے فلسطینی علاقوں میں ایک ہزار یہودی مکانات بنانے کے منصوبے کی منظوری دیدی ہے۔ ایریئل شیرون کی کابینہ کے ایک رکن نے بتایا کہ وزیر تعمیرات اس علاقے کا معائنہ کرنے والے ہیں جس کے بعد ان مکانات کی تعمیر کے لئے ٹینڈر طلب کیے جائیں گے۔ اس سے قبل اسرائیلی حکومت نے مکانات کی تعیمر کا فیصلہ اس لئے ترک کردیا تھا کیونکہ امریکہ نے کہا تھا کہ تعمیرات سے مشرق وسطیٰ قیام امن کے منصوبے کو دھچکا پہنچے گا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہودی مکانات تعمیر کرنے کا یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ غزہ کی پٹی خالی کرنے کے شیرون کے فیصلے کے خلاف قدامت پرستوں کی جانب سے ہونیوالی مزاحمت سے نمٹا جاسکے۔ عالمی قوانین کے تحت مقبوضہ علاقوں میں یہودی مکانات غیرقانونی ہیں۔ لیکن اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے اخبار ہاریٹز نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے یہ کہا تھا کہ یہودی بستیوں میں توسیع کرنے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ امریکہ کی حمایت یافتہ امن منصوبے کے تحت اسرائیل کو نئی یہودی بستیاں نہ بسانے اور فلسطینیوں کو اسرائیل پر شدت پسند حملے نہ کرنے کی تجویز ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||