اسرائیل:مزید بستیوں کامنصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے غرب اردن میں قائم ایک بڑی یہودی بستی میں دو سو مزید گھر بنانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ان گھروں کی تعمیر متنازعہ ایرئیل یہودی بستی میں ہونے والی ہے۔ پچھلے ہفتے غرب اردن میں بنی سب سے بڑی یہودی بستی مال ادومن میں توسیع کرنے کے منصوبےکی خبر آئی تھی۔ قیام امن کے بین الاقوامی منصوبہ ’روڈ میپ‘ کے تحت اسرائیل نے یہودی بستیوں پر کام روکنے کا وعدہ کیا تھا۔ ’روڈ میپ‘ کے تحت فلسطینیوں پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ غرب اردن اور غزہ میں بنی تمام یہودی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں مگر اسرائیل یہ بات ماننے سے انکار کرتا ہے۔ ایرئیل بستی میں اٹھارہ ہزار اسرائیل رہتے ہیں۔ ایک سرکاری اہلکارنے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی وزیر دفاع شول موفاز نے دو سو مزید گھر بنانے کی منظوری چھ ماہ پہلے دے دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک گھر بنانے کے لیے کانٹریکٹرز سے بولیاں طلب نہیں کی گئی تھیں۔ فلسطینی وزیر صائب اریکات نے اس منظوری کو ’روڈ میپ‘ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکہ نے مال ادومن یہودی بستی کو مزید وسیع بنانے کے منصوبے کی تنقید کی ہے اور اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی بستیاں نہ بنانے والے اپنے وعدے کو پورا کرے۔ اسرائیل نےغزہ سے سات ہزار یہودیوں اور فوجیوں کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم غزہ پر اسرائیل کا قبضہ جاری رہے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||