BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 November, 2004, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عرفات کے بعد فلسطین کیسا ہوگا؟
News image
کیمپ ڈیوڈ میں بھی مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے تھے
فلسطینیوں کی پہچان اور ان کے نجات دہندہ یاسر عرفات دنیا میں نہیں رہے مگر یاسر عرفات کے سیاسی پسماندگان کو بہت ہی اہم فیصلہ کرنا ہے: کیا وہ مذاکرات کے ذریعے اسرائیل سے بہتر معاہدہ کریں یا اس خواب کے لیے لڑتے رہیں جس کی تعبیر بھی ایک خواب ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا یہ موڑ شاید اسرائیل کو بھی یہ دعویٰ سچ ثابت کرنے پر مجبور کر دے کہ خطے میں یاسر عرفات ہی امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ تھے۔

یاسر عرفات کی کوشش کے پہلو دو تھے: یعنی جنگ بھی اور مذاکرات بھی۔ برسوں تک وہ برسرِ پیکار رہے۔ انہوں نے انسانی شکل میں فلسطین کی مزاحمت کا روپ دھار لیا تھا۔ اور بعد میں وہ بات چیت کے راستے پر بھی چلے۔

انیس سو ترانوے میں وائٹ ہاؤس کے لان میں انہوں نے اسرائیلی رہنما اسحاق رابن سے مصافحہ کیا۔ دو ہزار میں کیمپ ڈیوڈ میں انہوں نے اپنے ایک اور سیاسی مخالف ایہود براک سے بھی بات چیت کی۔

لیکن آخر کار یاسر عرفات نے خود کو ان مذاکرات سے الگ کر لیا اور یہ کہا کہ اسرائیل نے جو پیشکش کی تھی وہ کافی نہیں ہے۔ مگر کسی کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یاسر عرفات کی نظر میں کیا چیز ’کافی‘ ہے۔

انہیں ایک ریاست بھی مل سکتی تھی اور یروشلم کے کچھ حصے بھی لیکن اس کے لیے انہیں غربِ اردن کا کچھ حصہ قربان کرنا پڑتا۔ لیکن ان کے لیے اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ انہیں فلسطینی مہاجرین کے اپنے علاقوں میں واپسی کے حق سے بھی دستبردار ہونا پڑتا۔

سو ہوا یہ کہ ان کے ذریعے فلسطینیوں نے ایک ایسی پیشکش ٹھکرا دی جو کئی برس پہلے ظاہر ہونے والی ایک دوسری پیشکش سے کم تر تھی۔ لیکن اس پیشکش کے مسترد کرنے کے بعد انہیں کسی دوسری اور بہتر پیشکش کی توقع بھی نہیں رہی تھی۔

اور اب بھی فلسطینیوں کے لیے شاید کوئی نوید نہیں ہے۔ ممکن ہے انہیں غزہ مل جائے لیکن ان کی الگ ریاست کا قیام غیر یقینی ہے۔

علاوہ بریں، اسرائیلی غربِ اردن کے بہت سے حصے پر اپنا کنٹرول مستحکم کرتے جا رہے ہیں۔ مشرقی یروشلم فلسطینیوں کے لیے ایک امیدِ موہوم ہے۔ ماضی کے مذاکرات میں اس علاقے کے کچھ حصوں پر فلسطینی اختیار پر معاہدہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا یاسر عرفات نے ایک خراب ڈیل پر اصولی موقف اختیار کیا تھا یا پھر وہی بات درست تھی جو ایک اسرائیلی وزیرِ خارجہ نے ان الفاظ میں کہی تھی کہ فلسطینیوں نے ’موقع ضائع کرنے کا موقع کبھی نہیں کھویا‘۔

ایک سینیئر مغربی سفارت کار نے حال ہی میں کہا تھا کہ اسرائیلی جیت گئے ہیں اور وہ اپنی بستیوں کو بعینہ منظم کر رہے ہیں جیسے وہ چاہتے ہیں۔

لگتا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے اب نشانِ منزل گم ہے اور راستہ بھی مسدود۔

اگر وہ اپنی نگاہوں میں سجے ہوئے خوابوں کو کسی حد تک فراموش نہیں کرتے تو انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا اور انہیں اگر کچھ حاصل نہ ہوا تو مزاحمت بڑھے گی۔

شاید فلسطینیوں کو امید ہے کہ وہ غربِ اردن کو بھی ویسا ہی بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جیسا انہوں نے غزہ کو بنایا ہے۔ لیکن ایسا یقینی نہیں ہے۔ خدشہ یہی ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور اسی تاریکی و گمنامی میں کہیں کھو جائیں گے جہاں سے یاسر عرفات نے انہیں نکالا تھا۔

محض فلسطینیوں کے ہونے سے فلسطینی ریاست کا وجود ممکن نہیں ہو جاتا اور تاریخ کے صفحات پر ان قوموں کا ذکر موجود ہے جن کے ہونے کے باوجود کچھ نہیں ہوا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ فلسطینیوں کے درمیان آپس کی لڑائیاں شروع ہو جائیں۔ یاسر عرفات کو رقابت پسند نہیں تھی اور آج بھی معلوم نہیں کہ ان کا جانشین کون ہوگا۔

یا پھر یہ ہوسکتا ہے کہ مشکل فیصلے کرنے کے لیے کوئی اور قائد سامنے آ جائے لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ فلسطینی منقسم ہو جائیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد