محمود عباس فائرنگ میں بچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ یاسر عرفات کی جگہ نئے صدر کے لیے انتخابات کا انعقاد جنوری کی نو تاریخ کو ہوگا۔ اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی غزہ میں مسٹر عرفات کے ایک تعزیتی جلسے میں فائرنگ ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق نامعلوم بندوق برداروں نے پی ایل او کے سربراہ کے لیے یاسر عرفات کے ایک ممکنہ جانشین محمود عباس کے قریب گولیاں چلائیں ۔تاہم وہ محفوظ رہے۔ تعزیتی جلسے میں مسلح افراد غصے میں محمود عباس اور ان کے ساتھی اور غزہ کے سابق سکیورٹی چیف محمد دہلان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور جیسے ہی عباس تعزیتی ٹینٹ کے قریب پہنچے تو فائرنگ شروع ہو گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے محمود عباس کو اسی وقت حفاظت میں وہاں سے نکال دیا۔ تاہم گولیاں لگنے سے دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اس واقع کے بعد ایک فلسطینی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ ’یہ نارمل تھا۔۔۔ لوگ جذباتی تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اس میں سیاسی یا ذاتی محرک نہیں تھا‘۔ انہوں نے اس واقع کا ذمہ دار مجمع کو ٹھہرایا اور کہا کہ مجمع میں مسلح گروہوں کے کچھ آدمیوں میں تنازعہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سو فیصد یقین ہے کہ یہ انہیں قتل کرنے کی سازش نہیں تھی۔ دریں اثناء فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ نو جنوری تک فلسطین کا انتظام یاسر عرفات کی وفات کے بعد تشکیل پانے والی قیادت چلائے گی۔ تنظیمِ آزادیِ فلسطین یا پی ایل او کے موجودہ سربراہ اور سابق وزیرِاعظم محمود عباس کو الفتح نے اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔ محمود عباس صدارت کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ انکے علاوہ متوقع امیدواروں میں فلسطینی وزیرِاعظم احمد قریع اور الفتح کے موجودہ سربراہ فاروق قدومی شامل ہیں۔ عبوری صدر راہوی فتوح کا کہنا ہے کہ تمام امیدواروں کو بیس نومبر کے بعد انتخابات کے لیے مہم ستائیس دسمبر کو شروع ہو گی اور ووٹنگ سے ایک دن پہلے تک جاری رہے گی۔ فلسطینی قانون کے مطابق صدر کی معذوری یا وفات کے ساٹھ دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ عبوری صدر نے یہ بھی کہا کہ ووٹروں کی رجسٹریشن جاری ہے۔ علاوہ ازیں سینیئر فلسطینی رہنما صائب اراکات نے امریکہ اور یورپی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو آزاد اور شفاف انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے باز رکھیں۔ ادھر یروشلم کے دو لاکھ فلسطینیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق اسرائیلی کابینہ میں اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ سلوان شالوم نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں یروشلم میں رہنے والے فلسطینیوں کو فلسطین کے صدارتی انتخابات میں حقِ رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اسرائیلی ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یروشلم کے دو لاکھ فلسطینیوں کو ووٹ کا حق دینے سے مستقبل میں یروشلم شہر کی حیثیت پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام نے وزیرِاعظم ایرئل شیرون کے حوالے سے کہا ہے کہ کہ وزیرِاعظم شیرون، سلوان شالوم کے بیان سے متفق نہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مشرقی یروشلم کے فلسطینیوں نے 1996 کے انتخابات میں بھی حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||