دو ریاستی حل عنان کی توقعات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کے لیے یاسر عرفات کی بہترین وراثت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کی دو ریاستوں کے پہلو بہ پہلو وجود کے لیے ان کے خواب کو ایک حقیقت میں تبدیل کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے مثبت اثار ہیں کہ فلسطینیوں نے اپنی قیادت کے مسائل کو بخوبی نمٹا لیا ہے اور اب معاملات نمٹانے کے لیے ایک ٹھوس قیادت سامنے آئے گی۔ انہوں نے یہ بیان ان فیصلوں کے بعد جاری کیا ہے جن کے تحت فلسطینی وزیراعظم محمود عباس تحریک آزادی فلسطین کے چیئرمین، اور پارلیمانی سپیکر رواحی فتوح نے عبوری صدر کے چہدے کا حلف اٹھایا ہے۔ عبوری صدر رواحی فتوح نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ باقاعدہ صدر کے لیے انتخابات ساٹھ دن میں ہوں گے۔ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ اگر سنجیدے اور ذمہ دار قیادت سامنے آئی تو یاسر عرفات کی موت مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہو گی۔ الفتح کے سربراہ مقرر کیے جانے والے فاروق قدومی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے امن بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی اگر یہ کوشش کامیاب نہیں ہوتی تو مسلح جدو جہد بھی جاری رکھیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||