امن کی امید پیدا ہوئی ہے: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر بش نے وائٹ ہاؤس میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ باور کرتے ہیں کہ اسرائیل کے ہمسائے میں فلسطینی ریاست کا قیام اگلے چار سال میں ممکن ہے اور جمہوری اداروں کی تشکیل کی طرف فلسطینی صدر کا انتخاب پہلا قدم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں امن دنیا کے مفاد میں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ امن کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے صدر بش کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی اور غربِ اردن کے کچھ حصے پر واقع بستیوں کو خالی کر دینے کے منصوبے کی حمایت کی جائے تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔ ٹونی بلیئر امریکہ کے دوروزہ دورے پر ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ امریکی انتخابات صدر بش کے دوبارہ چار سال کے لیے صدر منتخب ہونے کے بعد مسٹر ٹونی بلیئر وہ پہلے رہنما ہیں جو امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں اور صدر بش سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس سے قبل نامہ نگار صدر بش کے ساتھ ان کے عشائیے کو اس بات کا غیر رسمی آغاز قرار دے رہے تھے جس کے دوران وہ امریکہ پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے خود کو زیادہ سرگرم کریں۔ برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ وہ مرحلہ ہے جو امریکہ اور برطانیہ سے ایسے اشاروں کا تقاضہ کرتا ہے جن سے یہ ظاہر ہو کہ وہ امن کے قیام کے لیے انتہائی سنجیدہ ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مسٹر بلیئر صدر بش پر زور دیں گے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کی مدد اور حمایت کریں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے برطانوی وزیر اعظم پر ان کے ملک میں دباؤ ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کے آخر انہیں عراق پر امریکہ کی حمایت کر کے کیا ملا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||