فلسطینی ہتھیار چھوڑ دیں: عباس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی رہنما محمود عباس نے فلسطینی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد ترک کر دیں۔ محمود عباس یاسر عرفات کی جگہ پی ایل او کی صدارت باقاعدہ طور پر سنبھالنے کے لیے اگلے ماہ ہونے والے انتخابات میں امیدوار ہیں اور اس کے لیے مہم چلا رہے۔ محمود عباس نے گزشتہ چار سال سے جاری مسلح تحریک کو ایک غلطی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کا راستہ فلسطینیوں کی جدوجہد کے لیے نقصان دہ ہے اور اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔ لندن سے شائع ہونے والے ایک عربی روزنامے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف آواز بلند کرنا فلسطینیوں کا حق ہے اور اس کے لیے مقبول سیاسی طریقے استعمال کرنے چاہیں۔ انہوں نے کہا اس سطح پر انتفاد کو مسلح تحریک میں بدلنے کے وہ مخالف ہیں کیونکہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہ اس مرحلے پر فضا کا پرامن ہونا ضروری ہے۔ یاسر عرفات کی موت کے بعد محمود عباس نے فلسطینیوں کی تنظیم، پی ایل او کی قیادت سنبھالی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پی ایل او کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے محمود عباس کا یہ پہلا بیان ہے جو واضح طور پر اسرائیل کے ساتھ امن کے قیام کے لیے ان کی حکمت کی نشاندھی کرتا ہے۔ اسرائیلی میں قید فلسطینی رہنما مروان برغوتی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ جو کوئی بھی فلسطینیوں کی قیادت سنبھالے وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اسرائیلی سے مذاکرات کے دوران مسلح جدوجہد کا راستہ کھلا رکھے۔ فلسطین کی عسکریت پسند تنظیم حماس نے بھی مسلح جدوجہد ترک کرنے کے خیال کو رد کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||