| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نقشہ راہ یا ہلاکتوں کی راہ
سن دو ہزار تین ایسا سال تصور کیا جارہا تھا جو فلسطین اسرائیل تنازع کو مستقل طور پرحل کرنے کے لئے اہم ترین سال ثابت ہوسکتا تھا کیونکہ اس سال علاقے میں امن کے لئے نقشہ راہ پیش کیا گیا اور ’نئے مشرق وسطیٰ‘ کے قیام کے لئے بات ہوئی۔ لیکن سال کے اختتام تک امن کے لئے تجویز کیا گیا ’نقشہ راہ‘ ہلاکتوں کی راہ ثابت ہوا۔ ’امن کا قیام‘ اور نیا ’مشرق وسطی‘ دونوں خیال ہی ناکام ثابت ہوئے۔ نقشہ راہ کے منصوبہ سازوں نے اسے کامیاب بنانے کے لئے فلسطین میں وزیر اعظم کا عہدہ قائم کیا۔ وزیر اعظم بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا فلسطینی رہنما چنا جائے جو یاسر عرفات سے زیادہ اختیارات رکھتا ہو اور جو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرسکے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل یاسر عرفات کو امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ تصور کرتے تھے۔ محمود عباس اس عہدے کے لئے پہلے شخص تھے لیکن وہ اس ذمہ داری کو زیادہ دیر تک نہ نبھاسکے اور چھ ہی ماہ میں وہ ہمت ہار بیٹھے۔ نہ ہی اس دوران کوئی قابل ذکر پیش رفت ہوسکی۔ نقشہ راہ پیش کرنے والوں کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔
مشرق وسطی میں امن کے قیام کو امریکہ سے منسوب کیا جاتا رہا اور خیال یہ تھا کہ امریکہ ہی فریقین کو کسی نہ کسی سمجھوتے پر راضی کرسکتا ہے۔ جون کے مہینے میں صدر بش نے نقشہ راہ پیش کرنے کے لئے ایک اجلاس کیا اور امن کے قیام کے لئے کوشش کرنے کا عہد کیا۔ ان کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس نے یروشلم کا دورہ کیا۔ اسرائیل نے اپنے موقف میں لچک ظاہر کی جبکہ فلسطین نے جنگ بندی کی پیشکش کی۔ لیکن پھر تمام منصوبہ غیر موثر ثابت ہوا۔ اگست میں جنگ بندی ختم ہوگئی، محمود عباس مستعفی ہوگئے اور اسرائیل پھر اپنے موقف پر ڈٹ گیا۔ دریں اثناء سابق فلسطینی اور اسرائیلی وزراء کا ایک وفد امن کے ایک اور منصوبے ’جینیوا معاہدے‘ پر کام کررہا ہے۔اگرچہ یہ منصوبہ زیادہ قابل عمل ظاہر نہیں ہوتا لیکن منصوبہ ساز اس کے بارے میں پر امید ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سابق اسرائیلی جنرل نے بھی ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ آخر میں ایک اور منصوبہ بھی ہے جو کہ ان تمام تجاویز سے زیادہ اہم ثابت ہوسکتا ہے اور وہ ہے اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون کی دھمکی۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فلسطینی اپنے نئے رہنما کے انتخاب میں ناکام ہوئے اور اپنی افواج کو غیر مسلح نہ کیا تو وہ فلسطین کو تنہا کردے گا۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے غرب اردن میں فصیل تعمیر کرنے کا کام بھی شروع کردیا جس سے فلسطینی اپنے کئی اہم علاقوں سے محروم ہورہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||