فلسطینی انتخابات میں ووٹنگ ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یاسر عرفات کا جانشین منتخب کرنے کے لئے فلسطینی صدارت کے لئے اتوار کو ہونے والی ووٹنگ ختم ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ الفتح تحریک کے امیدوار محمود عباس عرف ابو ماذن کی فتح یقینی ہے۔ صدارتی انتخابات میں ووٹنگ جی ایم ٹی کے مطابق انیس بجے ختم ہوئی۔ انتخابی حکام کو ووٹنگ میں دو گھنٹے کی توسیع کرنی پڑی تھی کیونکہ آخری گھنٹوں میں ووٹروں کی بڑی تعداد قطاروں میں لگی ہوئی تھی۔ محمود عباس کے اہم ترین مخالف امیدوار مصطفیٰ برغوثی ہیں جو انسانی حقوق کے لئے بھی لڑتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چار اور امیدوار میدان میں تھے۔ ووٹنگ کے لئے لگ بھگ تین ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ ووٹنگ جی ایم ٹی کے مطابق صبح پانچ بجے شروع ہوئی تھی۔ لگ بھگ اٹھارہ لاکھ ووٹر ووٹ دینے کی اہلیت رکھتے تھے اور پانچ سو سے زائد بین الاقوامی مانیٹر نگرانی کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔ ووٹوں کی گنتی اتوار کی شب جاری رہے گی اور پیر کی صبح تک نتائج کا اعلان کردیے جانے کی امید ہے۔ انتخابی حکام نے بتایا کہ غزہ اور غرب اردن میں ٹرن آؤٹ زیادہ تھی۔ لیکن کئی مقامات پر رجسٹریشن فہرست میں کچھ مشکلات کا سامنا رہا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مشرقی یروشلم میں پولنگ اسٹیشنوں پر افراتفری رہی اور فلسطینیوں کے مطابق کاغذات مکمل ہونے کے باجود اسرائیلی حکام نے انہیں واپس بھیج دیا۔ انتخابی مانیٹروں نے بتایا کہ لگ بھگ پانچ سو ووٹروں کو مشرقی یروشلم میں ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ مشرقی یروشلم بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کے ’قبضے‘ میں ہے اور فلسطینیوں کو اسرائیلی پوسٹ آفسوں میں ووٹ ڈالنے کی اجازت تھی۔ فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے آج کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم حماس کے بائیکاٹ کا فیصلہ صرف اس کے حامیوں کے لئے تھا۔ حماس نے فلسطینی عوام سے کہا تھا کہ وہ ووٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ حماس نے اس لئے کیا کیونکہ فلسطینی انتظامیہ نے صدارت، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات ساتھ ساتھ کرانے کا اس کا مطالبہ نہیں مانا تھا۔ آج رملہ میں اپنا ووٹ دیتے وقت ابو ماذن نے کہا: ’یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی عوام کتنی حد تک جمہوریت کے خواہاں ہیں۔‘ رائے شماری کے جائزوں میں پہلے ہی بتایا گیا ہے کہ ابو ماذن کامیاب رہیں گے۔ فلسطینی گروہوں نے ان کے خلاف مضبوط امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسرائیلی جیل میں قید مروان برغوثی کو ایک مضبوط امیدوار سمجھا جارہا تھا لیکن انہوں نے بعض فلسطینی گروہوں کے کہنے پر اپنے کاغذات واپس لے لیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||