نئے فلسطینی صدر کیلیے ووٹنگ شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی عوام آج یاسر عرفات کا جانشین منتخب کر رہے ہیں اور اسرائیل نے راہدای کی پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔ ووٹنگ برطانیہ کے معیاری وقت کے مطابق صبح پانچ بجے شروع ہوئی اور بارہ گھنٹے جاری رہے گی اور فلسطین میں شام سات بجے ختم ہو گی۔ اصل مقابلہ دو حریفوں محمود عباس اور زیادہ جمہوریت کے لیے سرگرم مصطفیٰ برغوتی کے درمیان ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے پولنگ کے دوران فلسطینیوں کی آمد رفت پر پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ یروشلم سے صحافی ہریندر مشرا نے اسرائیلی حکام کے موقف کے بارے میں بتایا ہے کہ گزشتہ روز ایک اسرائیلی سپاہی فلسطینی حملے میں ہلاک ہو گیاتھا جس کے بعد اسرائیل نے کہا ہے کہ اگر اسے محسوس ہو گا کہ فلسطینی حملے کا خطرہ ہے تو وہ پابندیاں سخت کر دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطینی عوام میں ان انتخابات کے حوالے سے کوئی زیادہ جوش و خروش نہیں پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے اور یہ تنظیمیں فلسطینی عوام میں کافی مقبول ہیں۔ مشرا کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور جس کے پیش نظر الفتح نے، جس کے سربراہ محمود عباس ہیں، ان تنظیموں کو متنبہ کیا ہے کہ تشدد فلسطینی عوام کے لیے نقصان دہ اور ان کے مفاد کے خلاف ہے۔ اسرائیلی پابندیوں کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ انتحابات کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے آٹھ سو کے لگ بھگ غیر ملکی مبصرین نے اسرائیل کی نگراں چوکیوں کا جائزہ لیا اور ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی نے پابندیاں نرم کی ہیں لیکن ابھی اور بہت کچھ کیا جا سکتا تھا۔ انتخابات کے لیے پولنگ اتوار کو ہی مکمل ہو جائے گی اور توقع ہے کہ نتائج بھی اسی روز سامنے آ جائیں گے۔ فلسطینی انتخابی کمیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہیں نتائج اتوار ہی کو مکمل ہونے کی توقع ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||