فلسطینی انتخاب، مہم میں تیزی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطین میں نو جنوری کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے انتخابی مہم تیز ہوگئی ہے۔ غرب اردن کے علاقے تلکرم میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الفتح کے صدارتی امیدوار محمود عباس نے اسرائیل کو مغربی کنارے سے دیوار ہٹانے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی رکاوٹوں سے اسرائیل میں نہ تو امن آئے گا اور نہ ہی اسے تحفظ حاصل ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا ’اگر اسرائیل انصاف پر مبنی امن کا خواہاں ہے تو اسے دیوار گرانا ہوگی‘۔ سات سو کلومیٹر لمبی دیوار غرب اردن میں مغرب سے شروع ہو کر تلکرم کے شمال تک جائے گی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس دیوار کا مقصد فلسطینی خود کش حملہ آوروں کو روکنا ہے مگر فلسطین کا موقف ہے کہ اس دیوار کی آڑ میں اسرائیل مزید علاقے پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ تازہ ترین اندازوں کے مطابق محمود عباس کو اپنے قریب ترین حریف مصطفیٰ برگوتی پر نمایاں برتری حاصل ہے۔ بائیں بازو کے پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین نے انسانی حقوق کے علمبردار برگوتی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حمایت کے بعد برگوتی کے انتخاب میں دوسرے نمبر پر آنے کے چانسز بڑھ گئے ہیں۔ برگوتی کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز اسرائیلی پولیس نے برگوتی کو مشرقی یروشلم میں انتخابی مہم کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔ ایک خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے غزہ سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینی صدارتی امیدواروں، سید براکا اور عبد لکریم شبیر، کو مغربی کنارے میں انتخابی مہم کے لیے اجازت نہیں دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||