اسرائیل کو امریکہ کا مشورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے اسرائیل کو فلسطین کے خلاف جوابی فوجی کاروائی کے بارے میں تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ بدھ سے اب تک اسرائیلی فوجی کاروائیوں میں چالیس فلسطینی اور تین اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ جمعہ کو اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کے بعد سوسے زائد ٹینک شمالی غزہ پٹی کی طرف روانہ کیے گئے تھے۔ ہفتے کو الگ الگ واقعات میں دو فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان کے فوجیوں نے اس وقت چار شدت پسندوں کو مار گرایا جب وہ غزہ پٹی کی سرحد پر واقع ایک گاؤں میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں دو اور فلسطینی اسرائیلی ہوائی حملے میں ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ بقول اسرائیلی افسران ان میں سے دو اسلامی جہاد کے شدت پسند تھے۔ غزہ پٹی اور اسرائیل سرحد کے قریب اریز میں ہونے والے ایک حملے کو روکنے کی کوشش کے بعد یہ حملے پیش آئے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی خصوصی فورس کا یہ حملہ اس وقت شروع کیا گیا جب بقول اسرائیل جب غزہ اور اسرائیل کے درمیان اریز پر حملہ کے لیے آنے والوں سات افراد کے ایک گروہ کو روکنے کی کوشش میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اس کا قریبی اتحادی ہے۔ اور اسے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ تاھم اسے طاقت کے غیر معمولی استعمال سے گریز کرنا چاہیئے۔ امریکی حکومت کے ترجمان آدم اریلی نے کہا ’ہر صورت میں عام شہریوں کے جان و مال کو تحفظ دیا جانا چاہئیے ‘۔ ادھر فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ جبالیہ، بیت الحنون اور بیت الاحیہ شہروں میں کئی اسرائیلی ٹینک آچکے ہیں۔ پچھلے دو سال میں پہلی مرتبہ اسرائیلی ٹینک جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔ جہاں تقریباً ایک لاکھ پناہ گزین ہیں اور شاید اس اعتبار سے یہ سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کےایک اعلٰی مشیر زلمان شوول نے بی بی سی کو بتایا ’ کوئی حکومت یہ گوارہ نہیں کر سکتی کہ ایسی صورتحال پیدا ہو جائے کہ جب دہشت گرد عام شہریوں کو مزائیلوں اور توپوں کے نشانے پر رکھ دیں۔‘ لیکن فلسطینی کابینہ کے وزیر صائب ارکات نے کہا کہ ’’اسرائیل غیر متناسب فوجی کاروائی کر رہی ہے‘‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||