انتخابات: حماس کی اچھی کارکردگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے خلاف مسلح جدوجہد کی حامی اور خود کش حملے کرنے والی جماعت حماس نے فلسطین کے بلدیاتی انتخابات میں ابتدائی نتائج کے مطابق اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی انتخابات میں ایک لاکھ چالیس ہزار فلسطینیوں نے اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹ ڈالنے کی شرح چوارسی فیصد رہی۔ چھبیس میں سے اکیس بستیوں سے ملنے والے ابتدائی نتائج کے مطابق الفتح پہلے نمبر پر ہے اور حماس دوسرے پر۔ ایک انتخابی اہلکار کے مطابق حماس کو کچھ علاقوں میں الفتح پر برتری حاصل ہے۔ ان انتخابات میں حصہ لے کر حماس پہلی بار جمہوری عمل میں شامل ہوئی ہے۔ حماس نے جنوری میں ہونے والے صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔ حماس اسرائیل کے ساتھ ہونے والے آسلو معاہدے کو تسلیم نہیں کرتی جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی وجود میں آئی تھی اور جس کا سربراہ جنوری میں ہونے والے انتخابات میں چنا جائے گا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک بلدیاتی انتخابات حماس کے لیے غزہ سے باہر الفتح کے مقابلے میں مقبولیت کا امتحان تھا۔ انتخابات میں پی ایف ایل پی اور کچھ آزاد امیدواروں نے بھی حصہ لیا۔ غزہ کی پٹی میں لوکل کونسل کے انتخابات جنوری میں ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||