’تاریخی پیش رفت ہو سکتی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیرِ اعظم ایریئل شیرون نے کہا ہے کہ اگلا سال اسرائیل اور فلسطین کے تعلقات کے حوالے سے بہت اہم ہوگا جس میں تاریخی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سالانہ پالیسی تقریر کے دوران ایریئل شیرون نے کہا کہ سن دو ہزار پانچ ایک عظیم موقع فراہم کرنے والا سال ہوگا۔ ان کی اس رجائیت اور امید کا پس منظر یاسر عرفات کی وفات کے بعد فلسطین کی نئی صورتِ حال اور اسرائیلی فوج کا غزہ سے واپس جانے کا فیصلہ ہے۔ ایریئل شیرون نے یہ اعلان بھی کیا کہ اسرائیل فلسطینی کے ساتھ شاید کسی نئے وسیع امن معاہدے کا دروازہ بھی کھول دے۔ یروشلم سے بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ اپنی تقریر میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بہت سے ایسی باتیں کیں جو نئی نہیں تھیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے بتایا کہ وہ مستقبل میں بھی وہی کریں گے جو وہ ماضی میں کرتے رہے ہیں اور اپنی تقریر میں انہوں نے آئندہ کے پروگراموں کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نئی فلسطینی قیادت کے ساتھ رابطے کے ساتھ غزہ سے فوجوں کی واپسی کا عمل مکمل کرے گا۔ ایریئل شیرون نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر فلسطینی امن کے عمل میں پیش رفت چاہتے ہیں تو ان کو دہشت گردی بند کرنا ہوگی۔ انہوں نے اسرائیل کی دفاعی حکمتِ عملی کا کارنامے کا بھی تذکرہ کیا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے امریکہ کے اس وعدے کا بھی ذکر کیا کہ وہ اسرائیل کو بڑی بستیاں غربِ اردن میں رکھنے اور اسرائیلی مہاجرین کی واپسی کے حق کی بات نہیں کرے گا۔ ماضی میں فلسطینی یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر حالات اس طرح کے رہے تو امن معاہدہ ہونا ناممکن ہوگا۔ ایریئل شیرون نے مصر کے ساتھ بہتر تعلقات کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اسرائیل غزہ اور مصر کے سرحدی زون سے فوج واپس بلا سکتا ہے اگر مصر وہاں سے فلسطینیوں کی اسلحے کی سمگلنگ روکنے کے لیے کام کرے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||