فلسطین : الیکشن جنوری میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی حکام نے بتایا ہے کہ فلسطین میں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ نو جنوری کو ہو گی۔ اس وقت تک فلسطین کا انتظام یاسر عرفات کی وفات کے بعد تشکیل پانے والی قیادت چلائے گی۔ تنظیمِ آزادیِ فلسطین یا پی ایل او کے موجودہ سربراہ اور سابق وزیرِاعظم محمود عباس کو الفتح نے اپنا صدارتی امیدوار نامزد کیا ہے۔ محمود عباس صدارت کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ انکے علاوہ متوقع امیدواروں میں فلسطینی وزیرِاعظم احمد قریع اور الفتح کے موجودہ سربراہ فاروق قدومی شامل ہیں۔ عبوری صدر راہوی فتوح کا کہنا ہے کہ تمام امیدواروں کو بیس نومبر کے بعد انتخابات کے لیے مہم ستائیس دسمبر کو شروع ہو گی اور ووٹنگ سے ایک دن پہلے تک جاری رہے گی۔ فلسطینی قانون کے مطابق صدر کی معذوری یا وفات کے ساٹھ دن کے اندر اندر انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔ عبوری صدر نے یہ بھی کہا کہ ووٹروں کی رجسٹریشن جاری ہے۔ علاوہ ازیں سینیئر فلسطینی رہنما صائب اراکات نے امریکہ اور یورپی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو آزاد اور شفاف انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے باز رکھیں۔ ادھر یروشلم کے دو لاکھ فلسطینیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق اسرائیلی کابینہ میں اختلافات سامنے آئے ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ سلوان شالوم نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں یروشلم میں رہنے والے فلسطینیوں کو فلسطین کے صدارتی انتخابات میں حقِ دائے دہی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اسرائیلی ریڈیو سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یروشلم کے دو لاکھ فلسطینیوں کو ووٹ کا حق دینے سے مستقبل میں یروشلم شہر کی حیثیت پر سوال اٹھ سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام نے وزیرِاعظم ایرئل شیرون کے حوالے سے کہا ہے کہ کہ وزیرِاعظم شیرون، سلوان شالوم کے بیان سے متفق نہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مشرقی یروشلم کے فلسطینیوں نے 1996 کے انتخابات میں بھی حقِ دائے دہی استعمال کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||