فلسطین میں بلدیاتی انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک لاکھ چالیس ہزار فلسطینی جمعرات کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔یہ فلسطین میں تیس برس میں ہونے والے پہلے بلدیاتی انتخابات ہیں۔ان انتخابات میں نو سو امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والے یہ انتخابات اگلے ماہ کی نو تاریخ کو ہونے والے ان انتخابات کی ایک ریہرسل ہے جن میں یہ فیصلہ کیا جانا ہے کہ یاسر عرفات کا جانشین کون ہوگا۔ اس بات کی بھی توقع کی جا رہی ہے کہ ان انتخابات سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ الفتح تحریک اور حماس میں سے کون سا گروپ زیادہ طاقتور ہے۔ فلسطینی علاقے میں اس طرح کے آخری انتخابات انیس سو چھہتر میں ہوئے تھے۔ بلدیاتی الیکشن کمیشن کے سربراہ فراس یاغی نے خبر رسان ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ یہ ایک انتہائی اہم انتخابات ہیں کیونکہ ان سے صدارتی انتخابات کی راہ ہموار ہو گی‘۔ فلسطین کے صدارتی انتخابات میں الفتح تنظیم کے امیدوار محمود عباس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ حماس نے اگرچہ صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے لیکن اس کے نامزد کردہ امیدوار جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ حماس کسی بھی قسم کے انتخابی عمل میں شریک ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات غزہ کے علاقے میں حماس کی حمایت کو پرکھنے کے لیے کسوٹی کا کام کریں گے۔ الفتح تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ یہ انتخابات جیت جائیں گے۔الفتح کے ایک سینئیر رہنما حسین شیخ نے کہا کہ ’ یہ انتخابات حماس اور الفتح کے درمیان ایک چیلنج ہیں۔ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی جمہوریت کو ترس رہے ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ الفتح جیت جائے گی‘۔ چھبیس بلدیاتی حلقوں میں ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے شروع ہو گی اور بارہ گھنٹے تک جاری رہے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||