غزہ: فلسطینی ہلاکتوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی حکام کے مطابق غزہ کی پٹی میں خان یونس کیمپ پر اسرائیلی دراندازی کے دوسرے دن مزید تین فلسطینی ہلاک ہو گئے۔اس طرح حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد گیارہ ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے بہت سے گھروں کو مسمار کر دیا ہے ۔اس واقعہ میں اب تک کم از کم تیس افراد زخمی اور تین سو بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر میں دو خالی عماتوں پر میزائلوں سے حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ عمارات اسلحہ ساز فیکٹریاں تھیں۔ طبی امداد فراہم کرنے والے افراد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ فلسطینی مردہ افراد کو دفنا نہیں پا رہے کیونکہ اسرائیلی فوج نے مقامی قبرستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن نزدیکی یہودی بستیوں پر مارٹر اور راکٹ حملوں پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے اور یہ کئی دن جاری رہ سکتا ہے۔ اسرائیلی لیفٹنٹ کرنل آفر ونٹر نے ایک فوجی ریڈیو پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی آبادیوں میں حالات کے پرسکون ہونے تک فوج علاقے میں رہے گی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران غزہ کی پٹی سے کے علاقے سے ان پر تیس کے قریب مارٹر اور راکٹ فائر کیے گئے۔ ایک اور واقعے میں چھ فلسطینیوں کو اسرائیلی علاقے میں ایک تباہ شدہ سرنگ سے زندہ نکال لیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ لوگ سرنگ میں بارہ گھنٹے پھنسے رہے۔حکام کے مطابق یہ سرنگ سمگلنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اسرائیل نے غزہ کے علاقے پر 1967 سے قبضہ کیا ہوا ہے لیکن اب وہ علاقے سے یہودی بستیوں اور ان کی حفاظت کرنے والی فوج کو معاہدہ کے تحت نکال رہا ہے۔ معاہدہ کے تحت اسرائیل غزہ کے علاقے کی زمینی، فضائی اور بحری سرحد کی حفاظت کا مجاز ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||