غزہ دراندازی: 11 ہلاک 40 زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی غزہ کے پناہ گزین کیمپ سے نکل آئی ہے اور اس طرح دو روز کی دراندازی ختم ہوگئی ہے۔ تاہم اس واقعے میں ہفتے کی شام بھی تین فلسطینی مارے گئے اور اس طرح مرنے والوں کی کل تعداد گیارہ ہوگئی ہے جبکہ چالیس کے قریب زخمی ہیں۔ غزہ کی پٹی میں خان یونس پناہ گزین کیمپ پر دو روزہ اسرائیلی دراندازی میں فلسطینیوں کے کئی گھروں کو مسمار کر دیا گیا اور تقریباً تین سو فلسطینی خاندانوں کو علاقے سے بھاگنا پڑا ہے۔ اسرائیل انیس سو سڑسٹھ سے غزہ کی پٹی پر قابضں ہے۔ اسرائیلی فوجی کی تازہ ترین دراندازی فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی وفات کے بعد اسرائیلی کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف سب سے بڑی کارروائی ہے۔ ہفتے کی شام اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فوج علاقے سے واپس آ رہی ہے اور وہاں کے رہائشیوں نے بھی یہ کہا کہ اسرائیلی ٹینک علاقہ خالی کر رہے ہیں۔ ادھر ہفتے کی رات سینکڑوں وہ فلسطینی، جو اپنے گھروں سے دور چلے گئے تھے، اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد انہوں نے اپنے علاقے کی طرف واپس آنا شروع کر دیا۔ اے پی کے مطابق ان میں سے بیشتر نے دیکھا کہ یا تو ان کے گھروں کو مسمار کر دیا گیا ہے یا پھر انہیں بری طرح نقصان پہنچایا گیا ہے۔ تاہم فلسطینیوں کے علاقے میں اسرائیلی کارروائی سے ہونے والے حتمی نقصان کا اندازہ فوری طور پر نہیں لگایا جا سکا۔ اسرائیلی فوج کی واپسی سے قبل، فلسطینی اپنے مرنے والوں کی تدفین نہیں کر سکے کیونکہ اسرائیلی فوج علاقے پر قابض تھی۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں پر ٹینک شکن راکٹوں اور بموں سے حملہ کیا گیا تھا تاہم کوئی اسرائیلی فوجی زخمی نہیں ہوا۔ فوج کے مطابق خان یونس کیمپ میں دراندازی کا مقصد یہودی بستیوں پر مارٹر اور راکٹ حملوں کی کارروائیوں کو کم کرنا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||