 |  فلسطینی انتخابات |
اتوار نو جنوری کو فلسطینی صدر کے انتخابات ہورہے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان انتخابات میں محمود عباس المعروف ابو مازن فاتح ہوں گے جن کے اہم مدِ مقابل مصطفےٰ برغوثی ہیں۔ محمود عباس اور مصطفے برغوثی دونوں کو معتدل رہنما تصور کیا جاتا ہے اور دونوں ہی نے گزشتہ چار سال سے جاری فلسطینی انتفاضہ کے مختلف پہلوؤں پر تنقید کی ہے۔ اگر محمود عباس انتحابات جیت جاتے ہیں اور فلسطینی جنگجووں کو روکنے میں کامیاب رہتے ہیں تو لندن اور واشنگٹن پہلے ہی فلسطین اور اسرائیل دونوں کو امن کے لیے ایک میز پر لانے کے ارادے کا اظہار کرچکے ہیں۔ اس صورت میں اسرائیلی وزیرِ اعظم ایرئیل شیرون کا وہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے جس پر وہ یکطرفہ طور پر عمل درآمد کررہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ دوسری طرف بات کرنے کے لیے کوئی رہنما موجود نہیں۔ آپ کے فلسطینی انتخابات کے بارے میں کیا تاثرات ہیں؟ کیا مصطفےٰ برغوثی ابو مازن کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں؟ کیا محمود عباس کا انتخاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دوبارہ امن کی کوششوں کے لیے پہلا قدم ثابت ہوگا؟ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کے حل ہونے پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا کیا ردِّعمل ہوگا؟ آپ کی رائے آپ اپنی رائے، اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھی بھیج سکتے ہیں۔
محمد اسلم خان، سندھ: میرے خیال سے محمود عباس فلسطین کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں کیونکہ اسرائیل بھی انہیں پسند کرتا ہے۔ ثناء حبیب، امریکہ: اللہ کرے یہ انتخابات اچھے ہوجائیں۔ فیصل انعام، دوبئی: جب تک ساری فلسطینی قوم ایک ساتھ نہیں ہوتی اس وقت تک انتخابات بے معنی ہیں کیونکہ اب تک کبھی کوئی ایسا قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے سب سے پہلا مسئلہ اسرائیل کی واپسی ہے۔ جب تک اس کے بڑے تحفظات دور نہیں ہوتے جب تک کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ آفتاب خشخیلی، سندھ: میرے خیال میں الیکشن فلسطینیوں کے لئے اچھا نہیں ہے، وہ اسرائیل سے آزادی چاہتے ہیں۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: امریکہ اور اسرائیل اپنے مطلب کا مضبوط امیدوار چاہتے ہیں جو ان کو اس کمزور ریاست سے چاہئے۔ اور محمود عباس سے اچھا کوئی انہیں نہیں ملے گا۔ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی: یاسر عرفات کے بعد اب جو بھی آئے گا سب ہی اس میں ان جیسی صفات دیکھنا چاہیں گے، ان جیسے بےلوث اور حب الوطنی، لیکن سب انسان ایک جیسے تو ہو نہیں سکتے۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ الیکشن جن بنیادور پر ہورہے ہیں وہ حقیقی ہیں یا ان کے پیچھے کہیں کوئی اور ہاتھ تو نہیں۔۔۔۔ جاوید جمال الدین، ممبئی: یاسر عرفات کے انتقال کے بعد دوسری لائن کے لیڈر پر زیادہ ذمہ داری آگئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی لیڈرشِپ فلسطینی مجاہدین کے حملوں کا بہانہ کرکے اپنے آپ کو امن کے قیام سے نہیں روک سکتی ہے۔ اب امریکہ اور یورپی یونین کو پہل کرنا ہوگا۔ اس الیکشن کا نتیجہ کچھ بھی او اس خطے میں امن انتہائی ضروری ہے۔۔۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: ارے صاحب اگر پاکستان اور بھارت بنیادی نظریات کے اختلاف کے باوجود ایک ہمسائے کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں تو فلسطین اور اسرائیل کی ریاستیں ایک ساتھ کیوں نہیں پنپ سکتیں، یقینا اس تنازعے کا حل پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے انتہائی خوش آئند ہوگا۔ مگر اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کا حل اس وقت تک ممکن نہیں نظر آتا جب دونوں طرف کے لیڈروں کی سوچ میں تنگ نظری اور نفرت کا عنصر کم نہیں ہوجاتا۔۔۔۔ حامد مروات، اسلام آباد: کوئی بھی فلسطینی انتخابات جیتے امن نہیں آئے گا کیونکہ فلسطینیوں کے ساتھ جنگ سے اسرائیلیوں میں اتحاد پیدا ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے اسرائیل کو وہ فائدے ہوتے ہیں جو امن کے ذریعے نہیں حاصل ہوسکتے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: میں نہیں سمجھتا ہوں کہ الیکشن کے ذریعے فلسطین کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے جو یاسر عرفات چالیس سال میں نہ حل کرسکے اور دل میں لے کر چلے گئے۔ صرف ایک حل ہے: فلسطین کو خود مختار ریاست تسلیم کیا جائے۔ عامر مستوئی، ڈیرہ غازی خان: فلسطینی لیڈروں کی اقتدار کی بھوک کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ وہ ایک ایسی قوم پر اقتدار کرنا چاہتے ہیں جس کا ہر فرد صبح یہ سوچ کر اٹھتا ہے کہ شاید اس کا آخری دن ہوگا۔ اور اس سے بھی زیادہ حیرت مجھے فلسطینیوں پر ہے جو اس ڈرامہ میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ ان کا اولین مقصد تو آزادی ہونا چائے نہ کہ انتخابات۔۔۔ انجینیئر محمد صلاح الدین، پاکستان: فلسطین ان لوگوں کے قبضے میں اس لئے نہیں ہے کہ وہ بہتر ہیں بلکہ اس لئے کہ مسلمانوں کے اندر کمیاں ہیں۔ میں جب مسلم تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ مصطفیٰ برغوثی ابو ماذن سے انتخابات ہار جائیں گے۔ اس لئے نہیں کہ ابو ماذن فلسطینیوں کی آواز ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ ان لوگوں کی آواز ہیں جو فلسطینیوں پر ظلم ڈھارہے ہیں۔ علی چشتی، کراچی: مجھے فلسطینی انتخابات سے کوئی امید نہیں ہے۔ جو بھی انتخابات جیتے اس کے لئے فلسطینی شدت پسند گروہوں کی جانب سے تسلیم کیے جانے کا مسئلہ ہوگا۔ وہ ایسا صدر ہوگا جس کا کوئی مددگار نہیں ہوگا، ایک ایسے ملک کا صدر جو قائم بھی نہیں ہوا ہے۔۔۔۔ کیرن جِبران، واٹرلو، کینیڈا: آپ کو رائے دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ آپ بھی اپنی مرضی کی رائے ہی لیتے ہیں۔ لگتا ہے کہ آپ پر بھی زمانے کی ہوا کا اثر ہوگیا ہے۔ عفاف اظہر، ٹورانٹو: ہمارے تصورتا سے کیا ہوگا جس کے سر پر بش صاحب شفقت کے ہاتھ رکھ دیں گے وہ ہی منتخب ہوگا۔ رہی بات اسرائیل کی اس مسئلے کو کسی کا حل کرنے کا نہ تو کوئی ارادہ ہے نہ ہی کبھی تھا۔ عارف جبار، سندھ: فلسطین میں بہت خون خرابہ ہوچکا ہے۔ اب امن ہونا چاہئے۔ وہاں کے عوام پر بہت ظلم ہوئے۔ اب بھی فلسطین کو یاسر عرفات جیسے بہادر رہنما کی ضرورت ہے جو فلسطینیوں کو ان کا حق دلاسکے۔ محمد سہیل انصاری، بدایوں، اترپردیش: امید پر دنیا قائم ہے اور میں امید کے ساتھ ساتھ دعا بھی کرتا ہوں کہ امن قائم ہو۔ لیکن جب بات ہاتھ پر آجائے اور کوئی من مانی کرنے لگے تو مسئلے حل ہونے کی جگہ بڑھتے جاتے ہیں۔ کسی کے جیتنے سے اثر نہیں پڑے گا جب تک کی دل میں سچائی اور ایمانداری سے کام نہیں کیا جائے۔ جب یاہاں تو ایمانداری کا پوری طرح فقدان ہے۔ غلام فرید شیخ، سندھ: یہ تو اچھی بات ہے کہ الیکشن ہورہی ہے لیکن کیا معلوم کہ اس الیکشن میں وہ امیدوار جیتے گا جو فلسطینی کاز کے لئے کام کرے۔۔۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں ایسا کینڈیڈیٹ نہ آجائے جو فلسطین کے خلاف کام کرے۔۔۔۔ بس میری تو یہی دعا ہے کہ اللہ پاک پورے عالم میں امن قائم کرے اور ظالم کو تباہ اور برباد کرے۔ خالد اقبال، سوات: یاسر عرفات کے بعد آزادی کی جانب فلسطینیوں کی قیادت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ تنویر کاظمی، واہگہ کینٹ: پہلے تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا محمود عباس اور برغوثی بھی دوسرے مسلمان ملکوں کے رہنماؤں کی طرح امریکہ کے زر خرید تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان میں سے کوئی بھی کامیاب ہوجائے فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ اور اگر ہوا بھی تو اس میں فلسطینی عوام کے لئے کوئی چارم نا ہوگا۔ سید وسیم رضا، کینیڈا: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون جیتے گا۔ اس وقت فلسطینی امن اور حقوق انسانی کی تلاش میں ہے۔ اگرچہ محمود عباس قوم کے لئے اچھے رہنما لگ رہے ہیں، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل میں ان کی قیادت کیسی ہوگی کیونکہ اگر انہوں نے مسئلے کو دوسری جانب سے حل کرنے کی کوشش کی تو ہم اسرائیل پر اعتبار نہیں کرسکتے۔ تنویر رزاق، فیصل آباد: امریکہ اور اسرائیل کبھی بھی فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہونے دیں گے کیونکہ یہ مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ یاسر عرفات اتنی تگ و دو کرتے کرتے اس دنیا سے چلے گئے وہ بھی اس مسئلے کو حل نہیں کرواسکے، اب کہاں ہوگا۔ عبداللہ، ماڈل ٹاؤن: مغرب نواز ہر جگہ جیت جاتے ہیں، افغانستان ہو عراق ہو یا فلسطین۔ راشد بزدار، آسٹریلیا: آپ اسرائیل کو امریکہ کی ایک ریاست کہہ سکتے ہیں۔ امریکہ کبھی بھی اور کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ سِنسیئر نہیں رہا۔ فلسطین کے علاقے میں وہ کبھی مسلمانوں کو امن سے رہنے نہیں دے گا۔ اب وہاں الیکشن کے بعد دیکھیں وہ کون سا نیا ڈرامہ چلتاہے۔ محمود عباس ایک اعلیٰ پایہ کے لیڈر ہیں اور سب معاملات کو سمجھتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ الیکشن کے بعد امن کی کوششوں کو جاری رکھیں گے۔ |