BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 April, 2004, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں خانہ جنگی پھیل رہی ہے؟
کیا عراق میں خانہ جنگی پھیل رہی ہے؟
مقتدی الصدر کی تصویر لیے امریکہ کے مخالفین
عراق میں لگ بھگ ایک ہفتے سے امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت زور پکڑ رہی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پہلی بار شیعہ اور سنی برادریوں کے مقامی رہنماؤں نے عراق میں امریکی موجودگی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ تاہم اس مزاحمت میں اہم کردار شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کا ہے جنہوں نے امریکی افواج سے چلے جانے کو کہا ہے اور ان کے حامی مسلح لڑائی کررہے ہیں۔ امریکہ نے ان کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہیں۔

کئی شہروں میں لاقانونیت، مزاحمتی تشدد اور امریکی فوجی کارروائیوں کا عالم ہے۔ مسلح افراد نے کئی غیرملکیوں کو یرغمال کرلیا ہے جن میں فوجی اور امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔ عراق کی گورننگ کونسل نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلوجہ اور دیگر شہروں میں شیعہ اور سنی گروہوں اور اتحادی فوجوں کے درمیان جاری جھڑپوں کا سیاسی حل تلاش کیا جانا چاہئے۔

پوری دنیا میں جنگِ عراق کے حامی اور مخالفین کی کمی نہیں ہے۔ جذبات مشتعل ہیں۔ فلوجہ اور دیگر عراقی شہروں میں جاری مزاحمت، تشدد اور امریکی کارروائی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس مسئلے کا کیا حل ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


امن کیسے بحال کیا جائے؟
ہمیں امریکہ کو عراق پر قبضہ کرنے کا الزام دیتے رہنا بند کرنا ہوگا۔ یہ غلط تھا یا درست، سوال یہ ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ میں امن کیسے بحال کیا جائے؟
ابو جیبارہ، سعودی عرب

ابو جیبارہ، سعودی عرب: ہمیں امریکہ کو عراق پر قبضہ کرنے کا الزام دیتے رہنا بند کرنا ہوگا۔ یہ غلط تھا یا درست، سوال یہ ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ میں امن کیسے بحال کیا جائے؟ ایک نئے عراق اور محفوظ فلسطین کی تعمیر کیسے کی جائے؟ خطے میں افراتفری انہی دو کے باعث ہے۔ امیکی انتظامیہ کو دہشت گردی اور اسرائیلاور عراق اور فلسطین میں بغاوت کے خلاف ایکشن لینا ہوگا۔

عیسیٰ فرہاد، اندھرا پردیش: عراق پر جنگ مسلط کرنے کے لئے ایک غریب ملک کو جان بوجھ کر بہت زیادہ خطرناک بنا کر پیش کیا گیا۔

ابو وفا شیخ قاسم، سعودی عرب: صدام نے ایک کام تو اچھا کیا کہ اپنے آخری دنوں میں عام لوگوں کو بھی اسلحہ چلانا سکھا دیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب جب کسی گھر پر ظلم ہوتا ہے تو وہاں کوئی نہ کوئی بچ جانے والا غیر ملکی فوجیوں کے خلاف ضرور لڑنے پر اتر آتاہے۔

خالد خان، لاہور: لگتا ہے کہ برطانوی فوجوں کا رویہ اور صورتِ حال سے نمٹنے کا طریقہ کار تو بالکل درست ہے لیکن امریکی میڈیا اور افواج دونوں ’کاؤ بوائز‘ کا انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ نہ تو ان کی حکمتِ عملی کی کوئی منطق ہے اور نہ ہی وہ زمینی صورتِ حال سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میرا اور میرے ساتھیوں کا خیال ہے کہ امریکہ نہ صرف خود کو بلکہ دنیا بھر کو مسائل سے دوچار کرے گا۔

کاؤ بوائز
 برطانوی فوجوں کا رویہ اور صورتِ حال سے نمٹنے کا طریقہ کار تو بالکل درست ہے لیکن امریکی میڈیا اور افواج دونوں ’کاؤ بوائز‘ کا انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔
خالد خان، لاہور

شفیق خان، بنگلور: عراق سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد کون ذمہ دار ہوگا؟ کیااس کا حال روسی فوجوں کے جانے کے بعد افغانستان جیسا نہیں ہوگا؟ اللہ عراق اور افغانستان کو اچھے قائدین عطا کرے۔

شکیل، خیبر ایجنسی: شیعہ سنی زندہ باد، یہی موقعہ ہے ایک ہونے کا اور امریکیوں کو سبق سکھانے کا۔

اسلم وزیر، وزیرستان: عراق میں امریکہ کو شکست ہوگی کیونکہ یہ کچھ ممالک کا منصوبہ ہے کہ امریکہ کو جنگ میں ملوث کرکے اس کی معیشت تباہ کر دی جائے۔

علی رضا، کراچی: امام خمینی کا فرمان ہے کہ اگر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں آیا تو ایسے پھنس جائے گا جیسے چوہا چوہے دان میں پھنس جاتا ہے اور یہ سو فیصد سچ ثابت ہوا۔ اب چوہے دان سے نکلنے کی کوشش میں چوہے کا انجام کیا ہوتا ہے، اپ کو پتہ ہی ہے۔ یاد رہے کہ شیعہ اور سنی میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے۔ امام خمینی نے ہی کہا تھا کہ جو شخص شیعہ اور سنی میں اختلاف ڈالے یا سمجھے وہ نہ شیعہ ہے، نہ سنی۔

سجاد محمود، امریکہ: اللہ بعض دفعہ غیرمسلموں کے ذریعے اسلام کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ امریکہ کی وجہ سے شیعہ سنی عراق میں متحد ہو رہے ہیں۔ اتحاد ہی میں مسلمانوں کی کامیابی ہے۔ مسلمان حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے ورنہ ایک ایک کرکے سب کی باری آجائے گی۔

کیون، نیو یارک: ایک امریکی فوجی کے طور جب میں اپنے ساتھیوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے گہرا دکھ ہوتا ہے۔ مجھے بھی بدقسمتی سے عراق پر حملے میں حصہ لینے کا اور عام عراقی شہریوں سے بات کرنے کا بھی موقعہ ملا تھا۔ ایک سمجھدار عراقی نے کہا تھا کہ عراقی اپنے ملک پر قبضہ پسند نہیں کرتے اور وہ امریکہ کے خلاف بغاوت کریں گے۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ عراق پر حملہ اور اس کے حکمران کو ہٹانا ایک غلط اقدام تھا۔ اس مشن کی سربراہی اقوامِ متحدہ کے پاس ہونی چاہئے لیکن ظاہر ہے کہ ہمارے چھوڑے ہوئے کچرے کو آکر کوئی صاف نہیں کرنا چاہتا۔

امریکی فوجی کے طور پر۔۔۔
 ایک امریکی فوجی کے طور جب میں اپنے ساتھیوں کو مرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے گہرا دکھ ہوتا ہے۔ مجھے بھی بدقسمتی سے عراق پر حملے میں حصہ لینے کا اور عام عراقی شہریوں سے بات کرنے کا بھی موقعہ ملا تھا۔ ایک سمجھدار عراقی نے کہا تھا کہ عراقی اپنے ملک پر قبضہ پسند نہیں کرتے اور وہ امریکہ کے خلاف بغاوت کریں گے۔
کیون، نیو یارک

احمد یاسر، کراچی: جب تک مسلمان اپنے عمل کو نہیں سدھاریں گے اللہ کا قہر چنگیز و لاکو خان، کبھی روس و اسرائیل اور صدام و امریکہ کی صورت میں برستا ہی رہے گا۔

علی صدیقی، کراچی: عراق میں جو کچھ ہوا بہت اچھا ہوا مگر عراقیوں کی شہادت کو چھوڑ کر۔ افغانستان میں بھی اسی طرح کی کاروائیاں ہونی چاہئیں۔

امیر نصیر، گجرانوالہ: جب عراق پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا تو پھر اپنے ملک کی آزادی کے لئے لڑنے والے دہشت گرد کیسے ہو سکتے ہیں؟ عراق سے غیر ملکی فوجوں کو نکل جانا چاہئے۔

عبدالغفور، ٹورنٹو: میں عراق پر امریکی حملے کا کبھی بھی حامی نہیں رہا لیکن صدام حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں طاقت کا ایک بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے جسے موجودہ اتحادی افواج کے نکل جانے سے بھرنا ناممکن ہوجائے گا۔ افغانستان اس کی ایک اچھی مثال ہے جسے روسی افواج کے نکلنے کے بعد مختلف گروہوں کی آپس کی جنگوں نے بالکل تباہ کر دیا۔ ہمیں فلوجہ میں تششد کی حایہ واقعات کی وجہ سے امریکی انخلاء کی توقع نہیں کرنی چاہیِے۔ میری نظر میں یہ عارضی اور غیر منظم مزاحمت ہے۔ پھر امدادی کارکنوں کے اغواء نے اسے دنیا بھر کی نظروں میں اور بھی گرا دیا ہے۔

جہانگیر خان، کوہاٹ: جب تک امریکہ اور پرطانوی سامراج عراق سے نکل نہیں جاتے، عراقی عوام امریکہ کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ جاری رکھیں گے۔

مدثر حنیف، پاکستان: اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ اقوام متحدہ مسلم ممالک کا ایک اجلاس طلب کرے۔

محمد طاہر، سوات، پاکستان: عراق میں خانہ جنگی نہیں ہے، اپنے ملک کا دفاع ہورہا ہے۔

خلیل اخون: میرے خیال میں یہ اللہ کی طرف سے عراقیوں کو جہاد کے لئے تیار کرنا ہے تاکہ یہاں اسرائیل اور امریکیوں کے خلاف میدان تیار ہو۔

اشرف بنیری، پیر بابا بنیر، پاکستان: امریکہ یہ سوچ کر آیا تھا کہ صدام حسین کو ہٹا کر عراقی خوشی منائیں گے اور ہم اپنا مقصد حاصل کرینگے جس میں تیل سرفہرِست ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد: اور جب دل جلتا ہے تو سب کچھ جلتا ہے، یہی کچھ عراق اور افغانستان میں ہورہا ہے۔ امریکہ اور اتحادیوں نے ظلم کیا ہے اور اب مزہ چکھیں گے۔

دہشت گرد کون؟
 امریکہ کی طرف آنکھ اٹھاکر کوئی بھی دیکھے تو وہ دہشت گرد ہے اور امریکہ نے جو پوری دنیا کو خاک و خون میں ملا دیا ہے اس کا کوئی نہ کوئی تو حساب کرے گا؟ شیعہ اور سنی مسلمانوں کو ملکر امریکہ کو عراق سے باہر پھینک دینا چاہئے۔
محمد یومان، میرپور خاص

محمد یومان، میرپور خاص: امریکہ کی طرف آنکھ اٹھاکر کوئی بھی دیکھے تو وہ دہشت گرد ہے اور امریکہ نے جو پوری دنیا کو خاک و خون میں ملا دیا ہے اس کا کوئی نہ کوئی تو حساب کرے گا؟ شیعہ اور سنی مسلمانوں کو ملکر امریکہ کو عراق سے باہر پھینک دینا چاہئے۔

جواد اسدی، ابوظہبی: اللہ نے ہمیں متحد ہونے کا ایک موقع دیا ہے۔

سیف اللہ خان، پیربابا بنیر: سنی تو پہلے ہی امریکہ کے دشمن تھے، اب امریکہ نے شیعہ مسلمانوں کو بھی اپنا دشمن بنالیا ہے۔ امریکہ کی پالیسی امریکہ پر ہی الٹی ہوگئی ہے اور اب وہ صلح کی سوچ رہے ہیں۔ یہ انگلش لوگوں کی پرانی چال ہے، جب ان پر بن جاتی ہے تو صلح کرلیتے ہیں۔

واصف پیرزادہ، امریکہ: میرے خیال میں آج کل مسلمان ایک خودغرض قوم ہیں۔ چاہے وہ انفرادی سطح پر ہو یا لیڈرشِپ کی سطح پر۔ آپ خود دیکھ لیں اکثر عرب ممالک میں سب لیڈر اپنی بادشاہت بچانے کے چکر میں ہیں اور عوامی سطح پر ہر ایک کو اپنی جیب بھرنے اور حیثیت بچانے کی پڑی ہے۔ جب تک یہ لوگ متحد نہیں ہوجاتے اور قوم کے لئے نہیں سوچتے، فلسطین، افغانستان اور عراق جیسے سانحے ہوتے رہیں گے۔

فرحاد خان، کینیڈا: امریکہ نے عراق کو صدام حسین سے آزادی دلادی اور اب امریکہ کو عراق سے چلا جانا چاہئے۔

جواد ظفر، لاہور: کیا امریکہ کے جانے کے بعد عراق کا حال افغانستان جیسا ہوگا؟

عمر سفیان، ڈیرہ غازی خان، پاکستان: میرے خیال شیعہ اور سنی امریکہ کے خلاف لڑیں کیونکہ عراق ان کا ملک ہے۔ مسلم ممالک بھی امریکہ کے خلاف آواز اٹھائیں۔

ظہور خان: دوبئی: میرے خیال میں عراقی صحیح سمت میں جارہے ہیں۔ ہم عراقیوں کی کامیابی کے لئے دعاگو ہیں۔ اس وقت تمام مسلم ممالک کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ عراقی ہتھیار نہ ڈالیں۔

خونِ ناحق بہے گا
 میں تو صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر امریکہ عراق سے کبھی بھی چلا گیا تو یہ غزبناک اسلحہ، یا نقاب پوش مسلح گروہ، ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونگے۔ بغداد میں شیعہ اور سنی مسلح مناظر ہونگے، خونِ ناحق بہے گا اور کوئی ناسمجھ ایک اور ہلاکو خان کو آواز دے گا۔
ظفر محمد خان، مانٹریال
ظفر محمد خان، مانٹریال: میں تو صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر امریکہ عراق سے کبھی بھی چلا گیا تو یہ غزبناک اسلحہ، یا نقاب پوش مسلح گروہ، ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونگے۔ بغداد میں شیعہ اور سنی مسلح مناظر ہونگے، خونِ ناحق بہے گا اور کوئی ناسمجھ ایک اور ہلاکو خان کو آواز دے گا۔

یاسر محمود، میرپور: میرے خیال میں یہ گوریلا وار ہے۔ کچھ وقت کے بعد کچھ وقت کے لئے ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر امریکی فوجی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بالکل ختم ہوجائے گا تو وہ غلطی کررہے ہیں۔ سعودی عرب اور فلسطین کے بعد عراق مسلمانوں کے لئے مقدس مقام ہے۔ اس لئے امریکیوں کے خلاف اس طرح کی چھوٹی جنگیں جاری رہنی چاہئیں۔

فرید شیخ، پاکستان: ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عراق میں خانہ جنگی پھیل جائے کیونکہ وہاں اب کوئی بھی سختی نہیں، سوائے امریکی فوج کے۔ اور دوسری بات یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو ہوش آگیا ہو کہ امریکی فوج ان کے ساتھ مخلص نہیں ہوسکتی۔ اس لئے یہ جنگ شروع ہوگئی ہے۔

مظہر خان، ہریپور، پاکستان: امریکہ کو چاہئے کہ ان ممالک میں مداخلت بند کرے جہاں قدرتی وسائل ہیں۔

شادی عثمانی، کراچی: امریکی ایک فوجی کے بدلے دس عراقیوں کی جان لے رہے ہیں۔

ناظم شیخ، ممبئی: مسلم امہ کے لئے یہ بہت افسوس کا وقت ہے اور سوچنے اور عملی طور پر کچھ کرنے کا ہے۔ مسلمانوں نے آج تک بےحساب غلطیاں کی ہیں۔ اب انہیں دہرانے اور ایک دوسرے پر الزام لگانے کا وقت نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو ہر مسلمان کو، عورت ہو یا مرد، اللہ کے کلام کو سمجھ کر پڑھنا چاہئے۔ اللہ کا کلام پر لمحے مسلمانوں کی مدد کرتا ہے۔

جادل، اسلام آباد: اب اتحادی افواج بہت مشکل میں ہیں اور عراق سے بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک چنگاری
خلیجی جنگ اور گیارہ ستمبر کے بعد افغانستان اور عراق نے دونوں فرقوں کو قریب تو کردیا تھا مگر پرانی دشمنی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔ چنگاری ابھی باقی ہے اور امریکہ اور برطانیہ اس چنگاری کو ہوا دے رہے ہیں۔
ایس حمید خان، اڑیسہ، انڈیا

ایس حمید خان، اڑیسہ، انڈیا: میرے خیال میں امت مسلمہ کے دونوں فرقے کے شدت پسند علماء اس کے ذمہ دار ہیں۔ ایران۔عراق جنگ امریکہ کے شدت پسندوں کی رچائی ہوئی ایک سازش تھی جس کے نتیجے میں ساری امت مسلمہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی۔ خلیجی جنگ اور گیارہ ستمبر کے بعد افغانستان اور عراق نے دونوں فرقوں کو قریب تو کردیا تھا مگر پرانی دشمنی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔ چنگاری ابھی باقی ہے اور امریکہ اور برطانیہ اس چنگاری کو ہوا دے رہے ہیں۔

حسنین جعفری، کوئٹہ، پاکستان: میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو کبھی بھی متحد نہیں کیا جاسکتا، اسلام ناکام رہا ہے، انہیں متحد کرنے میں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام پرفیکٹ مذہب نہیں ہے۔

عبدالحادی، کرغزستان: یہ سب گندی بین الاقوامی سیاست ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ اس میں نقصان ہمیشہ عوام کا ہی ہوا ہے، چاہے وہ کسی یورپی کالونی کے عوام ہوں، یا پہلی جنگِ عظیم میں مسلم دنیا کے عوام، یا دوسری جنگِ عظیم میں مشرقی یورپ کے عوام، یا سرد جنگ کے دوران ویت نام اور افغانستان کے عوام، یا وسطی ایشیا کے نومولود عوام، یا وسطی افریقہ کے غریب عوام، یا پھر عراقی عوام۔ اس گندی بین الاقوامی سیاست میں ہمیشہ عوام کا ہی نقصان ہوتا ہے۔

معاویہ عسکری، پاکستان: شیعہ اور سنی امریکہ کے خلاف اتحاد تو کرسکتے ہیں مگر ایک نہیں ہوسکتے۔ اگر ایک ہوگئے تو سنی یا شیعہ نہیں رہیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد