BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2004, 12:36 GMT 17:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق جنگ اور مغربی انٹیلیجنس
عراق میں وسیع تباہی کے اسلحے نہیں ملے
وسیع تباہی کے اسلحے کہاں ہیں؟
ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ عراق پر حملوں کیلئے انٹیلیجنس کے استعمال کے بارے میں ان کی حکومت تفتیش کرے گی۔ ان پر جنگ مخالف کارکنوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے شدید دباؤ تھا۔ امریکہ میں بھی صدر جارج بش نے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تحت کہا ہے کہ ان کی حکومت انٹیلیجنس کی ناکامی کی انکوائری کرے گی۔ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے سابق تفتیش کار ڈیوِڈ کے نے حال ہی میں کہا تھا کہ عراقی ہتھیاروں سے متعلق مغربی انٹیلیجنس غلط تھی۔

کیا آپ کے خیال میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں تفتیش کی جانی چاہئے؟ یہ انٹیلیجنس کی ناکامی تھی یا کچھ اور؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا: تاریخ میں ہر بڑی طاقت نے اپنے اختتام سے قبل ایسی ہی حرکتیں کی ہیں۔ امریکہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کا وقت جا چکا ہے۔ اس کے اقتصادی مسائل روس کے اسی اور نوے کی دہائیوں کے مسائل سے بڑھ چکے ہیں۔ اسی لئے امریکی اب دنیا کی بلڈ سپلائی (یعنی تیل؟) کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ تاہم دنیا بھر کے نقشے پر موجود تمام اہم دارالحکومت امریکی خاتمے کے بعد کی دنیا کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس میں مسلمان بھی ایک قوت کے طور پر ابھریں گے۔ باوجود مکار حکمرانوں کے مسلمان نوجواں جذبے اور صلاحیتوں سے مالامال ہیں۔ تاہم اس عمل میں دسیوں لاکھوں جانیں جائیں گی کیونکہ امریکہ روس کی طرح اپنے جوہری ہتھیاروں پر خاموش نہیں بیٹھا رہے گا۔ تاہم آخر میں سچ کی ہی جیت ہوگی۔

خالد جاوید، ساہیوال: یہ امریکہ اور بعطانیہ کی مکمل ناکامی ہے۔ ان کو اپنے کیے کی تلافی کرنی چاہئے اور اسرائیل کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہئے۔

مشتاق رحمٰن ہاشمی، دمام: برطانیہ نے اپنی معیشت بہتر بنانے کی ایک کوشش میں شرکت کی جبکہ امریکہ خصوصاً جارج بش نے ذاتی انتقام لیا ہے۔

سلیم خان، مردان: وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ ہر امریکی اقدام دراصل اس کے مفادات کی جنگ ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک امریکہ کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کرتے اور اسی وجہ سے سب کی باری آنی ہے۔

ملک محبوب عالم، پاکستان: پیاری بی بی سی تمہیں سب معلوم ہے کہ امریکہ نے عراق پر حملہ کیوں کیا تھا حالانکہ اسے علم تھا کہ عراق کے پاس وسیع تر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود نہیں ہیں۔ اس لئے پیار بی بی سی تم ہم جیسے بھولے لوگوں کو بےوقوف کیوں بناتی ہو؟

اجمیر خان، کوہاٹ: اب یہ بات سب کو پتہ چل گئی ہے کہ جدید الیکٹرونک کی مدد سے حاصل کی گئیں تمام خفیہ معلومات غلط تھیں۔

فہیم احمد میم، پاکستان: میرے خیال میں خفیہ معلومات کمزور ہیں اور نہ ہی کوئی بےخبر ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ جہاں امریکہ چاہے گا وہاں وہی ہو جائے گا۔ افغانستان کے بعد اب پاکستان کی باری ہے اور اس کی وجہ صدر جنرل مشرف کے کرتوت ہیں۔

ناکامی نہیں، جیت ہے
 یہ کسی خفیہ ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ جیت ہے کہ اس نے امریکہ کو خبر دی کہ عراق کے پاس کوئی ہتھیار نہیں، بس ہمت کرو اور سارا تیل تمہارا ہے۔
امیر حمزہ

امیر حمزہ، شیخوپورہ: یہ کسی خفیہ ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ جیت ہے کہ اس نے امریکہ کو خبر دی کہ عراق کے پاس کوئی ہتھیار نہیں، بس ہمت کرو اور سارا تیل تمہارا ہے اور اس کے بعد نتائج سب کے سامنے ہیں۔

خلیق اللہ، امریکہ: عراق نے بارہا کہا تھا کہ اس کے پاس کیمیاوی ہتھیار نہیں ہیں، روس نے بھی یہی کہا تھا کہ ان کے پاس ایسے ہتھیار نہیں ہیں لیکن امریکہ نے صرف جنگ کا جواز بنا کر جنگ کرنی تھی۔

امجد محمود، سعودی عرب: یہ انٹیلیجنس کی ناکامی ہے۔

اویس احمد، چارسدہ: مغربی ذرائع ابلاغ میں یہ اعزاز صرف بی بی سی کو حاصل ہے کہ اس نے عراقی جنگ پر غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کی ہے۔ ہٹن رپورٹ کی وجہ سے بی بی سی کی ساکھ تو متاثر ہوئی لیکن ٹونی بلیئر پر بڑھتی ہوئی تنقید سے اس کی ساکھ دوبارہ بحال ہو جائے گی۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: عراق سے جنگ کا منصوبہ پہلے سے تیار کر لیا گیا تھا کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اس خطے سے تیل حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انٹیلیجنس رپورٹوں کا کوئی مطلب نہیں تھا۔

آپ سب جانتے ہیں۔۔۔
 بی بی سی جیسا بڑا ادارہ ہونے کے ناطے آپ کو زیب نہیں دیتا کہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کریں۔
علاؤالدین قاضی

علاؤالدین قاضی، خانوزئی: بی بی سی جیسا بڑا ادارہ ہونے کے ناطے آپ کو زیب نہیں دیتا کہ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کریں۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ بش کا منصوبہ کیا تھا؟ وہ عراق پر صرف غاصبانہ قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر انکوائری کمیٹی یہ رپورٹ دیتی ہے کہ معلومات غلط تھیں تو کیا صدر بش کو جنگی مجرم سمجھا جائے گا اور امریکہ عراقی عوام سے معافی مانگ کر ہرجانہ ادا کرے گا؟

جہاں زیب رشید، کراچی: کیا آپ نے پتلی تماشا دیکھا ہے؟ اصل میں امریکہ بھی پوری دنیا کو انگلیوں پر نچانا چاہتا ہے۔ یہ اپنے مخالف کو خاموش کرنے کے لئے محض ایک ڈرامہ تھا۔

ابرار احمد، ہانگ کانگ: یہ محض امریکہ اور برطانیہ کی ناکامی ہے۔ یہ دونوں حکومتیں مسلمانوں کو بدنام کرنے پر تلی ہیں۔

افروز امین، ٹورانٹو: یہ سب کچھ بکواس ہے اور ذرائع ابلاغ بھی اس پورے ڈرامے میں بےوقوف بنے ہوئے ہیں۔ بہرحال ایک بات باکل ٹھیک ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک انتہائی نامعقول اور جاہل ہیں۔

فیصل زبیر الثاقب، کراچی: میرے خیال میں یہ عراق پر حملہ کرنے کا پہلے سے تیار شدہ منصوبہ تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں صدام حسین خود بھی ملوث ہوں۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔

وجیہ الدین، ٹھٹھہ: یہ چال محض عراق پر قبضہ کرنے کے لئے چلی گئی تھی ورنہ امریکی خفیہ ادارے اس قدر کمزور کیسے ہو سکتے ہیں؟

غلام نبی، پاکستان: یہ مسلمانوں کے لئے نااتفاقی کی سزا ہے جو امریکہ کے ہاتھوں مل رہی ہے۔ یہ ہماری بےوقوفی اور ہمارے دشمنوں کی چالاکی ہے اور دانستہ طور پر مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

محمد کاکا، حیدر آباد: سب سے بڑا دہشت گرد تو امریکہ خود ہے اور یہ سب اسلام کو ختم کرنے اور تیل پر قبضہ کرنے کا بہانہ ہے۔

انٹیلیجنس جھک مار رہی تھی؟
 لارڈ ہٹن کی رپورٹ جارج بش اور ٹونی بلیئر کے آئندہ اقدامات کی محض ایک ریہرسل ہے۔
حیدر رند

حیدر رند، ٹھٹھہ: لارڈ ہٹن کی رپورٹ جارج بش اور ٹونی بلیئر کے آئندہ اقدامات کی محض ایک ریہرسل ہے۔ خفیہ ادارے کیا دس سال سے جھک مار رہے تھے جو صدر بش اور وزیراعظم ٹونی بلیئر کی آنکھیں اب کھل رہی ہیں۔

گوہر علی، متحدہ عرب امارات: اور کچھ نہیں ہو گا بس ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے ہزار جھوٹ اور بولنے پڑیں گے اور اسلامی دنیا کو سب ماننا پڑے گا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اگر صدر بش اور وزیراعظم ٹونی بلیئر دونوں سچ پر ہیں تو انہیں مستعفی ہو جانا چاہئے۔

مرزا عاصم، گجرات: جو بات ساری دنیا جانتی تھی وہ امریکہ اور برطانیہ کو اب معلوم ہو رہی ہے۔ جس قدر تباہی افغانستان اور عراق میں ہوئی ہے اس کے تمام تر ذمہ داری سب مغربی ممالک پر عائد ہوتی ہے اور اس کا حساب آج نہیں تو کل ضرور دینا ہو گا۔ خفیہ معلومات کی ناکامی محض ایک بہانہ ہے حقیقت میں سارے کھیل کی منصوبہ بندی پہلے ہی کی جا چکی تھی۔

مسلمانوں کو کیا ہوا ہے؟
 مسلمانوں کی مت ماری گئی ہے جو انہیں اب تک سمجھ نہیں آ رہی۔
شازیہ

شازیہ، گجرات: یہ خفیہ اداروں کی نہیں بلکہ امریکہ کی ناکامی ہے۔ یہ ساری جنگ ہی بے بنیاد تھی۔ میرے خیال میں مسلمانوں کی مت ماری گئی ہے جو انہیں اب تک سمجھ نہیں آ رہی۔

محمد سرور، کینیڈا: پوری دنیا جنگ کی مخالفت کر رہی تھی لیکن امریکہ گور برطانیہ نے کسی کی نہ سنی اور جنگ کر دی۔ امریکی اور برطانوی شہریوں کو اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ انکوائری اور جنگ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔

شوکت علی، پاکپتن: یہ جنگ مسلمانوں کی دولت لوٹنے کے لئے منصوبے کے تحت کی گئی تھی۔ دراصل یہ جنگی کارروائی بیس سال پہلے تیار کئے گئے امریکی منصوبے کا حصہ تھی۔

ظہیر احمد، چین: کیا یہ لوگ جنگ میں ضائع ہونے والی ہزاروں جانوں کی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔

اگر تفتیش کر نی ہی ہے۔۔۔۔
 اگر تفتیش کرنی ہی ہے تو ضروری ہے کہ یہ غیر جانبدار ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے کروائی جائے اور جو لوگ ذمہ دار ثابت ہوں انہیں اقوامِ متحدہ اپنی نگرانی میں قرار واقعی سزا دے۔
وزیر اسلم طیب، ابوظہبی

وزیر اسلم طیب، ابوظہبی: کسی تفتیش کی ضرورت نہیں۔ مسلم امہ کے خلاف کی گئی اس سازش میں سب سے بڑا کردار جن دو لوگوں بلیئر اور بش نے ادا کیا وہ اب اپنی تاریخی غلطی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ جو لوگ دوسروں کو برباد کرنے کی اتنی منظم سازش کر سکتے ہیں وہ اپنے بچوں کے لیے اس سے بھی بڑی کہانی گھڑ لیں گے۔ اگر تفتیش کرنی ہی ہے تو ضروری ہے کہ یہ غیر جانبدار ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے کروائی جائے اور جو لوگ ذمہ دار ثابت ہوں انہیں اقوامِ متحدہ اپنی نگرانی میں قرار واقعی سزا دے۔

جاوید خواجہ، امریکہ: یہ تو چوروں کی کارستانی ہے اور کچھ نہیں۔

صلاح الدین لنگاہ، جرمنی: سب اچھا ہے۔ یہ کوئی ناکامی نہیں بلکہ منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ سیاست ہے۔

امین محمود میاں، ہیوسٹن، امریکہ: یہ حل سے مسئلے کی طرف جانے والی بات ہے نہ کہ مسئلے سے حل کی طرف جانے والی۔ یہ پورا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ’ساون کے اندھے کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے۔‘

احمد ندیم شمسی، کراچی، پاکستان: وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں انٹیلیجنس کی تفتیش ہو یا نہ ہو، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ عراق میں امریکہ نے جنگ صرف اور صرف تیل کی وجہ سے کی۔ یہ سب ایک لمبی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جو کافی سال پہلے امریکہ نے کی تھی۔ امریکی انٹیلیجنس کو بھی پہلے سے معلوم تھا کہ عراق کے پاس کون کون سے ہتھیار ہیں کیوں کہ یہ ہتھیار خود امریکہ نے ہی اسے عراق ایران جنگ کے دوران مہیا کیے تھے۔ اب بش اور بلیئر تحقیقات کا ڈرامہ کر کے اپنے عوام کو بے وقوف بنانا چاہ رہے ہیں۔

یاسر ممتاز، رینالہ خورد، پاکستان: اگر ہتھیار ہوتے تو وہ اسے جنگ میں استعمال نہ کرتے۔ امریکہ کو مسلمان ممالک کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لئے بہانہ چاہئے تھا۔

عبدالمجید، فیصل آباد، پاکستان: یہ سب عراق پر حملہ کرنے کے بہانے تھے۔ ان لوگوں کو پہلے ہی معلوم تھا کہ وہاں پر وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ہیں اور اب یہ ڈرامے بازی کر رہے ہیں کہ انٹیلیجنس ٹھیک نہیں تھی۔

ذوالفقار رفیق، کینیڈا: مجھے شک ہے کہ اس انکوائری کے کوئی نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم یہ انٹیلیجنس کی کمزوری نہیں تھی بلکہ اس پورے ڈرامے کے پیچھے اصل چیز تیل تھی۔

اوکاڑہ فتح کرنے کے لئے؟
 اب تو مشرف نے پاکستان کو بھی آسان ٹارگٹ بنا دیا ہے۔ یہ آرمی کیا اوکاڑہ فتح کرنے کے لئے ہی تھی؟
مقصود اعوان، لاہور، پاکستان

مقصود اعوان، لاہور، پاکستان: یہ تو ایسا ہی ہے کہ کسی کو پھانسی دے کر بعد میں پتہ کیا جائے کہ وہ مجرم بھی تھا کہ نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ یہ سب اسلام کو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن اس کی حفاظت تو اللہ نے کرنی ہے۔ اب تو مشرف نے پاکستان کو بھی آسان ٹارگٹ بنا دیا ہے۔ یہ آرمی کیا اوکاڑہ فتح کرنے کے لئے ہی تھی۔

سجاد قریشی، ہملٹن، کینیڈا: میرے خیال میں یہ انٹیلیجنس کی ناکامی نہیں تھی۔ اس کی رپورٹ تو کچھ اور تھی جسے امریکہ نے بدل کر اپنا مقصد نکال لیا اور بدنام ہو رہی ہے انٹیلیجنس۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد