بی بی سی اور ہٹن رپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہٹن کمیشن رپورٹ کے بعد بی بی سی کے چیئرمین گیوِن ڈیوِس اور بی بی سی کے ڈائرکٹر جنرل گریگ ڈائیک مستعفی ہوگئے ہیں۔ لارڈ ہٹن نے اپنی رپورٹ میں بی بی سی پر شدید تنقید کی تھی۔ گریگ ڈائیک نے کہا ہے کہ انہوں نے بی بی سی کے سربراہ کی حیثیت سے ہمیشہ ادارتی آزادی کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔ گیوِن ڈیوِس نے ہٹن کمیشن کی رپورٹ پر تنقید کی تھی اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کہیں آزادئ صحافت کو خطرہ تو نہیں؟ بی بی سی کے قائم مقام چیئرمین رِچرڈ رائڈر نے حکومت سے معافی مانگ لی ہے۔ انڈریو گیلیگن کی رپورٹ کے بعد پیدا ہونیوالے تنازعے پر بی بی سی نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا تھا۔ ہٹن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ٹونی بلیئر حکومت کو بری کردیا تھا۔ لارڈ ہٹن نے کہا تھا کہ عراقی ہتھیاروں سے متعلق انٹیلیجنس کے بارے میں تفتیش کرنا ان کے دائرہ کار میں نہیں تھا۔ ہٹن رپورٹ اور بی بی سی کے کردار پر آپ کی کیا رائے ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ نامعلوم، ٹورانٹو: یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ طاقت ہی سب کچھ ہے۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: یہ تو ہونا ہی تھا بی بی سی اگر خود کو غلط سمجھتی ہے تو عجیب بات ہے کیونکہ معافی کا مطلب ہے انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان اور یورپ میں ایک جیسی صحافتی آزادی مبارک ہو؟ اصغر، امریکہ: سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے اور سچ بولنے والوں کو ہمیشہ تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں، لیکن بی بی سی کو مستقل مزاجی سے وہی کرتے رہنا چاہئے جو وہ کرتا رہا ہے، یعنی سچ اور صرف سچ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ظفر حسین، فیصل آباد: یہ ہے برطانیہ میں آزدائ صحافت؟ کیا کہنا ہے مہذب لوگوں کے۔ اندر کرِشن، حیدرآباد، پاکستان: بیشک بی بی سی بھروسے مند ادارہ ہے اور مجھے اب تک اس کی رپورٹِنگ پر کوئی شک نہیں پر افسوس کی بات یہ ہے کہ جس کا قصور نہیں وہ بےچارہ مفت میں مارا گیا۔ سجاد قریشی، ہملٹن، کینیڈا: بحرحال جب تاریخ لکھی جائے گی تو جھوٹ اور سچ سامنے آجائیں گے، ہٹن رپورٹ نے بہت مایوس کیا ہے۔ انصاف کا بول بالا ہوگا، آج نہیں تو کل۔ ناصر ادریس، یونان: اب بھی میں نہیں سمجھتا ہوں کہ بی بی سی غلط ہے۔ انجم اقبال، تونسہ شریف، پاکستان: صرف بی بی سی کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ حکومت کی جانب سے عدالت پر پریشر تھا۔ جہانگیر شاہ، جرمنی: یہ بی بی سی ہی تو تھا جس نے انیس سو پینسٹھ میں کہا تھا کہ بھارتی فوج لاہور جِِم خانہ میں داخل ہوگئی ہے۔ عدنان احمد راجہ: لندن: میرے خیال میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ دنیا میں آزادانہ صحافت کو خطرہ ہے۔ فاروق خان، کویت: اس وقت دنیا میں کوئی بھی غیرجانبدار خبررساں ایجنسی نہیں ہے۔ دنیا کے سامنے جو کچھ بھی پیش کیا جارہا ہے وہ ان کے ماسٹر کے کہنے کے مطابق ہے۔ یوسف خان، خیل مِنگورا، پاکستان: بی بی سی ایک آزاد ادارہ تھا، اب لگتا ہے اس کی آزادی صلف ہوئی۔ آئندہ کم سے کم میں تو اس پر اعتماد نہیں کروں گا۔ فراز حیدر، کراچی: رپورٹ کے ذریعے بی بی سی پر پریشر مقصود ہے۔ آصف اقبال، البرٹہ، کینیڈا: میں اب بھی بی بی سی پر اعتماد کرتا ہوں۔ محمد حیدر اورکزئی، ہنگو: گیون ڈیوِس اور گریگ ڈائیک کے استعفی سے اسپورٹس مینشِپ ثابت ہوئی اور بی بی سی کی ساکھ بھی۔ اومران مرزا شویخ، کویت: طاقت سے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانا، غرض کہ یہ سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔ امید ہے بی بی سی آزادئ صحافت برقرار رکھے گی۔ کرِس کاؤٹے، لندن: میں سمجھتا ہوں کہ اگلے چند مہینوں میں یہ ثابت ہوجائے گا کہ برطانوی عوام بی بی سی پر اعتماد کرتے ہیں یا حکومت پر۔ عمر فاروق، برمِنگھم: بی بی سی سو فیصد صحیح ہے لیکن حکومت عراق پر حملے کی وجوہات چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ کوئی بھی اس لابی کی مخالفت نہیں کرسکتا جو امریکی پاور کا ذریعہ ہے اور اس لحاظ سے ٹونی بلیئر اقتدار میں برقرار رہیں گے چاہے کچھ بھی ہوجائے۔ اسی طرح جارج بش امریکہ میں اگلے چار سالوں تک اقتدار میں رہیں گے۔ ہٹن رپورٹ غلط ہے۔ سلیم فاروقی، کینیڈا: افسوس! یا تو بی بی سی صرف ایک ٹیبلوائڈ بن کر رہ گیا ہے یا برطانوی نظام انصاف میں بدعنوانیاں ہیں۔ شمش الہدی، کینیڈا: صرف تیسری دنیا کے ملک ہی میڈیا کا گلا نہیں گھونٹتے بلکہ بڑے ممالک میں یہ زیادہ ہوتا ہے۔ حکومت کو بچانے کی یہ گندی کوشش ہے لیکن لوگ اب حقیقت سمجھ گئے ہیں اور بی بی سی کی زبان بند کرنے کی اس کوشش سے اب کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پال گوڈارڈ، نیوبری، برطانیہ: انگور کھٹے ہیں! اٹھائیس جنوری دوہزار چار تک لارڈ ہٹن ایک غیرجانبدار جج تھے اور ہرشخص انہیں اس کام کے لئے مناسب سمجھ رہا تھا۔ لیکن اب صرف اس لئے کہ انہوں نے ایسی رپورٹ نہیں دی ہے جس کا خیال لوگوں نے اپنے ذہنوں میں پہلے سے ہی نقش کرلیے تھے، اسے غلط قرار دیا جارہا ہے۔ عاصم خان، امریکہ: بی بی سی کے اس فیصلے سے میں خود کو غیرمحفوظ محسوس کرتا ہوں۔ بی بی سی جھوٹ کے خلاف لڑے۔ ابو زین، ٹورانٹو: بی بی سی نے عراق پر امریکی قبضے کی جس طرح رپورٹِنگ کی اس پر بی بی سی کو خراج تحسین۔ اینتھونی اسٹینرس، برطانیہ: اب ایسا لگتا ہے کہ بلیئر حکومت ہٹن رپوٹر میں پناہ لے گی اور اس سوال کا جواب دینے کی کوشش نہیں کرے گی کہ ہم نے عراق پر حملے کیوں شروع کیے۔ کفایت، پاکستان: میں بہت عرصے سے بی بی سی سنتا رہا ہوں۔ میں بی بی سی کے اسٹاف کے ساتھ ہوں، اس وقت جو مسئلہ ان کے سامنے ہے، حکومت نے بی بی سی کے لئے مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کبھی کبھی غلطیاں ہوتی ہیں جنہیں معاف کردینا چاہئے۔ عامر رانا، لاہور: لارڈ ہٹن کی رپورٹ پر بی بی سی کے چیئرمین اور ڈائرکٹر جنرل نے استعفی دے کر برطانوی روایت، یعنی بزرگوں کا احترام اور قانونی رائے کا احترام کیا، پاسداری کی، تاہم لارڈ ہٹن نے ڈیموکریسی اور آزادئ اظہار خیال جیسے بنیادی اقدار کی دھجیاں اڑا دیں۔ اجمیر خان، پاکستان: بی بی سی پوری دنیا میں واحد قابل اعتماد خبر کا ذریعہ ہے۔ قیصر چشتی، ہیلی فیکس، انگلینڈ: ہٹن رپورٹ حکومت کی حامی ہے۔ اعظم گوندل، کراچی: میرے خیال میں ہٹن رپورٹ اور بی بی سی دونوں غلط ہیں۔ بی بی سی نے خبر کا ذریعہ ظاہر کردیا۔ رزاق چیما، جاپان: یہ آزادئ صحافت پر حملہ ہے۔ شاہ، کینیڈا: بی بی سی کو ان مشکلات کا سامنا کرنا چاہئے۔ افراد، اقوام اور ادارے، سبھی کی زندگی میں ایسا ہوتا ہے، اور اب بی بی سی کی باری آئی ہے۔ تاریخ میں سچائی اس طرح سے چھپائی جائے گی کسی نے سوچا نہیں تھا۔ یہ ٹیکنالوجی کی ترقی ہے۔۔۔ رانا نجم سہیل، ہانگ کانگ: میں ہٹن رپورٹ سے اتفاق نہیں کرتا۔ امید کرتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آجائے گا۔ بی بی سی نے ہمیشہ جابر حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا ہے۔ ابرار احمد، ہانگ کانگ: میرے خیال میں بی بی سی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے مگر بی بی سی کو ہمت نہیں ہارنی چاہئے۔ اعجاز احمد، انڈیا: میرے خیال میں لارڈ ہٹن نے کچھ زیادہ ہی حکومت کا ساتھ دے دیا۔ ایئن واکر، اسکاٹ لینڈ: یکطرفہ انصاف کوئی انصاف نہیں ہے۔ بِل براؤن، انگلینڈ: ضرورت اس بات کی ہے کہ بی بی سی ان مشکل حالات میں کمزور نہ ہو۔ جب تک ٹوری پارٹی مؤثر نہیں ہوتی، بی بی سی ہی حزب اختلاف کا کردار ادا کررہی ہے۔ کریگ، برطانیہ: کیا یہ سنہرا موقع نہیں ہے کہ بی بی سی کو سینسیشنل نیوز پیش کرنے کی عادت سے پاک کیا جائے؟ ٹوم، انگلینڈ: میں پرامید ہوں کہ اگلے انتخابات میں لیبر پارٹی کے کچھ لوگ ہار جائیں گے اور جمہوریت بحال ہوگی۔ عامر غفور چودھری، پاکستان: میرے خیال میں یہ برطانوی حکومت کی جانب سے بی بی سی پر بڑا حملہ ہے کیونکہ حکومت کے پاس صدام کے خلاف کوئی شواہد نہیں تھے۔ عدیل بٹ، جنوبی کوریا: بی بی سی دنیا میں ایک عظیم میڈیا آرگنائزیشن ہے۔ خرم حبیب شاہ، ڈنمارک: ایک غیرجانبدار ادارہ ہونے کی وجہ سے بی بی سی نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائی ہیں۔ لارڈ ہٹن کی رپورٹ حکومت کے حق میں ہے اور سچائی کی تلاش میں بی بی سی کے کردار کو نظرانداز کررہی ہے۔ ایک اچھے میڈیا آرگنائزیشن کے لئے ضروری ہے کہ سچائی کو سامنے لائے۔ میری ہوپر، انگلینڈ: میں سمجھتی ہوں کہ بی بی سی کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے۔ مجھے لارڈ ہٹن کے فیصلے سے ویسے ہی صدمہ پہنچا ہے جیسا کہ میری فیملی کے ساتھ کچھ ہوگیا ہو۔ بی بی سی، بالکل ویسے ہی رہو جیسا اب تک سب کچھ تھا۔ اعجاز مہر، اسلام آباد: یہ افسوس کی بات ہے کہ لارڈ ہٹن کی رپورٹ نے ٹونی بلیئر کو ان پر اس بارے میں لگائے جانے والے الزامات سے بری کردیا ہے۔ اعجاز احمد، صادق آباد، پاکستان: اس رپورٹ اور بی بی سی کے ڈائرکٹر جنرل کے استعفی کے بعد ہمیں یہ یقین ہوچلا ہے کہ پاکستان کی طرح برطانیہ میں بھی صحافت کو وہ آزادی حاصل نہیں ہے جس آزادی کی باتیں ہم سنتے آئے ہیں۔ یارکو، فن لینڈ: بی بی سی کو معافی نہیں مانگنی چاہئے تھی۔ فیصل تقی، کراچی: برطانوی حکومت نے ہٹن کمیشن کا دائرۂ کار طے کرکے وہ سب کچہ کہلوا دیا جو حکومت کی جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لئے کافی تھا۔ صالح محمد، راولپنڈی: یہ ایک عالمی مسئلہ تھا جس کی زد میں لاکھوں لوگ آتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹِنگ زبردست اور نناوے فیصد ٹھیک ہوتی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں کسی کی طرفداری نہیں کی جاتی ہے۔ اگر بی بی سی بھی اسکائی یا فوکس نیوز کی طرح امریکی ترانے بجاتا تو شاید بی بی سی کے ساتھ یہ نہ ہوتا۔ خانم سومرو، کراچی: برطانوی عوام کو چاہئے کہ وہ ٹونی بلیئر کو استعفی دینے پر مجبور کریں۔ ٹِم ہوج، کینٹ، برطانیہ: یہ افسوس اور ملک کے لئے ایک خطرے کی گھڑی ہے۔ سیاست دان جیت گئے ہیں، لارڈ ہٹن نے تمام شواہد کے برخلاف فیصلہ دیا ہے۔اب لگتا ہے کہ عراقی ہتھیاروں کے بارے میں کوئی انکوائری نہیں ہوگی۔ مارک ایف، شیفلڈ، برطانیہ: مجھے خدشہ ہے کہ بی بی سی بلیئر بروڈ کاسٹِنگ کارپوریشن نہ بن جائے۔ شیر یار خان، سِنگاپور: بین الاقوامی معاملات کے بارے میں ہمیں بی بی سی کی رپورٹِنگ پر کوئی بھی شک نہیں ہے۔ میں بی بی سی کے سربراہ کے استعفی سے مطمئن نہیں ہوں کیونکہ لارڈ ہٹن نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے۔ بی بی سی کی ذمہ داری ہے کہ بغیر کسی تعصب کے سنگین مسائل پر دنیا کے سامنے تمام موقف پیش کرے۔ لارڈ ہٹن کو ٹونی بلیئر کو الزامات سے بری کردینا چاہئے تھا لیکن بی بی سی کی صحافت پر تنقید کرنا صرف اس لئے کہ ڈاکٹر کیلی کا بیان نشر کیا گیا، غیرمنصفانہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||