ہٹن رپورٹ پر آپ کی رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر کیلی کی موت کی تحقیقات کرنیوالے جج لارڈ ہٹن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وہ اس بات سے مطمئن ہیں کہ ڈاکٹر کیلی نے خود ہی اپنی جان لی اور کوئی اور شخص اس میں ملوث نہیں ہے۔ لارڈ ہٹن کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ عراق پر برطانوی حکومت کی دستاویز کے تنازعے میں ملوث افراد اس بات سے باخبر نہیں تھے کہ دباؤ کے تحت ڈاکٹر کیلی اپنی جان لے سکتے ہیں۔ لارڈ ہٹن نے یہ بھی کہا ہے کہ عراقی ہتھیاروں سے متعلق انٹلیجنس کی دستاویز کے بارے میں تفتیش کرنا ان کے دائرہ کار سے باہر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہٹن کمیشن صرف ان حالات کا پتہ لگانے کے لئے بنایا گیا تھا جن کی وجہ سے ڈاکٹر کیلی کی موت واقع ہوئی۔ لارڈ ہٹن نے اپنی رپورٹ میں بی بی سی پر سخت تنقید کی اور ٹونی بلیئر کی حکومت کو بری کردیا۔ لارڈ ہٹن کی رپورٹ پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ این سندر، انگلینڈ: اپنا اعتماد بحال کرنے کے لئے بی بی سی دو کام کرے۔ لارڈ ہٹن سے صاف کہا ہے کہ بی بی سی غلط ہی نہیں تھا بلکہ ان غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔ جن لوگوں نے غلطیاں کیں وہ مستعفی ہوجائیں، صحافی انڈریو گیلیگن اور ڈائرکٹر جنرل گریگ ڈائیک بھی۔ دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی ادارتی پالیسی کا معیار طے کریں اور اسے شائع کریں۔ نومی خان، کراچی: میں لارڈ ہٹن کی رپورٹ سے متفق نہیں ہوں۔ اسٹیوی انڈرسن، گلاسگو، برطانیہ: میرے خیال میں بی بی سی تنقید کے سامنے سر نہ ٹیکے۔ یقینا کچھ نکات پر لوگ فکرمند ہیں، بالخصوص ادارتی چیکِنگ کے بارے میں۔ لیکن اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ انڈریو گیلیگن اور بی بی سی نے جو کچھ نشر کیا وہ صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ بی بی سی سچ کے لئے کھڑا ہو۔ زبیر عزیز، پاکستان: بی بی سی ایک قابل تعریف سروِس ہے جو خبر غیرجانبدارانہ طور پر فراہم کرتی ہے۔ ہٹن رپورٹ کے بارے میں کیا کہا جائے؟ کرِس بلانڈ، لندن، انگلینڈ: یقینی طور پر بی بی سی کی غلطی تھی، لیکن اس کا مطلب نہیں کہ بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں۔ پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انڈریو گیلیگن نے اپنی رپورٹ لکھے بغیر ریڈیو پر نشر کردیے جس کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوئیں۔ میں نہیں چاہتا ہوں کہ بی بی سی کو سرنگوں کیا جائے۔ عاصف اقبال خان، سانگلہ، پاکستان: اس رپورٹ سے اسی طرح کی امید تھی۔ کیا کیا جاسکتا تھا؟ محمد عامر خان، کراچی: ڈاکٹر کیلی نے جو باتیں کہیں ان کو بی بی سی نے بہت زیادہ اچھالا جس کی وجہ سے ڈاکٹر کیلی نے خود کو ختم کر لیا۔ پھر برطانوی حکومت نے ان کی زبان بند کردی۔ جو دعویٰ ڈاکٹر کیلی نے کیا اس طرح کے دعوے اب امریکہ میں بھی حکام کررہے ہیں۔ لارڈ ہٹن نے جب یہ رپورٹ لکھی ہوگی تو ہوسکتا ہے کہ ان پر حکومتوں کا اثر پڑا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں لارڈ ہٹن بی بی سی کو ایک انٹرویو دیں اور کہیں کہ ان پر پریشر پڑا؟ کامران احمد، ابوظہبی: میں ابھی بھی بی بی سی پر پورا اعتماد رکھتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ اس پورے معاملے میں بی بی سی کی رپورٹِنگ میں کوئی جانبداری نہیں تھی۔ بی بی سی نے ہمیشہ اپنے آپ کو بہترین ثابت کیا ہے۔ میں ہمیشہ ٹونی بلیئر کی بہ نسبت بی بی سی پر زیادہ اعتماد کروں گا۔ سلیم اختر، کینیڈا: مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ تفتیش کرنے والے اس بات کا کیوں نہیں اعتراف کرتے کہ عراق سے متعلق تنازعہ امریکی صدر جارج بش اور ان کی لابی کی وجہ سے ہوا؟ ماجد اقبال، ملتان: تند باد مخالف سے نہ گھبڑا اے عقاب۔۔۔ حاکموں کو خوش کرنے والے بہت ہوتے ہیں لیکن سچ بولنے والے کم۔۔۔ محمد اسماعیل، ملتان: مجھے یقین ہے کہ ہٹن رپورٹ صرف اور صرف ٹونی بلیئر کے اقتدار کو طول دینے کامیاب ثابت ہوگی۔ فتح اللہ، شارجہ: جس ثبوت اور رپورٹ پر حکومتِ برطانیہ نے فیصلہ کیا تھا، ویسے ہی ثبوت پر بی بی سی نے رپورٹ کی تھی اور ایسے ہی ثبوت پر لارڈ ہٹن نے فیصلہ سنایا لیکن حقیقت اب بھی پوشیدہ ہے۔ فاروق، لاہور: ایسا لگتا ہے کہ لارڈ ہٹن نے رپورٹ کے نتائج برطانوی وزیراعظم کے حق میں کردیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رپورٹ غیرجانبدار نہیں ہے۔ راجر، انگلینڈ: اگر گیوِن ڈیوِس ہٹن رپورٹ پر تنقید کررہے ہیں اور خود اپنی قابلیت کے بارے میں پراعتماد ہیں تو انہوں نے کیوں استعفی دیا؟ اور گریگ ڈائیک نے ابھی تک استعفی کیوں نہیں دیا ہے؟ کیا حکومت کے بارے میں انڈریو گیلیگن کی رپورٹ پر اب بھی کوئی اعتماد کرے گا؟ عاصف، کینیڈا: میں اس رپورٹ سے متفق نہیں ہوں اور دنیا کے سامنے سچائی لانے کی بی بی سی کی کوششوں کی تعریف کرتا ہوں۔ خرم شہزاد شیخ، جرمنی: میری رائے میں بی بی سی کے بارے میں تنقید صرف اور صرف ٹونی بلیئر کو بچانے کے لئے کی گئی ہے۔ ٹِم ویسٹوڈ، بولٹن، برطانیہ: اب شاید بی بی سی میں کچھ لوگ استعفی دے دینگے جن کی جگہ پر آنیوالے نئے لوگ حکومت پر تنقید سے گریز کریں گے۔ ایئن، امریکہ: مجھے امید ہے کہ اس رپورٹ کے بعد بی بی سی میں کسی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں نہیں کی جائیں گی کیونکہ لاتعداد لوگ معتبر خبر کے لئے بی بی سی پر منحصر ہیں۔ مورین، برِسٹل، برطانیہ: ہاں بی بی سی کے اسٹاف نے غلطیاں کی ہیں، لیکن اب بھی دنیا میں یہ سب سے بڑا قابل اعتماد ادارہ ہے۔ بی بی سی کے صحافیوں کی اکثریت کی ساکھ پر شک نہیں کیا جانا چاہئے اور ان کی آزادانہ صحافت کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ بی بی سی کے ڈائرکٹر جنرل گریگ ڈائیک بہترین قیادت کا مظاہرہ کریں لیکن بی بی سی کے چیئرمین گیوِن ڈیوِس کو استعفیٰ دیدینا چاہئے۔ گیوِن، فرانس: ہٹن رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ یہ سب کچھ پیسے کی بربادی تھی۔ جہانگیر، سِنگاپور: میں دو عشروں سے بی بی سی سنتا رہا ہوں اور مجھے امید ہے کہ بی بی سی اپنی ساکھ پر پڑنے والے منفی اثرات کا ازالہ کرنے کے لئے صحیح اقدامات کرے گا۔ باب واٹسن، میریڈین، امریکہ: اگر ڈاکٹر کیلی کی موت کے لئے ٹونی بلیئر کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہوتا تو سبھی لوگ ان کے استعفی کا مطالبہ کررہے ہوتے لیکن اب بی بی سی کے بارے میں صرف یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹِنگ میں احتیاط برتے۔ مطلوب علوی، برامپٹن، کینیڈا: میں لارڈ ہٹن کی رپورٹ سے اتفاق نہیں کرتا۔ محمد حاجی، دوبئی: ہمیں ابھی لارڈ ہٹن کی رپورٹ واضح نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام اب بھی ٹونی بلیئر کے خلاف ہونگے۔ میری، لندن: ایسا لگتا ہے کہ ٹونی بلیئر کی قسمت میں نو جنم لکھے ہیں۔ نجم ضیاء، لاہور: اس رپورٹ کے بعد بھی مجھے لگتا ہے کہ ٹونی بلیئر کو استعفی دیدینا چاہئے۔ یوآن گرے، ایڈنبرا: افسوس کی بات ہے کہ بی بی سی پر شدید تنقید کی گئی ہے، جس کے لئے بی بی سی مستحق بھی ہے۔ بی بی سی بہت اچھے پروگرام بناتا ہے اور یہ بہتر ہوتا اگر بی بی سی اپنے صحافیوں اور مدیروں کے سیاسی خیالات اور تعصب کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا۔ لیز ٹیلر، لندن: اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحافیوں کے لئے سچائی کی اہمیت خبر کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ ایئن میککِم، ویلز، برطانیہ: ان افسوسناک حالات سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ حکومتیں اپنے مفاد کے دفاع کے لئے کیا کیا نہ کرتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||