| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی پر تنقید، بلیئر بے قصور
ہٹن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر کیلی کے موت کے معاملے میں بی بی سی پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت کا رویہ صحیح رہا ۔ ہٹن رپورٹ کے اہم نکات لارڈ ہٹن نے ٹیلی وژن پر پیش کئے جبکہ مکمل رپورٹ اس کے فوراً بعد شائع کر دی گئی۔ ڈاکٹر کیلی کو بی بی سی کے ’ٹوڈے پروگرام‘ کی اس رپورٹ کا ذریعہ بتایا گیا تھا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ برطانوی حکومت نے عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے معلومات کو عراق پر جنگ کا جواز بنانے کے لئے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ اس خبر کی برطانوی پارلیمان میں باقاعدہ تحقیق ہوئی اور ڈاکٹر کیلی کو خصوی کمیٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ ان کو اس خبر کا ذریعہ بتایا گیا اور ان کی ساکھ پر شک و شبہ کا اظہار کیا گیا۔ اس تذلیل کے کچھ روز بعد ڈاکٹر کیلی نے خودکشی کر لی۔ ان کی بیوہ کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع نے ان کو اس کیس میں اپنے مقاصد کے لئے بے نقاب کیا جبکہ وزارت کو ان کا تحفظ کرنا چاہئے تھا۔ برطانیہ کے وزیر دفاع کے علاوہ وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی اس انکوائری کے سامنے پیش ہوئے۔ یہ رپورٹ بلیئر حکومت کے لیے یوں بہت اہم ہوگی کہ اس میں عراق پر جنگ کرنے کے حکومتی جواز اور غلط معلومات کے استعمال پر فیصلہ دیا جائے گا۔ ہٹن رپورٹ بی بی سی کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس پورے واقعہ میں بی بی سی کے کردار پر بہت تنقید ہوئی ہے۔ تاہم اس رپورٹ کی تفصیلات برطانوی اخبار ’دی سن‘ میں بدھ کو چھپ گئیں۔ رپورٹ کے اس طرح افشا ہونے پر برطانیہ کی حزب اختلاف نے بہت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذمہ دار شخص کی شناخت ہونی چاہیے۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ ہٹن رپورٹ میں اس واقعہ کی حکومت پر کم اور بی بی سی پر زیادہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||