BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2004, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حج کا تجربہ: آپ بھی لکھئے
اپنے حج کے تجربات ہمیں لکھ بھیجئے
اپنے حج کے تجربات ہمیں لکھ بھیجئے
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج کے فرائض کی ادائیگی کے لئے مکہ میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس وقت تقریباً بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جن کی تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔ حج اسلام کے پانچ اہم ترین ارکان میں شامل ہے اور ہر صاحبِ ثروت مسلمان پر فرض ہے۔ پھر یہ واحد موقع ہے جب دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی جگہ جمع ہو کر نہ صرف عبادت کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں۔

اگر آپ اس سال حج کے لئے جا رہے ہیں یا اس سے قبل جا چکے ہیں تو حج کے اپنے مشاہدات و تجربات ہمیں لکھ بھیجئے۔

حج کے آپ کے تجربات

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


میرا انشااللہ آئندہ برس اپنی اہلیہ کے ساتھ حج پر جانے کا ارادہ ہے۔ میری بہت خواہش ہے کہ حج کروں کیونکہ سنا ہے کہ اس مقدس مقام کو دیکھنے سے بہت سکون ملتا ہے۔
عبدالحلیم، جرمنی

میں نے آج تک کسی حاجی کی حالت بدلتے نہیں دیکھی۔ بحیثیت ایک احمدی کے مجھے حج کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے اور ویسے بھی مجھے کبھی اس کا احساس نہیں ہوا۔
وصی الدین لنگا، جرمنی

حاجیوں کا پتہ ہونا چاہئے کہاپنی جان کی حفاظت کرنا فرض ہے نہ کہ شیطان کو کنکریاں مارنا ورنہ شیطان کی بجائے حاجی ہلاک ہو جائیں گے۔
یحیٰ اسمائیل ہاجوری

میں نے سن انیس سوتین میں حج کیا اور میرے خیال میں حج کے سامنے مشکلات کوئئ اہمیت نہیں رکھتیں لیکن رمی کے دوران بہت بدنظمی اور رش کے باعث خاصے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
سید مظہر زیدی، پاکستان

مکہ کے لوگ سخت مزاج ہیں
 مکہ کے لوگ کافی سخت مزاج ہیں۔ شاید اس جگہ کی خصوصیت ہی یہی ہے کہ ہمارے نبی کو بھی اس جگہ کافی مشکلات کا سامنا رہا۔
وصی خان، فلوریڈا، امریکہ

میں انیس سو اٹھانوے میں حج کے لئے گیا تھا اور اس مقدس ترین سفر میں میری عزیز ترین ہستیاں، میری ماں اور والد اور میرے بھائی اور بھابھی ساتھ تھے۔ ہم نے کعبے کا طواف اور دیگر فرائض بھی اکٹھے ادا کئے۔ میں وہ لمحات کبھی نہیں بھول سکتا۔ اب تو خواہش ہے کہ اللہ دوبارہ وہاں لے جائے تاکہ میں اپنی شریکِ حیات کے ساتھ بھی یہ سعادت حاصل کر سکوں۔ مکہ کے لوگ کافی سخت مزاج ہیں۔ شاید اس جگہ کی خصوصیت ہی یہی ہے کہ ہمارے نبی کو بھی اس جگہ کافی مشکلات کا سامنا رہا مگر مدینہ کے لوگ انتہائی نرم دل اور خوش مزاج ہیں اور یہ یقیناً اس لئے ہے کہ وہاں سرکارِ دوعالم رہتے ہیں۔
وصی خان، فلوریڈا، امریکہ

میں نے چند سال پہلے حج کیا تھا۔ لوگوں کی عقیدت اور اس موقعے کی کیفیت حیران کن ہے۔ مجھے وہاں اپنا ہر دن اچھا لگا اور میں وہاں دوبارہ جانا چاہتا ہوں۔
حسنین احمد، ونڈسر، کینیڈا

میری عمر ابھی بائیس سال ہے اور میں نے سن دوہزار ایک میں اپنی دادی کے ساتھ حج ادا کیا تھا۔ آپ یقین کریں کہ جوانی کے دوران میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اللہ کے گھر کو اتنے قریب سے دیکھوں گا اور جب میں نے وہاں جاکر سب سے پہلی دعاء مانگی تو وہ ساری کی ساری قبول ہوگئی۔ مکہ اور مدینہ کی بات ہی الگ ہے، میں وہ بیالیس دن کبھی نہیں بھول سکتا اور دعاء کرتا ہوں کہ اللہ مجھے توفیق دے کہ میں اپنی امی اور ابو کو حج پر لےکر جاؤں۔
عدنان مبین، کراچی

آج وہ مقام سامنے ہے
 خانہ کعبہ کے غلاف کو تھام کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔ ہر انسان ایک نئے پیدا ہونے والے بچے کی طرح خود کو محسوس کرتا ہے، کچھ انجان، کچھ پاگل دیوانہ سا۔ یقین نہیں آتا کہ ساری زندگی جس طرف چہرہ کرکے نماز ادا کی آج وہ مقام انکھوں کے سامنے ہے
شاہدہ اکرام، ابوظہبی

زندگی میں بہت سفر کئے ہیں لیکن چودہ سال پہلے انیس سو نوے میں جب میں اپنے شوہر کے پاس ریاض گئی تو سب سے زیادہ خوشی اسی بات کی تھی کہ عمرہ اور حج کی سعدت ملے گی۔ عمرہ تو اسی مہینے کر لیا۔ میری بیٹی کی عمر اس وقت دو سال تھی۔ میرے شوہر نے کہا کہ ہمارا نام حج کے لئے آ تو گیا ہے لیکن اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ تم حج کر سکو گی؟ میں نے کہا کہ اگر اسے سر پر اٹھا کر بھی کرنا پڑا تو کروں گی۔ اس سال حج تیس جون کو شدید گرمی میں ہوا تھا لیکن ایمان اتنا تازہ تھا کہ ایک پل کو بھی چھوٹی بچی کے ساتھ کی وجہ سے میل ہا میل چلنے کے باوجود تکلیف کا احساس نہیں ہوا تھا۔ کعبہ کو پہلی دفعہ دیکھنے کے جذبات الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ خانہ کعبہ کے غلاف کو تھام کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔ ہر انسان ایک نئے پیدا ہونے والے بچے کی طرح خود کو محسوس کرتا ہے، کچھ انجان، کچھ پاگل دیوانہ سا۔ یقین نہیں آتا کہ ساری زندگی جس طرف چہرہ کرکے نماز ادا کی آج وہ مقام انکھوں کے سامنے ہے۔ دل چاہتا ہے کہ لکھتی ہی جاؤں کہ لکھنے سے ہی دل نہیں بھرتا۔ دعا ہے کہ ہر مسلمان کو زندگی میں ایک بار ضرور یہ سعادت نصیب ہو اور ہم بھی ایک بار پھر اس مقام کی زیارت حاصل کر سکیں۔
شاہدہ اکرام، ابوظہبی

حج سے انسان میں عاجزی پیدا ہوتی ہے اور میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے سال دو ہزار دو میں اس کی ادائیگی کا فریضہ حاصل ہوا۔ یہ تجربہ آپ کو روحانی قوت دیتا ہے تاہم آپ کومیزبانوں کے رویئے کو درگزر کرنا پڑتا ہے۔ سعودی حکام انتہائی سخت گیر ہیں اور مقدس مقامات کے لئے آنے والے زائرین کے ساتھ اچھی طرح پیش نہیں آتے، سو خبردار رہئے۔
عدیل، امریکہ

میں ایک ہندو ہوں لیکن میں نے ہمیشہ مسلمانوں کو حج کے لئے جاتے ہوئے بہت خوش دیکھا ہے کیوں کہ ان کا ایمان ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں اور خدا نے انہیں موقع عطا کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا آغاز ایک نئے باب سے کر سکیں۔
دھرم، کراچی، پاکستان

انتظار
 میں نے خود کو خدا کے انتہائی نزدیک محسوس کیا اور یہ کہ وہ تاریخ جس نے اس مقام پر چودہ سو برس پہلے جنم لیا میری پیدائش کے ملکوں یا میرے ورثے سے کہیں زیادہ میری ہے۔ یہاں تک کہ ہم جیسے ہی واپس گھر پہنچے میں لوٹ کر وہیں چلے جانا چاہتی تھی۔ لیکن آپ تبھی جاتے ہیں جب خدا آپ کو بلاتا ہے ، مجھے صرف اس لمحے کا انتظار کرنا ہے۔
عائشہ، میری لینڈ، امریکہ

مجھے یاد ہے کہ وہ ہر قومیت کے لوگ موجود تھے جن میں سے کچھ کو ہم صرف وہ مسکراہٹیں بانٹ سکتے تھے جو ہمارے دلوں سے اترتی تھیں اور یا وہ عربی کے چند الفاظ جو تمام مسلمانوں کے لئے ایک ہیں۔ مجھے اپنے والدین کے وہ آنسو بھی یاد ہیں جو کعبے کو پہلی دفعہ دیکھنے پر ان کی آنکھوں میں آگئے تھے۔ لیکن سب سے زیادہ بات جو مجھے یاد ہے کہ میں نے خود کو خدا کے انتہائی نزدیک محسوس کیا اور یہ کہ وہ تاریخ جس نے اس مقام پر چودہ سو برس پہلے جنم لیا میری پیدائش کے ملکوں یا میرے ورثے سے کہیں زیادہ میری ہے۔ یہاں تک کہ ہم جیسے ہی واپس گھر پہنچے میں لوٹ کر وہیں چلے جانا چاہتی تھی۔ لیکن آپ تبھی جاتے ہیں جب خدا آپ کو بلاتا ہے ، مجھے صرف اس لمحے کا انتظار کرنا ہے۔
عائشہ، میری لینڈ، امریکہ

میری جب کعبہ پر پہلی دفعہ نظر پڑی، میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ میں نے جتنی بھی تصاویر دیکھی تھیں، وہ اصل کے مقابلے میں کچھ نہ تھیں۔ اور جب میں نے کعبے کی خوشبو سونگھی تو وہ گویا بہشت کی خوشبو تھی۔ اب تک یہ میری زندگی کا سب سے بہتر تجربہ تھا۔ میں نے کبھی اللہ کے اس قدر قریب محسوس نہیں کیا۔ یہ کیفیت مجھے بہا لے گئی۔ میں نے دس برس کی عمر میں ہی ایک ایسا تجربہ کر لیا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اب میری عمر بارہ برس ہے اور میں اس کیفیت کو بیان کر سکتا ہوں۔
طوبہ عباسی، لیک فاریسٹ، امریکہ

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد