BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 19 December, 2003, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حجاب، مساجد اور حقوق نسواں
فرانس میں حجاب سیاسی مسئلہ ہے
فرانس میں حجاب سیاسی مسئلہ ہے

اس ہفتے اسلام اور خواتین سے متعلق تین اہم واقعات سرخیوں میں رہے۔ پاکستان میں سپریم کورٹ نے ایک تاریخ ساز فیصلے میں کہا کہ کوئی عاقل و بالغ مسلمان عورت اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اہل ہے اور اس کو اپنےخاندان کے کسی ولی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

ادھر ہندوستان کی جنوبی ریاست تمِل ناڈو میں کچھ عورتوں نے خواتین کے لئے ایک خصوصی مسجد کی تعمیر کا اعلان کیا۔اور یورپ کے اخباروں میں فرانسیسی صدر ژاک شیراک کا یہ بیان سرخیوں میں رہا کہ وہ فرانس میں حجاب پہننے کی ممانعت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ ان خبروں کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:

پاکستان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا تعلق اسلام سے نہیں، پاکستانی معاشرے سے ہے۔ تامل ناڈو میں عورتوں کا خیال تھا کہ چونکہ مرد عورتوں کو ایک خلل سمجھتے ہیں، لہذا خواتین کے لئے علیحدہ مسجد کی ضرورت ہے۔ جبکہ فرانس کے عوام حجاب اور دیگر مذہبی علامات کو اپنی معاشرتی آزادی پر ایک ضرب تصور کرتے ہیں۔

ان تینوں واقعات پر آپ کا ردعمل کیا ہے؟ اسلام، پاکستان اور مغرب میں مسلم خواتین کی زندگی کے حقائق کے بارے میں آپ کیا سمجھتے ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


اطہر رسول، کینیڈا: یہ دور اسلام کے نشاۃ ثانیہ کا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات سے گزرنا پڑے گا۔ اس لئے ہمیں عقلمندی سے کام کرنا چاہئے اور وقت کا انتظار کرنا چاہئے۔

اسلام میں مساوی حقوق

میرا یقین ہے کہ اسلام فرد کی آزادی پر ضرب نہیں لگاتا ہے۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کو مساوی سوچ و فکر کے لئے دماغ دیا ہے۔ قرآن جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا ہے۔ میرے خیال میں بالغ لڑکیوں کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کا حق ہونا چاہئے۔

برکات شاہ ککر، کوئٹہ

برکات شاہ ککر، کوئٹہ: یہ تینوں فیصلے کافی دلچسپ ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلم عورتیں مسجد جایا کرتی تھیں، بلکہ حضر عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور حکومت میں بھی عورتیں مسجد جاتی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلم معاشرے کو اس وقت تک بہتر نہیں بنایا جاسکتا جب تک عورتوں کو بھی بنیادی حقوقِ انسانی دستیاب ہوں۔ میرا یقین ہے کہ اسلام فرد کی آزادی پر ضرب نہیں لگاتا ہے۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کو مساوی سوچ و فکر کے لئے دماغ دیا ہے۔ قرآن جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا ہے۔ میرے خیال میں بالغ لڑکیوں کو اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کا حق ہونا چاہئے۔

نعیم عوان، راولپنڈی: میں حجاب پر پابندی کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔ عورتوں کو اپنی زندگی جینے کا حق ہونا چاہئے، جیسے بھی انہیں پسند ہو۔

واجد نعیم، مریدکے، پاکستان: یہ تینوں فیصلے اسلام کی مخالفت کرتے ہیں۔ حجاب مسلم خواتین کے لئے اہم ضروریات میں شامل ہے، جبکہ ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی وجہ سے مسلم معاشرے کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آج کےدور میں پسند کی شادی بہت بری چیز ہے۔

عبدالسلام، ٹوکیو، جاپان: میرے خیال میں عدالت کا یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ نکاح کے وقت لڑکی سے پوچھنا صحیح ہے۔ لیکن اگر عورت کو اس طرح آزاد چھوڑ دیا گیا تو اسلامی اور مغربی معاشرے میں فرق کیا رہ جائے گا؟

علی ارشد، واہ کینٹ، پاکستان: شادی کے لئے عورتوں کی اجازت ضروری ہے، لیکن اسلامی قوانین میں ولی کے کردار کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔

ذوالفقار علی زلفی، جھنگ: عورتوں کو والدین کی رضا کے بغیر شادی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسلام نے عورتوں کو بہت ہی مقام دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا نہیں ہے۔ ولی کی اجازت کے بغیر شادی نہیں ہونی چاہئے۔

کامران منظور، جہلم: جہاں تک بات ہے فرانس میں حجاب پر پابندی کی، تو یہ بات اس ملک کے معاشرے پر منحصر ہے کیونکہ دوسرے ممالک میں مقیم ہیں تو ہمیں وہاں کے قانون کے ساتھ چلنا چاہئے، وہاں کے رواج کو اپنانا چائے۔ اور مسجد میں عورتوں کو نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ مردوں کے حقوق مجروح ہوتے ہیں۔ اور اسلام میں عورتوں کو نماز گھر پر پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

سعدیہ امین، پاکستان: میرے خیال میں فرانس میں حجاب پر پابندی صحیح نہیں

نواز حسین، پاکستان: میرے خیال میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تجربات پر مبنی نہیں ہے۔ یہ قانون اسلامی شریعہ کے خلاف ہے، اور پاکستانی آئین کی تردید کرتا ہے۔ پاکستان کے چیف جسٹِس کو ان کے عہدے سے ہٹا دینا چاہئے۔ حکومتِ پاکستان ہم لوگوں پر ایک غیرملکی ایجنڈا تھوپ رہی ہے۔

تنویر قریشی، سعودی عرب: لڑکیوں کی شادی والدین کی اجازت کے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔

ثناء اللہ، کسور، پاکستان: اس بارے میں علمائے کرام بہتر سوچ بچار کرسکتے ہیں۔ ولی کے بجائے لڑکی کو شادی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس سے معاشرے میں بہت سی خرابنیاں پیدا ہوتی ہیں اور معاشرتی نظام تباہ ہوجاتا ہے۔ خواتین کو حجاب کرنا چاہئے۔

سید طارق مسعود کاظمی، میانوالی، پاکستان: عورت جس کو آزادی سمجھ رہی ہے یہ اس کی آزادی نہیں، اس کی موت ہے۔ اسلام میں عورت کو بہت بڑا مقام دیا گیا ہے۔ وہ ماں، بہن، بیٹی، بہو، جو بھی ہو گھر میں ہی اس کی عافیت ہے۔ بلاضرورت گھر کے باہار جانے سے ہی تمام مسائل کی ابتدا ہوتی ہے۔

استحصال تھا

 ولی کی اجازت دراصل ایک استحصال تھا، جس کے ساتھ ماں باپ اپنی مرضی سے اسلام کی آڑ میں بیٹی کا سودہ کرسکتے تھے، اچھا سا مالدار خریدار دیکھ کر۔

فرزانہ بتول، اسلام آباد

فرزانہ بتول، اسلام آباد: ولی کی اجازت دراصل ایک استحصال تھا، جس کے ساتھ ماں باپ اپنی مرضی سے اسلام کی آڑ میں بیٹی کا سودہ کرسکتے تھے، اچھا سا مالدار خریدار دیکھ کر۔ اب اس سے جان چھوٹ جائے گی، کسی حد تک۔ لیکن یہ معاشرہ بڑا ظالم ہے، استحصال جلدی ختم نہیں ہوگا۔

فدا ایم زاہد، کراچی: میں عدالت کے فیصلے کی تعریف کرتا ہوں۔ اسلام میں یہ بات پسند کی گئی ہے کہ عورتیں گھر پر عبادت کریں، نہ کہ مسجد میں۔ لیکن مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی نہیں ہے۔ جہاں تک حجاب کا تعلق ہے، یہ پردہ نہیں ہے۔

قیصر، لاہور: پاکستان میں عدالت کی فیصلہ صحیح نہیں ہے۔ عدالتوں اور ججوں پر ہماری فوج حکمرانی کرتی ہے۔ جہاں تک فرانس میں حجاب کا مسئلہ ہے، یہ اس لئے ہے کیونکہ فرانس کے صدر ایک عیسائی ہیں جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کی حمایت نہیں کرسکتے۔

اعجاز عوان، کراچی: فرانس کا یہ رویہ مسلمانو کے خلاف تو ہے ہی، ساتھ ساتھ حقوق انسانی کی خلاف ورزی بھی ہے۔ عورتوں کو گھر میں ہی رہنے دیں، ان کے لئے مسجد کی ضرورت نہیں ہے۔

زاہد حسین، امریکہ: حجاب عورتوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ یہ مسلم عورت کا حق ہے۔ صدر شیراک نے غلط فیصلہ کیا ہے۔

محمد خالد، کراچی: میری نظر میں یہ فیصلہ نبی کی تعلیمات کے خلاف ہے اور یہ بات آپ حدیث کی کتابوں میں پڑھ سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے لڑکیوں کو اپنے گھروں سے فرار ہونے میں آسانی ہوجائے گی۔ اس وجہ سے یہ فیصلہ ملک کی اخلاقی اقدار کو درہم برہم کردے گا۔

احمد فراز، ملتان: عورتوں کو ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا فیصلہ ایک اچھا اقدام ہے۔ اس فیصلے سے عورتوں کو کچھ قانونی تحفظ مل گیا ہے کیونکہ اس فیصلے سے پہلے بھی عورت اور مرد عدالت میں شادی کرنے کی اجازت تھی۔ لیکن اس فیصلے سے قبائلی علاقہ جات کے خواتین کو کچھ سکون حاصل ہوا ہے۔

محمد جبار، شاموزئی، پاکستان: میرے خیال میں ہر شخص کو مذہب کی آزادی ہونی چاہئے۔

نعمان احمد، راولپنڈی کینٹ: اسلام نے عورتوں کو پورے حقوق دے رکھے ہیں لیکن کچھ مولوی حضرات ان حقوق کے معاملے میں رکاوٹ پیش کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ قدامت پرست مولوی حضرات نے قبائلی اور دیگر رسم و رواج کو اسلام کا لبادہ پہنا دیا ہے۔

سلیم اقبال، ٹورانٹو: فرانس مضحکہ خیز اقدامات کررہا ہے۔ یہ لوگ حقوق انسانی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف خود حجاب کے بارے میں کیا فیصلہ کررہے ہیں؟

درست فیصلہ

 سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔ یہ اصل میں وفاقی شرعی عدالت کے انیس سو اسی کے فیصلے کی توثیق ہے۔

محمد وقاص، میلبورن

محمد وقاص، میلبورن: سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔ یہ اصل میں وفاقی شرعی عدالت کے انیس سو اسی کے فیصلے کی توثیق ہے۔ پردہ خواتین پر لازم ہے اور اس پر پابندی مغرب کا تعصب بھرا رویہ ہے۔ البتہ عورتوں کی مسجد کا شوشہ ایک فتنہ ہے اور یہ عورت کے نام نہاد آزادی کی حمایت کرنیوالوں کا حربہ معلوم ہوتا ہے۔

الطاف احمد: یہ مثبت پیش رفت ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت کمیاں ہیں۔ امید ہے کہ عدالتیں اسی طرح کے فیصلے کریں گی۔

کلیم اللہ، اسلام آباد: اسلام نے عورت کو وقار اور عزت دیا ہے لیکن یہ شرط بھی رکھا ہے کہ پہلی نکاح سرپرست کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اگر عورت بیوہ ہے یا طلاق یافتہ ہے تو بغیر سرپرست کے نکاح کرسکتی ہے۔

غیاث الدین، نیویارک: میں عورتوں کے حجاب پہننے کے حق میں ہوں جیسا کہ مذہبی ضروریات میں شامل ہے۔ یہ فیشن نہیں ہے۔

ہارون مغل، راولپنڈی: اسلام نے کل بھی عورت کو عزت دی تھی جب عورت کو وقتِ پیدائش دفنا دیا جاتا تھا اور جب عورت کو اس کے خاوند کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اور آـ بھی جو حقوق ہیں ان کی دنیا میں مثال نہیں ہے۔ عورت کے جسم کے ساتھ جو کچھ کیا جاتا ہے اس کا اندازہ نیٹ پر کسی سیکس سائٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔

خالد، لاہور: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوسکتا۔ یہ حدیث سے ثابت ہے۔

نفیس خان، کینیڈا: جو لوگ اس فیصلے کے خلاف ہیں یہ وہ لوگ جو ویسے تو کوئی اسلامی کام کرتے نہیں ہیں، مگر اس طرح کے موقعوں پر سامنے آکر ہمیشہ مخالفت کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ بالکل درست ہے اور عوام کو اسکا احترام کرنا چاہئے، خاص پور پر پولیس کو۔

تلاوت بخاری، اسلام آباد: پاکستان میں تو دینِ ملا رائج ہے۔ ملاؤں نے مسجد کے نام پر بڑے بڑے کمرشیل پلازہ بنا لیے ہیں جن کے خوبصورت مناروں کے ساتھ بھیانک لاؤڈ اسپیکروں لگے ہوئے ہیں جو دن رات لوگوں کی نیند حرام کرتے ہیں۔

عارف ریاض، کراچی: جہاں تک عورتوں کی مسجد کی بات ہے تو اس کی اسلام میں ممانعت نہیں ہے، البتہ اس سے کوئی شر نہ پھیلے۔ جہاں تک بات پردے کی ہے تو وہ عورت کا شوہر یا والد کی ذمہ داری ہے۔

ذ کی، پاکستان: ولی کی اجازت کے بغیر عورت کو غیرمحفوظ کردیا گیا ہے۔ فرانس میں حجاب کے متعلق جو کچھ ہوا وہ بہت برا ہوا ہےکیونکہ ایک جمہوری ملک میں ہر مذہب کو آزادی ملنی چاہئے۔

سہیل، پاکستان: میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا رہنے والا ہوں۔ میرے خیال میں فرانس میں یہ مسلمانوں کے خلاف ہورہا ہے۔ فرانسیسیوں کو چاہئے کہ مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کریں۔

اجتہاد کی ضرورت

اقبال کے بعد عالم اسلام میں کوئی ایسا مفکر پیدا نہیں ہوا جو اجتہاد کی ضرورت کو سمجھ سکے۔ ہم مسلمان اجتہاد کی کمی کی وجہ سے ہی ناکام ہورہے ہیں۔

محمد عامر خان، کراچی

محمد عامر خان، کراچی: علامہ اقبال کے بعد عالم اسلام میں کوئی ایسا مفکر پیدا نہیں ہوا جو اجتہاد کی ضرورت کو سمجھ سکے۔ ہم مسلمان اجتہاد کی کمی کی وجہ سے ہی ناکام ہورہے ہیں۔ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہے تو اس میں کوئی حرض نہیں۔ بھارت میں عورتوں کی مسجد ایک نئی سوچ ہے اس کے بارے میں علماء کو خواتین کے ساتھ بیٹھ کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔

صفیہ، کوئٹہ: لڑکی کو اپنی مرضی سے شادی نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے جو ماں باپ ہیں اس کو بچپن سے پال رہے ہیں۔

دلشاد کمنگر، پاکستان: میرے خیال میں عورتوں کو گھر میں رہنا چاہئے۔

نعیم اللہ خان، پشاور: یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے۔

فیصل رضا، لاہور: اسلام خواتین کو مسجد میں عبادت کی اجازت دیتا ہے۔ بلکہ خواتین کو نماز جمدہ کے لئے مساجد میں جانے کا اور خطبۂ جمعہ سننے کا حکم ہے۔ اسلام میں عورت اور مرد دونوں کے لئے مسجد میں جانے اور عبادت کرنے کی برابر آزادی ہے۔ صرف عورتوں کے لئے الگ جگہ کا ہونا ضروری ہے۔ نماز عید کے لئے عورتوں کو حکم ہے کہ ہر حالت میں عیدگاہ جائیں۔

چوہدری خالد، دبئی: ولی کی اجازت کے بغیر شادی کی اجازت دے کر عورت کو غیر محفوظ کر دیا گیا ہے۔

خالد اقبال، سوات: قرآن ہر کسی کو اپنی مرضی سے شادی کرنےکی اجازت دیتا ہے اس لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔

محمد یومان، میرپور خاص: یہ ایک اچھا فیصلہ ہے لیکن لڑکی کو اپنے گھر والوں کے فیصلے کا بھی احترام کرنا چاہئے۔

عمر مختار، لاہور: سپریم کورٹ کا فیصلہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے اور بالکل صحیح ہے۔ اسلام میں خواتین کو علیحدہ مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ ویسے بھی اس سارے مسئلے کا تعلق معاشرتی روایات سے ہے نہ کہ اسلام سے۔ دراصل تعلیم کی کمی کی وجہ سے اس قسم کے تصورات اسلام سے منسوب کر دیئے جاتے ہیں۔

احمد نواز نقوی، کراچی: اسلام میں سب برابر ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام اجازت نہیں دیتا وہ مولوی حضرات کی زبان بولتے ہیں۔

رابعہ نذیر، ناروے: بڑے افسوس کی بات ہے کہ حجاب کی باتیں کرنے ولے لوگ ہی عورت کو سرِعام بےحجاب کرتے ہیں۔۔۔

فضل الرحمٰن، گدامیس، لیبیا: سپریم کورٹ کا فیصلہ بلاشبہ قابل تحسین ہے اور پاکستان میں ابھی خواتین کے حقوق کے بارے میں کافی کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ مغرب میں عورت کی آزادی کو جو تصور ہے وہ ہمارے لئے قابل قبول نہیں۔ ہمارے معاشرے میں عورت کےحقوق اور فرائض کا منبع قرآن اور سنت ہے۔

علیحدہ مسجد نہیں

 میرے خیال میں اسلام کا کہنا یہ ہے کہ خواتین کو گھر پر عبادت کرنی چاہئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین کے لئے علیحدہ مسجد تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سعید اقبال، نوزی لینڈ

سعید اقبال، نوزی لینڈ: میرے خیال میں اسلام کا کہنا یہ ہے کہ خواتین کو گھر پر عبادت کرنی چاہئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خواتین کے لئے علیحدہ مسجد تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ شادی کے معاملے میں لڑکی کے ولی کی رضامندی بہت ضروری ہے کیونکہ شادی دو افراد کے درمیان نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان رشتے کا نام ہے۔ لیکن پردہ کرنے کے بارے میں خواتین کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ اگر عورت پردہ کرنا چاہتی ہے تو کسی کو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔

ظفر خان کریم، پشاور: اسلام خواتین کو اس بات کی پوری اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی مرضی سے کر سکتی ہیں لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر وہ اپنے والدین کی خوشنودی بھی حاصل کر لے۔ خواتین کو ایسی راہ اختیار کرنی چاہئے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ ہو۔ خواتین کو اپنے والدین کی مرضی کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کیونکہ آخر وہ والدین ہیں۔

کامران خان مہسود، اسلام آباد: میرے خیال میں اس ضمن میں اسلامی احکامات بالکل درست ہیں کیونکہ اسلام نے خواتین کو جائز حقوق دیئے ہیں جبکہ ہماری نظریں یورپ میں خواتین کی نام نہاد آزادی پر ہیں۔

عمر دراز راجپوت، پاکستان: خواتین کو تمام حقوق حاصل ہونے چاہئیں لیکن صرف ایک حد تک۔ مغرب کی طرح بالکل کھلی چھٹی نہیں ہونی چاہئے۔ سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔ اسلام سرپرست کی اجازت کے بغیر شادی کی جازت نہیں دیتا۔

مرزا عاصم محمود، گجرات: مغرب اپنا گند اب مشرق کے سر تھوپنا چاہتا ہے۔ جن حماقتوں سے مغرب کا نظام بگڑ چکا ہے ان کا پرچار وہ مشرق میں کرنے لگا ہے۔ حجاب اور خاندان اسلام کا امتیاز ہیں اور ان کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔

یاسرممتاز، رینالہ خورد، پاکستان: یہ سب قرآن اور اسلام کے خلاف ہے۔ قرآن ولی کے بغیر شادی کو حرام کہتا ہے۔

عمران خالد، فیصل آباد، پاکستان: کسی عورت کو اس کے خاندان کی مرضی کے خلاف حق حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ آپ مغرب میں بے آرامی اور انتشار دیکھ لیں جو اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی عورت اپنے تمام فیصلوں میں مکمل طور پر آزاد ہے جس میں ہم جنس پرستی جیسے انتہا پسندانہ فیصلے بھی شامل ہیں لیکن اسے ساری زندگی تحفظ نہیں حاصل ہو پاتا۔

قیوم خان، کراچی، پاکستان: ہمیں بھی عورتوں کو انسان سمجھنا چاہئے اور ان کے حقوق پامال نہیں کرنے چاہئیں۔

سعید احمد چشتی، پاک پتن، پاکستان: اسلام تمام عورتوں کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے اس لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

پردے سے کائنات میں رنگ

 ان تینوں مسئلوں نے بے پردگی سے جنم لیا ہے کیوں کہ پردے میں حیا ہے اور حیا ہی عورت کا زیور ہے۔ اس لئے عورت پردے میں ہو تو کائنات میں رنگ اور خوبصورتی ہے۔

عزیزاللہ، پشاور، پاکستان

عزیزاللہ، پشاور، پاکستان: میرا خیال ہے کہ تینوں مسئلے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پھر ان تینوں کا دارومدار پردے پر ہے۔ ان تینوں مسئلوں نے بے پردگی سے جنم لیا ہے کیوں کہ پردے میں حیا ہے اور حیا ہی عورت کا زیور ہے۔ اس لئے عورت پردے میں ہو تو کائنات میں رنگ اور خوبصورتی ہے۔

احمد فراز، ملتان، پاکستان: یہ بہت اچھا ہے لیکن عورتوں کو اسلام مسجد بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔

حیدر رند، ٹھٹھہ، پاکستان: عورتوں کو غیبت کرنے کےلئے ایک اور پلیٹ فارم چاہئے۔ مسجدوں کا تقدس پامال نہیںں ہونا چاہئے کیونکہ عورتیں سارا مہینہ عبادت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ان کے ناپاک ہونے کا کوئی وقت ہے اس لئے بھی اجتناب ضروری ہے۔

اختر بھٹی، ریاض، سعودی عرب: پیغمبر اسلام کے مطابق ولی کے بغیر شادی نہیں ہو سکتی اس لئے ہم مغرب کی تقلید کر رہے ہیں اور اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد