| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ولی کے بغیر شادی جائز ہے: سپریم کورٹ
پاکستان کی اعلی ترین عدالت ، سپريم کورٹ نے جعمہ کو قرار دیاہے کہ کوئی عاقل و بالغ مسلمان عورت اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اہل ہے اور اس کو اپنےخاندان کے کسی ولی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ملک میں سینکڑوں ایسے جوڑے جو پسند کی شادی کرنے کی پاداشت میں پولیس کی ہاتھوں ذلت و رسوائی کا سامنا کر رہے تھے اپنے پسند کے مطابق زندگی گزارنے ککے قابل ہو سکیں گے۔ اس مقدمے کا آغازسن انیس سو ستانوے میں لاھور ہائی کورٹ کے اس متنازعہ فیصلوں سے ہوا جس میں یہ قرار دیا گیا تھا کہ کوئی عورت اپنے ولی کی مرضی کے بغیر شادی نیہں کر سکتی، اس کے بعد درجنوں ایسے کیس عدالتوں میں آئے جس میں محبت کی شادی کرنے والوں کو ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ نےاس مقدمے کو چھ سال تک زیر التو رکھا۔
سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی علمبردار قانون دان عاصمہ جہانگیر جو اس مقدمے میں ایک فریق کے طور پر پیش ہوئیں ، کو تمام الزامات سے بری قرار دیا۔ صائمہ وحید کے والد ،مولانا عبدالوحید روپڑی نے عاصمہ جہانگیر پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اس کو بیٹی کو اغوا کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی شرعی عدالت کا وہ فیصلہ جس میں اس نے قرار دیا تھا کہ کوئی عاقل و بالغ مسلمان عورت اپنی مرضی سے شادی کرنے کی اہل ہے اور اس کو اپنے خاندان کے کسی مرد کی رضامندی کی محتاج نہیں ہے درست ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی بھی ہائی کورٹ یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی شرعی مسلئے پر،وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو رد کرے۔ عاصمہ جہانگیر کے مطابق ، عدالتی فیصلہ میں تعطل کی وجہ سے پولیس اپنی مرضی سے شادی کرنے والوں کی زندگی اجیرن بنا دیتی ہے اور لڑکی کی فیملی کے ناراض لوگوں سے مل کر ان کے خلاف حد کے تحت مقدمے درج کرتی ھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ارشد احمد اور صائمہ وحید کی شادی جائز ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصل آباد کی شبانہ ظفر کے مقدمے میں قرار دیا کہ شبانہ ظفر کی محمد اقبال سے شادی ٹھیک ہے۔
شبانہ ظفر جس کی شادی کو ناجائز قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے اس کو اس کے والدین کے ساتھ جانے کا حکم دیا تھا، شبانہ جس کےخیالات اب کافی بدل چکے ہیں، کو یہ حق ہو کہ وہ اپنی شادی کو اگر ختم کرنا چاہیں تو وہ متعلقہ عدالت سے رجوح کر کے اس کو ختم کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا بینچ جٹس محمد اجمل میاں ، جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری پر مشتمل تھا۔ شبانہ ظفر کے حالات اور خیالات اب کافی بدل چکے ہیں، اس نےسپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ اس نے محمد اقبال سے شادی نہیں کی تھی اور وہ ایک جعلی نکاح نامہ بنا کر اس کا شوہر ہونے کا دعویدار بن گیا۔ صائمہ وحید جو اپنے خاوند کے ساتھ ناروے میں مقیم ھے ،نے ایک بیان حلفی سپریم کورٹ میں دائر کیا ہے جس میں اس نے عدالت کو بتایا کہ اس کا باپ اس کی شادی ایک عربی شیخ سے کر نا چاہتاتھا۔ لیکن جب اس نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور اپنی مرضی سے ارشد سے شادی کی تو اس کے والد نے ہائي کورٹ کے جج دوستوں کی مدد سے اس کو جیل بھجوا دیا ، جب اس کا شوہر چھ میہنے کے بعد جیل سے رہا ہوا تو اس پر چوری کا مقدمہ بنا دیا گیا۔ مولانا عبدالوحید روپڑی کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ اسلام تعلیمات کی روشنی میں مسلمان جوڑے کی شادی دو اشخاص کا ملاپ نہیں ہے بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہے لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ شادی ’رائیس خاندان‘ کی مرضی سے ہونی چاہیے۔ اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے اس موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شادی صرف دو اشخاص کے درمیان ایک معاہدے کا نام ہے اور اس میں ولی کی رضامندی کا شامل ہونا ضروری نہيں ہے ۔ عاصمہ جہانگیر، کے وکیل سید اقبال حیدر نے کہا ہے اگر یہ دلیل مان لی گی کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت دیتا ہے کہ کوئی بالغ عورت اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے لیکن روایات کو مد نظر رکھتے ہوئے ولی کی رضامندی کے بغیر شادی نہیں کرنی چاہیے تو پھر ایک دن کوئی عدالت غیرت کے نام پر قتل ، اور قرآن سے جوان عورتوں کی شادی کو جائز قرار دےدے گی کہ چونکہ یہ ہمارے معاشرے میں ہو رہاہے اس لیے یہ جائز ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||