| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طلاق نہیں مانتی: شائستہ
محبت اور بغاوت کے حوالے سے شہرت پانے والی شائستہ عالمانی نے بلخ شیر کی جانب سے دی گئی طلاق قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی بلخ شیر سے ملاقات کرائی جائے۔ شائستہ کو بدھ کے روز صبح پونے نو بجے سندھ ہائی کورٹ سکھر سرکٹ کے جسٹس زاہد قربان علوی اور جسٹس مقبول پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے پیش کیا گیا۔ شائستہ کے جسم کا دایاں حصہ مفلوج ہو گیا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے۔ شائستہ کی حالت زار دیکھتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم کے وکیل امداد اعوان نے عدالت کو بتایا کہ شائستہ کی حالت بتاتی ہے کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں شائستہ سے اکیلے میں ملاقات کی اجازت دی جائے۔ اپنے وکیل سے ملاقات کے دوران شائستہ نے کوئی بھی چیز بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ جو کچھ بھی کہیں گی عدالت میں ہی کہیں گی۔ بعد میں شائستہ کی درخواست پر اں کے والدین اور بھائیوں کی ملاقات کرائی گئی۔ دوپہر کو دوبارہ سماعت شروع ہوئی۔ شائستہ عالمانی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ بلخ شیر نے انہیں طلاق دے دی ہے تاہم انہوں نے اخبار میں یہ پڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں تحفظ فراھم کیا جائے اور حیدرآباد کے نزدیک جامشورو میں مقیم ان کی بہن کے پاس بھیجا جائے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں بلخ شیر سے ملایا جائے، انہیں تحفظ فراہم کیا جائےاور ہر مہینے عدالت میں سماعت پر بلوایا جائے۔ بعد میں عدالت نے انہیں پولیس تحویل میں ان کی بہن کے پاس حیدرآباد بھجوا دیا۔ عدالت نے شائستہ کے طبی معائنے کے لیے ماہر نفسیات ڈاکٹر ہارون کی سربراہی میں ایڈیکل بورڈ تشکیل دیا ہے جو ی دیکھے گا کہ ان پر کہیں تشدد تو نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت نے شائستہ کوان کی والدہ، بہن اور بھائیوں سمیت تحفظ اور پولیس گارڈ مہیا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت اکیس جنوری تک ملتوی کردی۔ اس سے قبل صورتحال کی سنگینی کے باعث شائستہ کی حفاظت کے لئے چار لیڈیز اور بیس مرد پولیس اہلکار مقرر کئے گئے تھے۔ شائستہ کو دو خواتین پولیس اہلکاروں نے سہارہ دیکر کمرہ عدالت تک پنہچایا۔ وہ چلتے ہوئے لڑکھڑا رہیں تھیں۔
کہاجا رہا ہے کہ شائستہ پر فالج کا حملہ ہوا ہے- ان کے بھائی سجاد کا کہنا تھا کہ شائستہ نے ہاتھوں پر مہندی لگائی تھی جس کے بعد صبح سویرے نہانے کی وجہ سے ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔ اس سے ایک دن قبل منگل کے روز اچانک شائستہ کو جوڈیشل میجسٹریٹ پنو عاقل کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے وہاں پر بھی بیان قلمبند کرانے سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں کہا تھا کےان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور وہ اپنا بیان ہائی کورٹ میں قلمبند کروائیں گی۔ عالمانی قبیلے کے ایک معزز خدا بخش عالمانی اس امر کی تصدیق کی ہےکہ شائستہ کو عدالت میں پیش نہ کرنے کے لیے دباؤ تھا تاہم میں نے قرآن مجید پر حلفیہ بیان دیا تھا کہ اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا- اس لیے بہرحال انہیں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سرداروں نے بعض مولویوں سے یہ فتویٰ حاصل کرلیا تھا کہ طلاق کے باعث شائستہ عدت میں ہیں اور عدت کی میعاد پورے ہونے سے قبل مذہبی حوالے سے ان کا کسی غیر مرد کے سامنے آنا درست نہیں ہے۔ اس موقع پر عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم عورت فاؤنڈیشن کے نمائندے نے عدالت سے کہا کہ شائستہ کو ان کی تنظیم کے حوالے کیا جائے اور وہ ان کی دیکھ بھال اور مطلوبہ علاج وغیرہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر شائستہ نے اپنی بہن کی پاس جانے کی خواہش ظاہر کی۔ ادھر وکلا کا کہنا ہے کہ بلخ شیر مہر نے گزشتہ سماعت پر سفید کاغذ پر جو طلاق نامہ عدالت میں پیش کیا ہے اس کی قانونی پوزیشن مشکوک ہے کیونکہ طلاق نامہ قانونی طور پر پچاس روپے کے اسٹامپ پیپر پر ہونا چاہیئے اور اس پر میجسٹریٹ کے دستخط بھی لازمی ہے مگر اس طلاق نامہ میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||