| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’شائستہ کو طلاق دے دی‘
قبیلہ سے باہر پسند کی شادی کرنے پر قبائلی سرداروں کے ہاتھوں مارے جانے کے خوف سے روپوش ہوجانے والے قادر بخش نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی بیوی شائستہ عالمانی کو طلاق دے دی ہے۔ مہر قبیلے سے تعلق رکھنے والے قادر بخش کو پولیس نے منگل کو سکھر کی عدالت عالیہ (ہائی کورٹ) میں پیش کیا جہاں اس نے بیان دیا کہ اس نے (بقول اس کے) ’ناچاقی‘ کی بنیاد پر شائستہ عالمانی کو طلاق دے دی ہے۔ قادر بخش نے بتایا کہ شادی کے نتیجے میں مشتعل قبائلی عمائدین کے خوف سے شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کے ہمراہ جان بچانے کی غرض سے لاہور پہنچے تھے جہاں تیئس اکتوبر کو انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جب عدالت نے اس سے شائستہ کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ شائستہ کہاں ہیں۔ ایک موقع پر یہ اطلاع آئی تھی کہ یہ جوڑا دبئی چلاگیا ہے۔ لیکن قادر بخش کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک نہیں گئے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شائستہ عالمانی اپنے قبیلے ہی کی تحویل میں ہیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ شائستہ عالمانی کو تلاش کرکے سترہ دسمبر تک عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے رسمی طور پر شائستہ عالمانی نے چچا کو حفاظت و نگہداشت کی غرض سے ان کا سرپرست بھی مقرر کیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد قادر بخش نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عالمانی قبیلے سے کسی ممکنہ تصادم کا امکان ختم کرنے اور کسی قبائلی تنازعہ سے گریز کی غرض سے شائستہ کی قربانی دی ہے۔ انسانی حقوق کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ قادر بخش نے شائستہ عالمانی کو بالجبر طلاق دی ہے۔ اس مقدمے کو خصوصیت اس بناء پر بھی حاصل ہورہی ہے کہ سندہ کہ وزیراعلیٰ علی محمد مہر، قادر بخش کے ’مہر قبیلے‘ کے سردار کے بھائی ہیں۔ پسند کی شادی کرنے کے جرم کے نتیجے میں شادی کے بعد سے پنوں عاقل کا یہ خوفزدہ جوڑا موت اور سرداروں کے غضب کے ڈر سے لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں ایک طویل عرصے تک چھپتے چھپتے بالآخر کا جوڑا اب اپنی زندگی کے ایک نئے موڑ پر آپہنچا ہے۔ شائستہ عالمانی اور قادر بخش عرف بلخ شیر مہر نے کراچی کے جوڈیشل میجسٹریٹ رحمت اللہ موریو کی عدالت میں پیش ہو کر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے لہٰذا انہیں عدالتی تحویل سے رہا کیا جائے۔ قومی شاہراہ پر واقع سکھر ضلع کے شہر پنوں عاقل کے رہائشی شائستہ اور بلخ شیر کی شادی کو عالمانی اور مہر قبائل کے لوگوں نےماننےسے انکار کردیا تھا جس کے بعد قتل کئے جانے کے ڈر سے یہ جوڑا زندگی کی تلاش میں نکلا تھا۔ پنوں عاقل کے ایک اسکول میں پڑھانے والی شائستہ عالمانی نے مقامی زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمن بلخ مہر کو پسند کیا۔ شائستہ بتاتی ہیں کہ بلخ شیر کے والدین باقاعدہ میرے والدین سے رشتہ مانگنے آئے تھے۔ پہلے مرحلے میں میرے والدین نے رشتہ دینے سے انکار کردیا لیکن میرے اصرار پر وہ مان گئے اور یوں والدین کی رضامندی سے نکاح ہوا۔ شائستہ کے مطابق ان کے والدین کو خوف سا بیٹھا ہوا تھا کہ قبیلے والے اس شادی کو قبول نہیں کریں گےکیونکہ ’ہمارے عالمانی قبیلے کی کسی لڑکی نے کسی اور قبیلے میں شادی نہیں کی ہے اس لئے اس شادی کو راز میں رکھا جائے‘۔ ’جون کی چھبیس تاریخ کو ہم نے پنوں عاقل چھوڑا اور بذریعہ ٹرین لاہور چلے گئے۔ کچھ دن وہاں رہنے کے بعد اسلام آباد چلے گئے اور اخبار میں نکاح کرنے کا اشتہار شائع کروایا۔‘ جب سرداروں کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے شائستہ کو کاری قرار دیا کیونکہ اس نے غیر قبیلے میں اور بھاگ کر شادی کی ہے۔ یہ شادی عالمانی قبیلے کے بلوچ اور مہر قبیلے کے سماٹ ہونے کی وجہ سے دونوں قبائل کے لئے وقار کا مسئلہ بن گئی تھی۔
کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلی سندھ کے بھائی سردار علی گوھر نے، جو گھوٹکی کے ضلعی ناظم بھی ہیں، مہر برادری کے معززین کا اجلاس طلب کیا اور ان کو ہدایت کی کہ وہ عالمانی قبیلے کو راضی کریں کہ وہ کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائیں لڑکی ان کو واپس کردی جائے گی۔ اس اجلاس کے دوسرے دن ہی سرداروں کے لوگوں نے شائستہ اور بلخ کو کراچی میں ڈھونڈ لیا اور ایک گھر میں گھس کر شائستہ کو کمرے میں بند کردیا۔ بلخ شیر کو باہر نکال دیا گیا۔ اس دوران اس نے پولیس کو فون کیا اور گھر کے باہر لوگوں کو مدد کے لئے پکارتا رہا۔ شائستہ کے مطابق پولیس نے پہنچ کر دونوں کو بچالیا ورنہ وہ انہیں پنوں عاقل لے جاتے۔ اگلے روز شائستہ اور بلخ شیر کو جوڈیشل میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مرضی سے شادی کی ہے- انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ واپس والدین کے پاس نہیں جانا چاہتے کیونکہ سردار یا والدین انہیں قتل کردیں گے۔ عدالت نے انہیں پولیس کی حفاظت میں ایدھی ہوم بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔
عالمانی قبیلے کے سردار اجمل عالمانی کا کہنا تھا کہ مہروں نے حکومت کے زور پر ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردار علی گوہر لڑکی واپس لوٹانے کے وعدے سے مکر گئے ہیں۔ قبائلی حوالے سے صورتحال تب سنگین ہوگئی جب اکیس ستمبر کو گھوٹکی اور سکھر کے بلوچ قبائل کی میٹنگ ہوئی جس میں مہر سردار کو دو دن کے اندر لڑکی واپس کرنے کا الٹی میٹم دیا گیا۔ سردار احمد علی شر نےسردار علی گوہر مہر کو اس الٹی میٹم سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بلوچ اور سماٹ برادری میں جھگڑا ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی خونریزی کے ذمہ دار مہر ہونگے- شر سردار نے شائستہ کی قسمت کےفیصلہ کا بھی اعلان کیا کہ اسے قتل نہیں کیا جائےگا بلکہ کسی سردار کے پاس امانت کے طور پر رکھا جائے گا اور بعد میں اپنے ہی قبیلے کے کسی شخص سے شادی کردی جائے گی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر کو بھی یہ کہنا پڑا کہ نئے جوڑے نے پسند کی شادی کرکے نادانی کی ہے اور اس کی سزا معززین کو مل رہی ہے۔ قبائلی اثر والے علاقوں میں سردار سفید و سیاہ کے مالک ہیں - سیاسی اور معاشی معاملات کے علاوہ لوگوں کی نجی زندگی بھی سرداروں کے رحم و کرم پر ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||