BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 05 December, 2003, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پسند کی شادی یا روایت کا جبر؟
شائستہ عالمانی
شائستہ عالمانی
اس ہفتے پاکستانی اخباروں میں دو نام سرخیوں میں رہے: قادر بخش اور شائستہ عالمانی۔ قبیلہ سے باہر پسند کی شادی کرنے پر قبائلی سرداروں کے ہاتھوں مارے جانے کے خوف سے قادر بخش نے شائستہ عالمانی کو طلاق دے دی ہے۔

پسند کی شادی کرنے کے نتیجے میں پنوں عاقل کا یہ خوفزدہ جوڑا موت اور سرداروں کے غضب کے ڈر سے لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں ایک طویل عرصے تک پناہ کی تلاش میں رہا لیکن آخر میں روایت کی بالادستی رہی۔ انسانی حقوق کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے عدالت کو بتایا ہے کہ قادر بخش نے شائستہ عالمانی کو بالجبر طلاق دی ہے۔
اگر قادر بخش کی جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے؟ کیا آپ سرداروں کے سامنے سرجھکادیتے؟ کیا آپ کی زندگی میں بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے؟




اسی بارے میں:




آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


بندوق کی نوک پر؟
 اگر اسے کہا گیا ہو کہ تم طلاق دو، ورنہ تمہاری بہنوں کو اغوا کرلیا جائے گا تو؟
علی رضا علوی، اسلام آباد

علی رضا علوی، اسلام آباد
قادر بخش نے یقینا محبت کا قتل کیا ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ اس نے بندوق کی نوک پر کیا ہوگا۔ بعض جذباتی دوستوں نے کہا: کیا کرتا؟ مرجاتا؟ طلاق نہ دیتا؟ لیکن کبھی کبھی مرنا آسان اور جینا مشکل ہوتا جاتا ہے۔ لیکن مرنا بھی مشکل ہوگا اگر اسے کہا گیا ہو کہ تم طلاق دو، ورنہ تمہاری بہنوں کو اغوا کرلیا جائے گا۔ اگر ایسا کرنے کے بعد طلاق مانگی گئی ہو تو پھر کس کا قصور ہے؟


فیصل خان، دبئی
محبت ہی زندگی ہے۔


شہاب علی، پشاور
میرے خیال سے یہ قادر بخش کی بزدلی تھی جو اپنی زبان پر قائم نہ رہ سکا ورنہ محبت کی کامیابی ہوتی۔ اس نے شائستہ عالمانی کو دھوکہ دیا۔ اگر وہ محبت کرنے کے قابل نہیں تھا تو اس نے کیوں اس کی زندگی مشکل بنادی؟


جان محمد، بالاکوٹ
میں شائستہ بی بی کی ہمت کو سلام کرتا ہوں۔


رشد یاد، جاپان
پیار کرنے والو یہ ٹھیک طرح پڑھ لو، ایسے معاشرے میں پیار کرنا نہیں۔ اگر پیار کرو تو قادر بننا نہیں۔ قادر، یہ کیا ظلم کیا تم نے؟ تم نے اپنے خدا کو بھی ناراض کرلیا۔


غیرت کا یہ بے غیرت قبائلی نظام
 جب تک اس قبائلی نظام سے لوگوں کو نجات نہیں ملتی روز کوئی شائستہ خاموشی سے غیرت کے اس بے غیرت نظام کی بھینٹ چڑھتی رہے گی اور غیرت مند وزیر اعلیٰ زنانہ لباس پہن کر شام ڈھلے رقص کرتے رہیں گے اور پھر بھی غیرت غیرت کھیلتے رہیں گے۔
مبشر عزیز، ہمبرگ، جرمنی

مبشر عزیز، ہمبرگ، جرمنی
سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ شائستہ بدقسمت ہے لیکن وہ بہت خوش قسمت ہے کہ میڈیا میں آنے کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔ ان بیچاری ہزاروں لڑکیوں کی بات کریں جن کے قتل کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ جب تک اس قبائلی نظام سے لوگوں کو نجات نہیں ملتی روز کوئی شائستہ خاموشی سے غیرت کے اس بے غیرت نظام کی بھینٹ چڑھتی رہے گی اور غیرت مند وزیر اعلیٰ زنانہ لباس پہن کر شام ڈھلے رقص کرتے رہیں گے اور پھر بھی غیرت غیرت کھیلتے رہیں گے۔


عباس زیدی، امریکہ
قادر بخش ہن کم از کم مچھاں تے منا ناں۔


الیاس دانش، کراچی، پاکستان
کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اسے تمام نتائج کے بارے میں سوچ لینا چاہئے تھا۔ میں شائستہ کی ہمت اور جرات پر داد دیتا ہوں۔ ہمیں ان نام نہاد روایتوں کو ختم کرنے کیلئے قربانیاں تو دینا پڑیں گی۔


اویس چوہدری، جرمنی
قادر کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا چاہے جان چلی جاتی۔ میں ہرگز نہ کرتا۔


فیصل محمود، جرمنی
قادر اچھا انسان نہیں ہے۔ میں ہوتا تو شادی برقرار رکھتا۔

’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘
 خدا پیار کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
عباس ہنزئی، ہنزہ، پاکستان

عباس ہنزئی، ہنزہ، پاکستان
میں کبھی بھی لڑکی کو طلاق نہ دیتا جب وہ اتنا کرسکتی ہے۔ ’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘۔ خدا پیار کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

علی رضا علوی، اسلام آباد، پاکستان
بڑا ہی احمق نکلا قادر بخش جو اس ظالم سماج کے سامنے جھک کر محبت کا قتل کرنے پر مجبور ہوگیا۔ میں نے اس مباحثے کی آراء پڑھی ہیں جس میں لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ مخلص نہیں تھا لیکن میرے خیال میں یہ اس نے بندوق کی نوک پر کیا ہے۔



عمران زیدی، واشنگٹن، امریکہ
مجھے لڑکی سے ہمدردی ہے، قادر احمق تھا۔


فرحان قاضی، نیو جرسی، امریکہ
انتہائی احمق تھا۔ وہ کسی بھی مغربی ملک کے سفارت خانے کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور سیاسی پناہ لے لیتا اور پاکستان ہمیشہ کیلئے چھوڑ جاتا۔


محمد جنید، کیلگری، کینیڈا
پاکستان میں صرف دو طاقتیں ہیں یعنی فوج اور زمیندار۔ قادر اور شائستہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے برا سلوک مزارعوں کے ساتھ صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ اس واقعہ کو شہرت صرف اس وجہ سے حاصل ہوئی کیونکہ قادر بخش خود ایک زمیندار کا رشتہ دار ہے۔ اگر قادر بخش ایک عام مزارع ہوتا تو کبھی کا قتل ہو چکا ہوتا اور شائستہ اور اس کی رشتہ دار عورتیں کو شہر کی سڑکوں پر برہنہ کیا جاتا اور ان پر جو ظلم ڈھایا جاتا اس کی کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی۔

شرم کی بات
 قادر بخش شائشتہ کے ساتھ مخلص نہیں تھا اور اسے بےوقوف بنا رہا تھا۔
سید ارشد اقبال

سید ارشد اقبال، ناروے
میرے خیال میں قادر بخش شائشتہ کے ساتھ مخلص نہیں تھا اور اسے بےوقوف بنا رہا تھا۔ ہمارے دیگر دوستوں کی جانب سے بھیجی گئی آراء کا جائزہ لیں تو احساس ہو گا کہ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ایک شخص محض سرداروں، وڈیروں اور چوہدریوں کے خوف کے باعث اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ میرے خیال میں حکومت کو یہ روایات اور نظام ختم کرنے چاہئیں اور پاکستان میں موجود ایسے عناصر کے خاتمے کے لیے، جو خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں، فوج کو استعمال کرنا چاہئے۔


منہ کیسے دکھائے گا؟
 شائستہ لڑکی ہو کر اگر قادر بخش کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے تو قادر بخش کو اگر سو مرتبہ بھی جان دیتی پڑتی تو دیتا۔
ساجد علی بہرانی

ساجد علی بہرانی، کراچی، پاکستان
قادر بخش کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس نے شائستہ کو جیتے جی مار ڈالا ہے۔ وہ اِدھرکی رہی نہ اُدھر کی۔ شائستہ لڑکی ہو کر اگر قادر بخش کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے تو قادر بخش کو اگر سو مرتبہ بھی جان دیتی پڑتی تو دیتا۔ اگر میں قادر بخش کی جگہ ہوتا تو شائستہ سے ایسا سلوک کبھی نہ کرتا کیونکہ میں اسے کبھی منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔

آصف علی سومرو، پاکستان
بےوقوف آدمی نے ساری زندگی تباہ کر دی اگر شادی کی تھی تو پھر لڑکی کو طلاق کیوں دی۔۔۔پاگل انسان۔


جہالت کی نشانیاں
 کل اللہ کو کیا جواب دے گا، کہ میں سرداروں سے ڈرتا تھا۔۔۔
جاوید خان

جاوید خان، امریکہ
سردار، چوہدری، وڈیرہ اور خان نواب وغیرہ سب جہالت اور غیر ترقی یافتہ لوگوں کی نشانیاں ہیں۔ میں اگر قادر شاہ کی جگہ ہوتا اور عالمانی سے شادی کر لیتا تو کسی بھی انسان کے خوف سے ایسا نہ کرتا۔ جس کام سے اللہ اور رسول منع نہیں کرتے تو سردار اور وڈیرے کون ہیں۔ اگر قادر خان اس قدر خوفزدہ تھا تو پھر کسی کی زندگی کیوں خراب کی۔ کل اللہ کو کیا جواب دے گا، کہ میں سرداروں سے ڈرتا تھا۔۔۔

یاسر نقوی، برطانیہ
جاگیردارانہ، قبائلی اور سردارانہ نظام اب ختم کر دینا چاہئے کیونکہ یہ پاکستان کے لیے بہتر نہیں ہے۔


جاوید ایوب کشمیری، کراچی، پاکستان
پسند یا محبت کی شادی کرنا قانونی یا اخلاقی جرم نہیں ہے بلکہ اسلام اس کی حوصلہ افزائی ہی نہیں، شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی پسند و رضامندی کو ضروری بھی قرار دیتا ہے۔ اس لیے یوں شادی کرنے والوں کو قتل کرنا یا انا کا مسئلہ بنا لینا سوائے جہالت کے کچھ نہیں ہے۔



سردار جیت گئے، محبت ہار گئی
 قادر بخش اگر جان دے دیتا تو امر ہو جاتا۔
ایاز شیراز

ایاز شیراز، کراچی، پاکستان
پہلے تو اتنا بڑا قدم نہیں اٹھانا چاہئے تھا لیکن اگر یہ قدم اٹھا ہی لیا تھا تو پھر اس پر قائم رہنا چاہئے تھا نہ کہ اس لڑکی کا ساتھ ہی چھوڑ دیا جو نہ جانے اب کس حال میں ہو گی۔ قادر بخش اگر جان دے دیتا تو امر ہو سکتا تھا۔ مگر روایات اور سردار جیت گئے اور محبت اور غیر سرکاری تنظیمیں ہار گئیں۔


وزیر اعلیٰ سندھ ذمہ دار ہیں
 اگر میں قادر بخش ہوتا تو کسی بھی قیمت پر ایسا نہ کرتا چاہے اس کے لیے مجھے اپنی جان دینی پڑتی یا کسی کی جان لینی پڑتی۔
عبدالمجید

عبدالمجید، فیصل آباد، پاکستان
اگر میں قادر بخش ہوتا تو کسی بھی قیمت پر ایسا نہ کرتا چاہے اس کے لیے مجھے اپنی جان دینی پڑتی یا کسی کی جان لینی پڑتی۔ اصل میں سردارانہ نظام نے معاشرے کو اس بری طرح جکڑ رکھا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتا۔ اور اب تو اسے حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی ہے۔ یہ سب سندھ کے وزیر اعلیٰ کے ایما پر ہو رہا ہے۔ جب جرائم پیشہ افراد کو باہر سے بلا کر وزیر اعلیٰ یا گورنر مقرر کیا جائے گا تو عوامی آزادی اور قانون کی حکمرانی کہاں سے آئے گی؟


پاکستان میں آزادی ہے کہاں؟
 گوروں کے چلے جانے کے بعد سے ہم کالے انگریزوں کے غلام ہیں۔
انجینیئر ہمایوں ارشد

انجینیئر ہمایوں ارشد، کراچی، پاکستان
ایک پیار ہی کیا، ہم پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی کون سی چیز آزاد ہے؟ گوروں کے چلے جانے کے بعد سے ہم کالے انگریزوں کے غلام ہیں۔

صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان
یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جاگیردارانہ نظام پاکستان میں آج تک موجود ہے۔ تعلیم کی کمی نے لوگوں میں احساس ہی بیدار نہیں ہونے دیا۔ تمام برائیوں کی جڑ پاکستانی فوج ہے جو اس ملک پر تیس برس سے زیادہ عرصے تک حکومت کرتی رہی ہے لیکن ملک کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مجھے اس جوڑے سے بہت زیادہ ہمدردی ہے۔


عاصم ملک، ٹورانٹو، کینیڈا
یہ پاکستانی معاشرے میں جاگیردارانہ نظام کے حاوی ہونے کی ایک اور مثال ہے۔ یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ خاندان والے قبائلی روایات اور وقار کے نام پر نوجوان جوڑے کے حقوق کا پاس کر رہے ہیں۔ حکومت بھی اس معاملے میں برابر کی ذمہ دار ہے کیونکہ اسے ناانصافی کرنے والے ان قبائل کی سیاسی حمایت چاہئے۔


ابراہیم چانگ، سندھ، پاکستان
یہ بہت ہی ناجائز بات ہے۔ ہمارے معاشرے کی خواتین بےگناہ ہیں اور سخت بےچارگی کا شکار ہیں۔ مہر نے لڑکی کو طلاق دے دی ہے جس کے نتیجے میں لڑکی کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے۔



مجھے ہمدردی ہے
 ہمارے معاشرے کو زندگی کے تمام امور میں معتدل رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
عثمان خان

عثمان خان، لندن، برطانیہ
اگر والدین کو شادی پر کوئی اعتراض نہیں تو میرے خیال میں کسی دوسرے کی پروا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے نوجوان جوڑے سے ہمدردی ہے۔ ہمارے معاشرے کو زندگی کے تمام امور میں معتدل رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔

رابعہ نظیر، ناروے
خدا کا شکر ہے کہ میں قادر بخش نہیں ہوں۔


اسی بارے میں
’شائستہ کو طلاق دے دی‘
03 December, 2003 | پاکستان
طلاق میں ’تبدیلیاں‘
26 September, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد