پسند کی شادی یا روایت کا جبر؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس ہفتے پاکستانی اخباروں میں دو نام سرخیوں میں رہے: قادر بخش اور شائستہ عالمانی۔ قبیلہ سے باہر پسند کی شادی کرنے پر قبائلی سرداروں کے ہاتھوں مارے جانے کے خوف سے قادر بخش نے شائستہ عالمانی کو طلاق دے دی ہے۔ پسند کی شادی کرنے کے نتیجے میں پنوں عاقل کا یہ خوفزدہ جوڑا موت اور سرداروں کے غضب کے ڈر سے لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں ایک طویل عرصے تک پناہ کی تلاش میں رہا لیکن آخر میں روایت کی بالادستی رہی۔ انسانی حقوق کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے عدالت کو بتایا ہے کہ قادر بخش نے شائستہ عالمانی کو بالجبر طلاق دی ہے۔ اسی بارے میں: یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
علی رضا علوی، اسلام آباد قادر بخش نے یقینا محبت کا قتل کیا ہے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ اس نے بندوق کی نوک پر کیا ہوگا۔ بعض جذباتی دوستوں نے کہا: کیا کرتا؟ مرجاتا؟ طلاق نہ دیتا؟ لیکن کبھی کبھی مرنا آسان اور جینا مشکل ہوتا جاتا ہے۔ لیکن مرنا بھی مشکل ہوگا اگر اسے کہا گیا ہو کہ تم طلاق دو، ورنہ تمہاری بہنوں کو اغوا کرلیا جائے گا۔ اگر ایسا کرنے کے بعد طلاق مانگی گئی ہو تو پھر کس کا قصور ہے؟ فیصل خان، دبئی شہاب علی، پشاور جان محمد، بالاکوٹ رشد یاد، جاپان
مبشر عزیز، ہمبرگ، جرمنی سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ شائستہ بدقسمت ہے لیکن وہ بہت خوش قسمت ہے کہ میڈیا میں آنے کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔ ان بیچاری ہزاروں لڑکیوں کی بات کریں جن کے قتل کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ جب تک اس قبائلی نظام سے لوگوں کو نجات نہیں ملتی روز کوئی شائستہ خاموشی سے غیرت کے اس بے غیرت نظام کی بھینٹ چڑھتی رہے گی اور غیرت مند وزیر اعلیٰ زنانہ لباس پہن کر شام ڈھلے رقص کرتے رہیں گے اور پھر بھی غیرت غیرت کھیلتے رہیں گے۔ عباس زیدی، امریکہ قادر بخش ہن کم از کم مچھاں تے منا ناں۔ الیاس دانش، کراچی، پاکستان کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اسے تمام نتائج کے بارے میں سوچ لینا چاہئے تھا۔ میں شائستہ کی ہمت اور جرات پر داد دیتا ہوں۔ ہمیں ان نام نہاد روایتوں کو ختم کرنے کیلئے قربانیاں تو دینا پڑیں گی۔ اویس چوہدری، جرمنی قادر کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا چاہے جان چلی جاتی۔ میں ہرگز نہ کرتا۔ فیصل محمود، جرمنی قادر اچھا انسان نہیں ہے۔ میں ہوتا تو شادی برقرار رکھتا۔
عباس ہنزئی، ہنزہ، پاکستان میں کبھی بھی لڑکی کو طلاق نہ دیتا جب وہ اتنا کرسکتی ہے۔ ’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘۔ خدا پیار کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ علی رضا علوی، اسلام آباد، پاکستان عمران زیدی، واشنگٹن، امریکہ مجھے لڑکی سے ہمدردی ہے، قادر احمق تھا۔ فرحان قاضی، نیو جرسی، امریکہ انتہائی احمق تھا۔ وہ کسی بھی مغربی ملک کے سفارت خانے کا دروازہ کھٹکھٹاتا اور سیاسی پناہ لے لیتا اور پاکستان ہمیشہ کیلئے چھوڑ جاتا۔ محمد جنید، کیلگری، کینیڈا پاکستان میں صرف دو طاقتیں ہیں یعنی فوج اور زمیندار۔ قادر اور شائستہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے برا سلوک مزارعوں کے ساتھ صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ اس واقعہ کو شہرت صرف اس وجہ سے حاصل ہوئی کیونکہ قادر بخش خود ایک زمیندار کا رشتہ دار ہے۔ اگر قادر بخش ایک عام مزارع ہوتا تو کبھی کا قتل ہو چکا ہوتا اور شائستہ اور اس کی رشتہ دار عورتیں کو شہر کی سڑکوں پر برہنہ کیا جاتا اور ان پر جو ظلم ڈھایا جاتا اس کی کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی۔
سید ارشد اقبال، ناروے میرے خیال میں قادر بخش شائشتہ کے ساتھ مخلص نہیں تھا اور اسے بےوقوف بنا رہا تھا۔ ہمارے دیگر دوستوں کی جانب سے بھیجی گئی آراء کا جائزہ لیں تو احساس ہو گا کہ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ایک شخص محض سرداروں، وڈیروں اور چوہدریوں کے خوف کے باعث اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ میرے خیال میں حکومت کو یہ روایات اور نظام ختم کرنے چاہئیں اور پاکستان میں موجود ایسے عناصر کے خاتمے کے لیے، جو خود کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں، فوج کو استعمال کرنا چاہئے۔
ساجد علی بہرانی، کراچی، پاکستان قادر بخش کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس نے شائستہ کو جیتے جی مار ڈالا ہے۔ وہ اِدھرکی رہی نہ اُدھر کی۔ شائستہ لڑکی ہو کر اگر قادر بخش کے لیے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے تو قادر بخش کو اگر سو مرتبہ بھی جان دیتی پڑتی تو دیتا۔ اگر میں قادر بخش کی جگہ ہوتا تو شائستہ سے ایسا سلوک کبھی نہ کرتا کیونکہ میں اسے کبھی منہ دکھانے کے قابل نہ رہتا۔ آصف علی سومرو، پاکستان
جاوید خان، امریکہ سردار، چوہدری، وڈیرہ اور خان نواب وغیرہ سب جہالت اور غیر ترقی یافتہ لوگوں کی نشانیاں ہیں۔ میں اگر قادر شاہ کی جگہ ہوتا اور عالمانی سے شادی کر لیتا تو کسی بھی انسان کے خوف سے ایسا نہ کرتا۔ جس کام سے اللہ اور رسول منع نہیں کرتے تو سردار اور وڈیرے کون ہیں۔ اگر قادر خان اس قدر خوفزدہ تھا تو پھر کسی کی زندگی کیوں خراب کی۔ کل اللہ کو کیا جواب دے گا، کہ میں سرداروں سے ڈرتا تھا۔۔۔ یاسر نقوی، برطانیہ جاوید ایوب کشمیری، کراچی، پاکستان
ایاز شیراز، کراچی، پاکستان پہلے تو اتنا بڑا قدم نہیں اٹھانا چاہئے تھا لیکن اگر یہ قدم اٹھا ہی لیا تھا تو پھر اس پر قائم رہنا چاہئے تھا نہ کہ اس لڑکی کا ساتھ ہی چھوڑ دیا جو نہ جانے اب کس حال میں ہو گی۔ قادر بخش اگر جان دے دیتا تو امر ہو سکتا تھا۔ مگر روایات اور سردار جیت گئے اور محبت اور غیر سرکاری تنظیمیں ہار گئیں۔
عبدالمجید، فیصل آباد، پاکستان اگر میں قادر بخش ہوتا تو کسی بھی قیمت پر ایسا نہ کرتا چاہے اس کے لیے مجھے اپنی جان دینی پڑتی یا کسی کی جان لینی پڑتی۔ اصل میں سردارانہ نظام نے معاشرے کو اس بری طرح جکڑ رکھا ہے کہ کوئی اس کے بارے میں آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتا۔ اور اب تو اسے حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی ہے۔ یہ سب سندھ کے وزیر اعلیٰ کے ایما پر ہو رہا ہے۔ جب جرائم پیشہ افراد کو باہر سے بلا کر وزیر اعلیٰ یا گورنر مقرر کیا جائے گا تو عوامی آزادی اور قانون کی حکمرانی کہاں سے آئے گی؟
انجینیئر ہمایوں ارشد، کراچی، پاکستان ایک پیار ہی کیا، ہم پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی کون سی چیز آزاد ہے؟ گوروں کے چلے جانے کے بعد سے ہم کالے انگریزوں کے غلام ہیں۔ صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان عاصم ملک، ٹورانٹو، کینیڈا ابراہیم چانگ، سندھ، پاکستان
عثمان خان، لندن، برطانیہ اگر والدین کو شادی پر کوئی اعتراض نہیں تو میرے خیال میں کسی دوسرے کی پروا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے نوجوان جوڑے سے ہمدردی ہے۔ ہمارے معاشرے کو زندگی کے تمام امور میں معتدل رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ رابعہ نظیر، ناروے | اسی بارے میں ’شائستہ کو طلاق دے دی‘03 December, 2003 | پاکستان وٹہ سٹہ ،طلاق اور نکاح پر نکاح11 September, 2003 | پاکستان طلاق میں ’تبدیلیاں‘26 September, 2003 | پاکستان مسلمانوں کی پس ماندگی: آپ کی رائے02 December, 2003 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||