| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طلاق میں ’تبدیلیاں‘
پاكستان كے صوبہ سرحد ميں متحدہ مجلس عمل كي اسلامي حكومت طلاق كے قوانين ميں بنيادي تبديلياں لارہي ہے۔ مجوزہ مسودے كے مطابق اۤئندہ بيك وقت تين طلاقيں قابل تعزيرجرم تصور كي جائيں گي جس كي سزا تين سال قيد اور دس ہزار روپے جرمانہ تجويز كي گئي ہے۔ سركاري حكام كا كہنا ہے كہ اس بات كي ضرورت اس لئے محسوس كي گئي كہ ملك ميں طلاق كي بڑھتي ہوئي شرح كي ايك وجہ طلاق كے طريقۂ كار كے بارے ميں عمومي لاعلمي اور رائج قانون پر عدم عمل دراۤمد ہے۔ مجوزہ نئے قوانين جہاں اس كي بات كي وضاحت كريں گے كہ اسلامي رو سے ايك وقت ميں ايك ہي طلاق (چاہے تين بار يہ لفظ استمعال كياجائے) موئژ تسليم ہے وہاں عوام ميں اس عمل كے قانوني پہلو مكمل كرنے كي ضرورت كے بارے ميں شعور اجاگر بھي كريں گے۔ ماہرين عمرانيات اور عالم دين حضرات نے اس اقدام كو سراہا ہے اور اُميد ظاہر كي ہے كہ معاشرے ميں بہتر شعور سے طلاق جيسے اہم مگر تلخ عمل كو بہتر طور پر نبٹنے ميں مدد ملے گي۔
علامہ اقبال اوپن يونيورسٹي كے شعبہ عمرانيات كے پروفيسر نعيم ياور كے مطابق طلاق كے قوانين ميں اصلاح سےعورتوں كے حقوق كا بہتر طور پر تحفظ ہوگااور ملك ميں بڑھتي ہوئي شرح طلاق كي روك تھام كسي حد تك ممكن ہوگي۔ مولانا محمد يونس جوكہ اسلام اۤباد ميں جامعہ سلفيہ كے مدير التعليم ہيں اُن كاكہنا ہے كہ قراۤن كي سورہ البقرہ كي اۤيت نمبر ٢٢٩كاترجمہ ہے كہ ’’ يہ طلاق دومرتبہ ہے پھر ياتو اچھائي سے روكنا يا عمدگي كے ساتھ چھوڑ دينا ہے‘‘۔ يعني پہلي مرتبہ طلاق كے بعد بھي اور دوسري مرتبہ طلاق كے بعد بھي رجوع ہوسكتاہے مگر تيسري مرتبہ طلاق دينے كے بعد رجوع كي اجازت نہيں۔ انہوں نے كہا كہ زمانہ جاہليت ميں يہ حق طلاق و رجوع غيرمحدود تھا جس سے عورتوں پربڑا ظلم ہوتا تھا،اۤدمي بار بار اپني بيوي كو طلاق دے كر رجوع كرتا رہتاتھا۔ اس طرح اسے بساتا اور نہ اۤزاد كرتاتھا۔ ’اللہ تعاليٰ نے اس ظلم كا راستہ بند كر ديا اورپہلي بار يا دوسري مرتبہ سوچنے اور غور كرنے كي سہولت سے محروم بھي نہيں كيا۔ ورنہ اگر پہلي مرتبہ طلاق ميں ہي ہميشہ كے لئے جدائي كا حكم دے دياجاتا تو اس سے پيدا ہونے والي معاشرتي پيچيدگيوں كا اندازہ ہي نہيں كياجاسكتا تھا۔‘ جہاں ملك ميں شرح طلاق ميں اضافہ ہورہا ہے اُس كے ساتھ ساتھ اب خواتين كے اپنے حقوق كے لئے عدالت كادروازہ كھٹكھٹانےميں بھي پيش رفت ہوئي ہے۔ اس كي مثال ايك كيس جس ميں نور جہاں بيگم كے شوہر ابوسفيان نے ثالثي كونسل كي اجازت كے بغير دوسري شادي كرلي۔ نور جہاں بيگم نے عدالت ميں شكايت كي كہ اس كے شوہر نے مسلم عائلي قوانين كي خلاف ورزي كي ہے۔
ابوسفيان نے صفائي پيش كي كہ اس نے اپني پہلي بيوي نورجہاں كو طلاق دے دي تھي ليكن اس نے يہ طلاق قانوني طريقۂ كار كے مطابق نہيں دي تھي ۔عدالت نے اس كي صفائي قبول نہيں كي اسے طلاق اور ايك سے زيادہ شادي كرنے كے لئے قوانين كي خلاف ورزي كے جرم ميں سزا دي گئي۔ مولانا سيد عبدالغفار غفاري سے جب اس بارے ميں پوچھا گيا توانہوں نے كہا كہ مرد كو سوچنے سمجھنے اور جلد بازي ياغصے ميں كيے گئے كام كے ازالے كا موقع ديا جائے۔ يہ حكمت ايك مجلس كي تين طلاقوں كو ايك طلاق رجعي قرار دينے ميں بھي باقي رہتي ہے نا كہ تينوں كو بيك وقت نافذ كركے سوچنے اور غلطي كا ازالہ كرنے كي سہولت سے محروم كردياجائے۔ اُن كے خيال ميں سرحد حكومت كا يہ امر قابل ستائش ہے۔ حال ہي ميں لاہور ہائي كورٹ كے ايك جج نے فيصلہ ديا كہ اگر شادي مسلم عائلي قوانين كے مطابق ہوئي ہے تومياں بيوي خواہ كسي بھي فرقے سے ہوں انہيں مسلم عائلي قوانين كے مطابق تحريري طلاق لازمي ہے۔ ہائي كورٹ ميں اس قانون كي تشريح كي گئی ہے اور تمام ماتحت عدالتوں كے لئے اس كي پابندي لازم ہے۔ موجودہ ملكي قوانين كے مطابق اپني بيوي كو قانوني طور پر طلاق دينے كے لئے شوہر كولازما تين مراحل طے كرنےپڑتے ہيں، پہلايہ كہ اپنے علاقے كے يونين كونسل كے چيئرمين كو طلاق كاتحريري نوٹس دے ۔دوسرا يہ كہ شوہر كي طرف سے طلاق كا تحريري نوٹس ملنے كے بعد يونين كونسل اس بات كي پابند ہے كہ وہ بيوي كو اس كي كاپي بھيجے اور تيسرا يہ كہ نوے دن كاانتظاركرنا چاہئے تاكہ طلاق قانوني طور پر موثر ہوسكے۔ عدت كي مدت نوے دن ہے يا اگر عورت حاملہ ہے اور نوے دن گذر جانے كے بعد بچے كي پيدائش ہوتو بچے كي پيدائش تك عدت مكمل ہوگي ۔اس مدت كے دوران يونين كونسل كے لئے ايك ثالث بنانا ضروري ہے تاكہ مياں بيوي ميں صلح كي كوشش كي جاسكے۔ اس طرح بيوي كو راتوں رات قانوني طور پر طلاق دے كر گھر سے باہر نہيں نكلا جاسكتا۔ مبصرین کے مطابق يہي حكومت سرحد كے نئے مجوزہ قانون كا مقصد ہے۔ شركت گاہ کے مطابق، جوكہ اسلام اۤباد ميں قائم ايك عورتوں كے حقوق پر كام كرنے والي ايك جاني پہچاني غير سركاري تنظيم ہے، پاكستان ميں طلاق كے تين قسم كے كيس ہوتے ہيں۔ طلاق بدعت ياطلاق بدعي يا طلاق بائن : اس قسم كي طلاق ميں ايك ہي دفعہ ميں گواہ كي موجودگي يا غير موجودگي ميں تين طلاقيں دي جاتي ہيں ۔حنفي مسلمانوں ميں طلاق كي يہ صورت سب سے زيادہ عام ہے ۔مگر شيعہ مسلمان اسے درست نہيں سمجھتے۔ طلاق حسن: اس صورت ميں تين طلاقيں ايك ايك مہينے كے وقفے كے بعد دي جاتيں ہيں۔ تيسري طلاق سے پہلے صلح ہوسكتي ہے اور طلاق واپس لي جاسكتي ہے ۔طلاق اس وقت موثر ہوتي ہے جب دوماہ بعد شوہر تيسري دفعہ طلاق دے ۔عدت بھي ساتھ ہي ختم ہوجاتي ہے۔ طلاق احسن: شوہر ايك دفعہ طلاق ديتا ہے اور تين ماہ تك بيوي سے ازدواجي تعلقات قائم نہيں كرتا۔اس دوران صلح ہوسكتي ہے اور طلاق واپس لي جاسكتي ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||